نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ - 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed 
8904317986

نکاح سے پہلے تعلقات، منگنی کی رسم اور موجودہ معاشرتی المیہ
آج کے دور میں ہمارے معاشرے نے نکاح جیسے مقدس اور بابرکت عمل کو مشکل، جبکہ منگنی جیسی غیر ضروری رسم کو آسان اور لازمی بنا دیا ہے۔
حالانکہ اسلام میں اصل اہمیت نکاح کو حاصل ہے، نہ کہ موجودہ زمانے کی رسموں، نمائشوں اور غیر شرعی طریقوں کو۔
قرآن و حدیث میں آج کے انداز کی “منگنی”، “رِنگ سیرمونی” اور فضول رسم و رواج کی کوئی اصل نہیں ملتی، بلکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب اچھا، دیندار اور مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ تاخیر کے بغیر نکاح کر دیا جائے۔
مگر افسوس!
آج منگنی کو ایک سادہ وعدے کے بجائے ایک بڑی تقریب، فیشن اور سماجی اسٹیٹس بنا دیا گیا ہے۔ لوگ فلموں اور سیریلز کی نقل کرتے ہوئے بڑے بڑے ہال سجاتے ہیں، اسٹیج تیار کیے جاتے ہیں، لائٹنگ، فوٹو شوٹ، موسیقی اور بے پردگی کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور لڑکا لڑکی کو ایک ہی اسٹیج پر کھڑا کرکے “رِنگ سیریمنی” کی جاتی ہے۔
حالانکہ اسلام سادگی، حیا، پردے اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے، نہ کہ غیر ضروری اختلاط اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ایک رسم پر لوگ اتنا خرچ کرتے ہیں گویا نکاح سے بھی زیادہ اہتمام کیا جا رہا ہو۔ کئی خاندان صرف لوگوں کی واہ واہی اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے:
لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں،
قرض لیتے ہیں،
زیورات گروی رکھتے ہیں،
اور اپنی زندگی کی جمع پونجی صرف ایک دن کی نمائش پر لٹا دیتے ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فضول خرچی سے منع فرمایا ہے:
“بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔”
یہی نہیں، منگنی کے فوراً بعد ایک اور خطرناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی منگنی کی رسم ادا ہوتی ہے، اکثر لڑکا اپنی منگیتر کو موبائل فون تحفے میں دیتا ہے، اور پھر دن رات فون، چیٹنگ، ویڈیو کال اور آزادانہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
ابتدا میں یہ تعلق محبت اور جذبات کے نام پر خوشگوار محسوس ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ یہی تعلق:
بدگمانی،
غلط فہمی،
شک،
حسد،
بے اعتمادی،
اور لڑائی جھگڑوں میں بدل جاتا ہے۔
کیونکہ ابھی نکاح نہیں ہوا ہوتا، اس لیے اس تعلق کی کوئی مضبوط شرعی بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں، منگنی ختم ہو جاتی ہے، اور دونوں خاندان ذہنی اذیت، پریشانی اور بدنامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آج کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو نکاح سے پہلے ہی جذباتی تعلقات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ جب منگنی ٹوٹتی ہے تو ان کی زندگی گویا بکھر کر رہ جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ نکاح ہوا تھا اور نہ ہی شرعی اعتبار سے طلاق، مگر جذباتی نقصان، ذہنی دباؤ اور دلوں کی ٹوٹ پھوٹ ایسی ہوتی ہے جیسے ایک طلاق یافتہ زندگی کا غم ہو۔
اسلام نے نامحرم مرد و عورت کے درمیان حدود اسی لیے مقرر کی ہیں تاکہ:
دل گناہوں سے محفوظ رہیں،
عزت و حیا برقرار رہے،
رشتے پاکیزگی کے ساتھ قائم ہوں،
اور معاشرہ بے راہ روی سے محفوظ رہے۔
آج بہت سے نوجوان منگنی کو ہی آدھا نکاح سمجھ لیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
منگنی صرف رشتہ طے کرنے کا وعدہ ہے، نکاح نہیں۔
اسی غلط فہمی کی وجہ سے:
ناجائز تعلقات بڑھ رہے ہیں،
اعتماد ختم ہو رہا ہے،
رشتے کمزور ہو رہے ہیں،
اور نکاح سے پہلے ہی دلوں میں “طلاق” جیسی دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے شریعت کی سادگی کو چھوڑ دیا اور فلمی و مغربی رسموں کو اپنا لیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
والدین اسلامی حدود کو سمجھیں،
منگنی کو فضول رسم و رواج سے بچائیں،
نکاح کو آسان بنائیں،
غیر ضروری میل جول سے حفاظت کریں،
نکاح میں بلاوجہ تاخیر نہ کریں،
اور نوجوانوں کو حیا، تقویٰ اور ذمہ داری کا شعور دیں۔
یاد رکھئے!
برکت رسموں، نمائش اور فضول خرچی میں نہیں، بلکہ سادگی، حیا اور شریعت کی پابندی میں ہے۔
اگر مسلمان نکاح کو آسان اور منگنی کو سادہ بنا لیں تو:
بے شمار خاندان قرضوں سے بچ سکتے ہیں،
نوجوان گناہوں اور جذباتی تباہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں،
اور معاشرہ پاکیزگی، سکون اور برکت کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔