بے حس لوگ — خودداری اور انسانی رویّوں کا المیہ - محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔



بے حس لوگ — خودداری اور انسانی رویّوں کا المیہ - 
محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور۔

انسانی تعلقات کی بنیاد صرف محبت پر قائم نہیں ہوتی، بلکہ احترام، احساس، توجہ اور قدردانی بھی اُس کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ جب کسی رشتے میں ایک شخص خلوص، سچائی اور اپنائیت کے ساتھ موجود ہو، مگر دوسرا فرد اُس کی اہمیت محسوس نہ کرے، تو وہاں محبت آہستہ آہستہ اذیت میں بدلنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے جذبات سے زیادہ اپنی خودداری کی حفاظت کرنا سیکھنا پڑتی ہے۔
دنیا میں کچھ لوگ واقعی مصروف ہوتے ہیں، مگر کچھ لوگ محض اپنی اہمیت جتانے کے لیے فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو انتظار میں رکھنا، توجہ نہ دینا، یا مسلسل نظر انداز کرنا اُن کی شخصیت کو بڑا ثابت کرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ جو لوگ دلوں کی قدر کرنا جانتے ہیں، وہ تعلقات کو انا کی بھینٹ نہیں چڑھاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ خلوص بار بار نہیں ملتا، اور سچے لوگ ہمیشہ شور نہیں مچاتے۔
اکثر سچے اور مخلص لوگ اپنی فطرت کے باعث دو ٹوک ہوتے ہیں۔ وہ منافقت، بناوٹ اور مصنوعی رویّوں سے دور رہتے ہیں۔ اُن کے دل میں جو ہوتا ہے، وہی زبان پر آ جاتا ہے۔ یہی سادگی اور سچائی بعض لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے، کیونکہ دنیا نے اب سچ سے زیادہ دکھاوے کو قبول کر لیا ہے۔ لوگ نرم لہجوں میں چھپے ہوئے فریب کو برداشت کر لیتے ہیں، مگر سچے لفظوں کی تلخی اُنہیں چبھنے لگتی ہے۔
ایسے حالات میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی اہمیت منوانے کے لیے مسلسل وضاحتیں دیتا رہے، ہر وقت دستیاب رہے، یا تعلق بچانے کی خاطر خود کو جھکاتا رہے۔ ضرورت سے زیادہ دستیابی رفتہ رفتہ انسان کی قدر کم کر دیتی ہے۔ جو شخص ہر وقت حاضر ہو، اُس کی کمی محسوس نہیں کی جاتی۔ لوگ اُس کی محبت کو حق سمجھ لیتے ہیں، احسان نہیں۔ پھر آہستہ آہستہ اُس کی باتوں، جذبات اور موجودگی کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔
یہ انسانی نفسیات کا تلخ مگر سچا پہلو ہے کہ ہر وقت میسر رہنے والی چیز کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ جب انسان اپنی تمام تر توجہ، وقت اور احساسات دوسروں پر نچھاور کر دیتا ہے، تو اکثر لوگ اُسے کمزور سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ کمزوری نہیں بلکہ خلوص ہوتا ہے۔ مگر ہر شخص خلوص کی زبان سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات خاموشی سب سے باوقار جواب بن جاتی ہے۔ ہر تعلق کو بچانے کے لیے خود کو مٹانا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص آپ کی موجودگی کو مسلسل نظر انداز کرے، آپ کے احساسات کو اہمیت نہ دے، یا آپ کی سچائی سے بے نیاز رہے، تو شکایتوں کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے۔ کیونکہ بار بار اپنی اہمیت جتانا دراصل اپنی عزتِ نفس کو مجروح کرنا ہے۔
خودداری انسان کا سب سے قیمتی زیور ہے۔ محبت کی جا سکتی ہے، قربانیاں دی جا سکتی ہیں، مگر اپنی عزتِ نفس کو گرا کر نہیں۔ بھیک میں صرف خیرات ملتی ہے، عزت نہیں۔ مقام اور مرتبہ کبھی مانگنے سے نہیں ملتے، بلکہ اپنے وقار کو برقرار رکھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
انسان کو یہ سیکھنا چاہیے کہ ہر تعلق میں توازن ضروری ہے۔ محبت ہو مگر اپنی شناخت کھو کر نہیں، خلوص ہو مگر اپنی توقیر قربان کر کے نہیں۔ جو لوگ آپ کی خاموشی میں بھی آپ کی اہمیت محسوس کریں، وہی آپ کے اپنے ہیں۔ اور جو صرف آپ کی مسلسل موجودگی کے عادی ہوں، وہ آپ کے خلوص کے نہیں بلکہ آپ کی دستیابی کے محتاج ہوتے ہیں۔


MD.MUSLIM KABIR,
Latur Distt. Correspondent,
URDU MEDIA 
Email, alkabir786@gmail.com
Cell- 09175978903/8208435414

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔