یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری ، جامعہ اسلامیہ اکل کواں
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری ، جامعہ اسلامیہ اکل کواں
خداوند کریم نے اپنے دستور اور اپنی ترتیب تزین کے مطابق دنیا میں مختلف المزاج مختلف الخیال اور جداگانہ فطرت بلکہ بھانت بھانت کی سوچ رکھنے والے لوگ پیدا کیے اور پوری انسانی کائنات میں سب سے زیادہ پاک فطرت نیک سیرت خلق عظیم کے مالک حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ذوات بابرکات کو بھی پیدا فرمایا یہ بات ذہن نشین رہنا چاہیے کہ باری عز اسمہ نے اپنی کتاب لم یزل قران کریم میں انبیاء صادقین کاملین کا ذکر حجت اور دلیل کے طور پر کیا ہے یعنی دنیا کے حالات چاہے جیسے بھی ہو وہ مردان نیک اپنے فرائض اور اس کی ادائیگی میں کبھی غفلت لاپرواہی اور سست روی سے کام نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے ہر وقت ہر طرح مستعد اور بیدار رہتے ہیں نہ ان کو خوف جان ہوتا ہے نہ خوف مال نہ وہ اعزاء و اقرباء اور ان کی ہرزہ سرائی سے ڈرتے ہیں نہ ہی اس کے شاکی ہوتے ہیں نہ نصیب صبح کے جھونکے ان کو غافل کرتے ہیں نہ ہی شامل غمگین سے وہ متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس باب میں وہ فرد فرید ہوتے ہیں اقبال کے اس شعر کے مصداق کہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کے خزاں لا الہ الا اللہ
انہی پاک باز نیک نہاد فعال اور متحرک شخصیتوں میں ایک شخصیت عظیمہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ہے جنہوں نے اپنے عہد کے تمام ذی اثر مالدار تمام حکومت کے اہل کاروں بلکہ خود شاہ وقت کے سامنے اعلائے کلمۃ اللہ اور دین حق کا ایسا اظہار کیا توحید اخرت کو اس طرح پیش کیا کہ صنم کدوں میں بت منہ کے بل گر گئے انہوں نے صنم کدوں میں جا کر اذان حق کا حق ادا کر دیا اور توحید کی ایسی مشعل روشن کی جو اج بھی خم خانہ توحید سے سیراب ہونے والوں کے لیے ایک جادہ حق صراط مستقیم پیش کر رہی ہے کفر و شرک کی تاریکی میں بھٹکنے والوں کے لیے وہ نشان منزل اور رہبری کا کام انجام دے رہی ہے
کتاب عزیز قران مجید میں جن العزم پیغمبروں کا ذکر خیر ہیں ان میں سیدنا موسی علیہ السلام کے بعد سب سے زیادہ ذکر خیر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا ملتا ہے اپ کا عہد اور عہد شباب اور کہولت و پیرانہ سالی اسی کے ساتھ ساتھ اپ کے دعوت و ارشاد کی حقیقت اور پھر اس ضمن میں اپ کی آزمائش ایک نہیں دو نہیں بلکہ ازمائشیں ہی ازمائشیں ہیں ان سب کے چلتے ہوئے سب سے اہم کردار طاغوت کے سامنے حق کی وضاحت باطل کے علی الرغم صداقت کا اظہار اسی کے ساتھ ساتھ اپ کے خانوادے کی اول العزمیاں ان کی قربانیاں مصائب پر ان کا صبر و استقلال حوصلہ و ہمت صبر و شکیبائی سے پیش امدہ مصائب کو انگیز کر کے بعد والوں کے لیے ایک ایسا اسوہ حسنہ اور ایسے پاکیزہ نقوش پیش کیے جو رہتی دنیا تک رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی حیات مبارکہ اور اس کے پاکیزہ نقوش خداوند کریم نے قران مجید میں جا بجا بیان فرما کر ان کو جو رونق اور تازگی بخشی ہے وہ بیان و تحریر سے قاصر ہیں اذہان و اقلام اس کا احاطہ نہیں کر سکتے سیرت ابراہیم میں سب سے زیادہ جو روشن پہلو ہمیں نظر اتا ہے وہ اپ کی دعوت و عزیمت ہے نیز اپ کا باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا اور دلائل واضحہ کے ذریعے ان کی غلط روشوں اور شیطانی وساوس اور نقوش کو تشت اسباب کرنا اہل ایمان کو یہ ترغیب دلاتا ہے کہ اسوہ ابراہیمی اختیار کر کے وقت کے نااہل و نابکارو جاہلوں کفر و شرک کی غلاظت میں پڑے ڈوبے ان بد کردار لوگوں کے سامنے توحید کی شراب طہور پیش کرنا ہی ایمان کی حقیقت کو اور اس کی لذت و چاشنی کو دوبالا کرتا ہے حالات سے نبرد ازما ہو کر راہ راست اور حدود اللہ پر قائم رہنا یہی مومن کی شان اعلی کا اظہار ہے قوم ابراہیم کا تفاسیر اور احادیث میں جو ذکر ملتا ہے ان میں سب سے بڑی خرابی اور برائی جو ظاہر کی گئی ہے وہ انکی بت پرستانہ ذہنیت اور مشرکانہ مزاج ہے توحید کے خم خانے سے بغاوت گواہ کی پرستی اور اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہوئے معبودان باطل کے اگے ڈنڈوٹ کرنا ماتھا ٹیکنا انہی سے اپنی زندگی کے تمام مراحل کو وابستہ سمجھنا رب تسلیم کرنا اور انہی کے اگے سر تسلیم خم کرنا اس قباحت پر نہ صرف وہ راضی تھے بلکہ اس کی تشہیر پر بھی مصر تھے اور ڈھٹائی دیکھیے کہ فخریہ اعلان سے کہتے تھے ،""قالوا نعبد اصناما فنظل لها عاكفين"کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور اسی پر جمے رہیں گے
شرک کے اس تاریک زدہ ماحول میں جہاں ہر ان ہر لمحہ بتوں کو پوجا جاتا ان کی خرید و فروخت ہوتی انہیں پتھروں کی بے جان مورتیوں کو اپنی تمام امیدوں کا مرکز گردانا جاتا تھا کوا کی پرستی کی ظلمتیں چار سو عام تھیں پھر رحمت الہی کو جوش ایا اس نے اپنے بندوں کو شرک کی قباحت سے اشنا کرنے شیطان کے مکہ عید اور اس کی حیلہ تراشیوں سے محفوظ رکھنے تاریکی اور اندھیری سے باہر نکالنے کے لیے ایک بت گر گھرانے میں موحد اعظم توحید کے علمبردار سیدنا ابراہیم کو مبعوث فرمایا اپ نے انکھ کھولی ہوش سنبھالا تو گاؤ بستی شہر قریہ سب کو شرک میں اٹا پایا ایسے حالات میں دعوت و ارشاد اور وحدانیت کا اعلان جان جو کھو ں کا کام تھا سچ ہےاگر داعی حق کو اپنی دعوت کی حقانیت پر کامل یقین نہ ہو اور وہ اپنے خالق و مالک کے کارخانہ قدرت کا عینی مشاہدہ نہ کر چکا ہو تو اتنے بڑے اقدام کا خطرہ مول نہیں لے سکتا خود اللہ کریم کی سنت بھی یہی رہی ہے کہ جب وہ اپنے کسی بندے کو مقام نبوت پر سرفراز فرماتا ہے اس کو کسی بڑی مہم پر روانہ کرتا ہے تو اپنے اس نبی کو علم یقین عطا فرماتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو مہم درپیش تھی وہ نہایت ہی عظیم الشان تھی انہیں اپنی پوری قوم سے لڑنا تھا دنیا کے عظیم بت خانے میں اذان حق دینا تھی اقتدار وقت نمرود سے پنجہ ازمائی کرنا تھی اگر اس نازک موقع پر انہیں عین الیقین حاصل نہ ہوتا تو ان ازمائشوں میں کیسے ثابت قدم رہاجاسکتاتھا چنانچہ اسی علم الیقین اور عین الیقین کو حاصل کرنے کے لیے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے التجا کی تھی. واذ قال ابراهيم رب ارني كيف تحيي الموتى. اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ تو رب نے فرمایا "قال اولم تؤمن" رب نے کہا کیا تو ایمان نہیں رکھتا ؟ قال بلی ولكن ليطمئن قلبي۔ ابراہیم نے کہا کیوں نہیں؟لیکن میں اپنے دل کا اطمینان چاہتا ہوں کیسا پیا را انداز ہے گزارش کا یہ نہیں کہا کہ مجھے شک ہے یا اس پر ایمان نہیں رکھتا یا میں جب مانوں گا جب اپنی انکھوں سے دیکھ لوں نہیں بلکہ عرض کیا کہ اس مشن پر چلنے اور دوسروں کو بلانے کے لیے دل کو جس اطمینان کی ضرورت ہوتی ہے وہ درکار ہے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا ہر لمحہ خداوند عالم کی قدرت اور اس کی طاقت کا بندوں کے سامنے اظہار ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک مسلمان ایک داعی کو دعوت حق پیش کرنے کے لیے ان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو سامنے رکھ کر دعوت حق و صداقت پیش کرنا چاہیے اقبال کہتے ہیں
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
Comments
Post a Comment