نظم برائے نرس - (نرسوں کے عالمی دن کے موقع پر)۔ از قلم - پروفیسرمحمدمسعوداحمد، حیدرآباد۔
نظم برائے نرس - (نرسوں کے عالمی دن کے موقع پر)
از قلم - پروفیسرمحمدمسعوداحمد، حیدرآباد۔
دکھیوں کی جو خدمت کرتی ہے ایثار کی مورت ہوتی ہے
اس طرح کی خدمت کرنے کی بس نرس میں ہمت ہوتی ہے
بیدار وہ شب بھر رہتی ہے بیمار کی راحت کی خاطر
ہر وقت دوائیں دیتی ہے بیمار کی صحت کی خاطر
ماں بن کے کبھی وہ ہستی ہے بہنوں سی محبت رکھتی ہے
رتبہ ہے بڑا اس ہستی کا یہ ماں کی سی الفت رکھتی ہے
جب ٹوٹنے لگتی ہے ہمت وہ حوصلہ بن کے آتی ہے
مایوس مریضوں کی دل میں جینے کی تمنا لاتی ہے
اخلاق سے اپنا کرتی ہے وہ درد بھرے ہر اک دل کو
خدمت سے بدل دیتی ہے وہ تقدیر کی ہر اک مشکل کو
ہر حال میں ہنستی رہتی ہے مل کر وہ مریضوں سے سارے
خوشیاں وہ لٹاتی رہتی ہے لے کر وہ غموں کو لوگوں کے
دولت میں کبھی نہ تو لو تم اس نرس کی سچی خدمت کو
دولت کے برابر رکھو مت اس نرس کی سچی محنت کو
ہر درد کا درماں بنتی ہے اخلاق کے میٹھے لہجے سے
سنسار کی خدمت کرتی ہے وہ نیک عمل کے جذبے سے
مسعود شرافت زندہ ہے اس نرس کی صورت میں ساری
کردار کی خوشبو بن کر ہی ہر دل میں رہے گی یہ جاری
Comments
Post a Comment