مہاراشٹر سے بنگال تک ایک سبق - سید فاروق احمد قادری۔


مہاراشٹر سے بنگال تک ایک سبق -  سید فاروق احمد قادری۔

ہندوستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اقتدار، آئین اور عوامی مینڈیٹ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ممتا بنرجی کا یہ فیصلہ کہ وہ استعفیٰ دینے کے بجائے سیاسی اور آئینی لڑائی لڑیں گی، دراصل ایک سوچا سمجھا قدم ہے جو سیدھا مہاراشٹر کے تجربے سے جڑتا ہے۔
مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے نے اکثریت کے امتحان سے پہلے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ اگر استعفیٰ نہ دیا جاتا تو شاید حالات کو بدلا جا سکتا تھا۔ جسٹس ڈی۔ وائی۔ چندرچوڑ کی سربراہی میں دیے گئے اس اشارے نے یہ سبق دیا کہ سیاست میں بعض فیصلے عدالت کے دروازے بند بھی کر دیتے ہیں۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں بنگال کی سیاست مختلف راستہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر ممتا بنرجی استعفیٰ نہیں دیتیں تو وہ نہ صرف سیاسی میدان میں موجود رہتی ہیں بلکہ عدالت میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط رکھتی ہیں۔ یہ حکمت عملی انہیں اکثریت کے امتحان، آئینی بحث اور عوامی حمایت—تینوں محاذوں پر لڑنے کا موقع دیتی ہے۔
عدالت کا کردار اپنی جگہ اہم ضرور ہے، مگر سپریم کورٹ اف انڈیاصرف یہ دیکھتی ہے کہ آئینی طریقہ کار پر صحیح عمل ہوا یا نہیں۔ وہ نہ حکومت بناتی ہے اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ کا متبادل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے جب کوئی رہنما خود استعفیٰ دیتا ہے تو وہ اپنی قانونی پوزیشن کو کمزور کر دیتا ہے۔
اصل فیصلہ کن طاقت آخرکار انتخابات ہی ہوتے ہیں۔ اگر سیاسی بحران بڑھتا ہے یا اکثریت پر سوال اٹھتا ہے تو یا تو اسمبلی میں اکثریت ثابت کی جاتی ہے، یا پھر حالات نئے انتخابات کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام ہی اصل منصف بن جاتے ہیں اور ووٹ ہی آخری ممتا بنرجی کی موجودہ حکمت عملی یہی اشارہ دیتی ہے کہ وہ میدان چھوڑنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس میں نہ صرف عدالت کا دروازہ کھلا رہتا ہے بلکہ اگر حالات انتخابات تک پہنچتے ہیں تو ہمدردی کی ایک نئی لہر بھی پیدا ہو سکتی ہے انڈیا الائنس جیسے اتحاد اس دباؤ کو بڑھا سکتے ہیں، مگر حتمی فیصلہ پھر بھی عوام کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے۔
مہاراشٹر سے بنگال تک کا یہ پورا منظرنامہ ہمیں ایک واضح سبق دیتا ہے کہ سیاست میں جلد بازی کا فیصلہ بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا کئی راستے کھلے رکھتا ہے۔ اقتدار عدالت سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے واپس آتا ہے، اور جب معاملہ انتخابات تک پہنچتا ہے تو اصل فیصلہ صرف اور صرف ووٹر ہی کرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔