خالی آنگن (کالم)۔ ازقلم: رہبر تماپوری۔


 خالی آنگن (کالم)
ازقلم: رہبر تماپوری۔



وقت کی رفتار کتنی عجیب اور بے رحم ہے؛ یہ اتنی خاموشی اور رازداری سے گزرتی ہے کہ بظاہر ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، مگر اپنے پیچھے تبدیلیوں کا ایسا بھیانک طوفان چھوڑ جاتی ہے جو انسانی روح کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ کل اور آج کے درمیان پھیلا ہوا فاصلہ جب یادوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، تو انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ آج صبح جب میں اپنے ماضی کے دریچوں کو کھول کر یادوں کے ایک طویل سفر پر نکلا، تو ایک پل کے لیے میرے بچپن کا وہ خوبصورت اور سحر انگیز آنگن میری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو کر ابھر آیا، جو کبھی زندگی کی بھرپور رونق، گہما گہمی اور چہل پہل کا اصل مرکز تھا۔ یہ آنگن محض اینٹ، مٹی اور گارے سے بنا ہوا کوئی بے جان ڈھانچہ یا مکان نہیں تھا، بلکہ یہ ہماری سانسوں، ہماری معصوم مسکراہٹوں، ہماری بچگانہ ضدوں اور ان گنت پاکیزہ یادوں کا ایک زندہ اور دھڑکتا ہوا حصہ تھا، جو اب وقت کی بے رحم دھول میں کہیں گم ہو چکا ہے اور ایک گہری خاموشی کی چادر اوڑھے سو رہا ہے۔

کئی برسوں کے طویل عرصے بعد جب میں نے ماضی کی اس مانوس دہلیز پر دوبارہ قدم رکھا اور اس کے پرانے، زنگ آلود لوہے کے بھاری دروازے کو آہستہ سے آگے دھکیلا، تو ایک دردناک چرچراہٹ کے ساتھ سامنے ایک بے آواز, سنسان اور ویران آنگن پھیلا ہوا دکھائی دیا۔ اس ہو کے عالم اور ہویدا تنہائی نے میرے دل پر ایک ایسی گہری دستک دی جس نے مجھے موجودہ مادی دور کے ایک بہت بڑے معاشرتی المیے پر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ صرف ایک مکان کا خالی صحن نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے زوال پذیر خاندانی نظام، دم توڑتی ہوئی مشرقی قدروں، اپنوں کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی بے رخی اور رشتوں کے درمیان پیدا ہونے والی طویل دوریوں کا ایک ایسا المیہ نوحہ ہے، جو آج ہمارے معاشرے کے ہر دوسرے گھر کی سچی اور دردناک کہانی بن چکا ہے۔ ہم نے ترقی تو کر لی، مگر اس کی جو قیمت چکائی ہے، وہ انتہائی ہولناک ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو یہ کچا آنگن کبھی سنسان نہیں رہتا تھا۔ یہاں زندگی ہر پل مسکراتی، گنگناتی اور اپنی پوری رعنائی کے ساتھ دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ صبح سویرے دادی اماں کی تسبیح کے دانوں کی ہلکی سی آواز، کچے صحن میں چڑیوں اور کبوتروں کے لیے ڈالے جانے والے دانے اور ان کی چہچہاہٹ، تپتی ہوئی دوپہروں میں نیم کے گھنے درخت کے نیچے بچھی چارپائیاں، اور شام ڈھلتے ہی سب بہن بھائیوں کا ایک جگہ اکٹھے بیٹھ کر گرم چائے کی پیالیاں پینا—یہ وہ سحر انگیز اور دلکش منظر تھے جو دن بھر کی تھکن سے چور وجود اور اداس دل کو سچا سکون فراہم کرتے تھے۔ اس دور میں مادی وسائل بے شک کم تھے، دنیاوی آسائشیں برائے نام تھیں، مگر دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت، ہمدردی، اخلاص اور قربانی کا سمندر موجزن تھا۔ سادگی میں بھی ایک ایسی برکت اور مٹھاس تھی جو تمام رشتوں کو آپس میں فولاد کی طرح مضبوطی سے جوڑے رکھتی تھی اور کسی کو تنہائی کا احساس تک نہ ہونے دیتی تھی۔

آج ہم نے بظاہر جدیدیت اور ترقی کی کئی بلند منازل طے کر لی ہیں۔ ہم نے ان کچے آنگنوں اور مٹی کی دیواروں کو پسماندگی کی نشانی سمجھ کر خیرباد کہہ دیا، اور ان کی جگہ سنگِ مرمر سے چمکتے ہوئے پرتعیش ڈرائنگ روم اور بلند و بالا عمارتوں میں عالیشان اور بند فلیٹس خرید لیے ہیں۔ لیکن اس نام نہاد مادی ترقی کی قیمت ہم نے اپنے خلوص، سچی محبت، باہمی میل جول اور پاکیزہ خاندانی جذبوں کی قربانی دے کر چکائی ہے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا اور بھیانک المیہ یہ ہے کہ انسان نے اپنے مکانوں کے حجم اور کمروں کی تعداد تو بہت بڑی کر لی، مگر اپنے دلوں کے ظرف اور اخلاق بہت چھوٹے کر دیے۔ ہمارے خاندانی آنگن اس لیے ویران اور خالی ہو گئے کیونکہ ہم نے اپنے خوبصورت مشترکہ خاندانی نظام کو ایک بوجھ اور اپنی آزادی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھ کر یکسر چھوڑ دیا۔ آج ہر شخص انا پرستی، خود غرضی اور اپنی ذات کے ایک چھوٹے سے خول میں اس طرح مقید ہو چکا ہے کہ نفسا نفسی کے اس تیز رفتار مشینی عالم میں کسی کے پاس اپنے سگے پیاروں کا احوال پوچھنے تک کا وقت نہیں رہا۔

ہمارے مشرقی معاشرے کی مضبوط بنیاد جس خلوص، ایثار، رواداری اور رشتوں کے بے لوث احترام پر قائم تھی، وہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ اس خالی آنگن کی ویرانی اور اداسی میں تنہا کھڑے ہو کر مجھے سب سے زیادہ اپنی ان پیاری بہنوں کی یاد آئی، جن کی معصوم ہنسی، شوخیوں، قہقہوں اور بے لوث محبت نے کبھی اس آنگن کو ایک سدا بہار گلستان بنا رکھا تھا۔ بہنیں تو گھر کی اصل رونق، آنگن کی چڑیاں اور رب العزت کی رحمت کا روپ ہوتی ہیں۔ وقت کے بے رحم دھارے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے شادیاں کر کے زندگی کی مختلف دور دراز راہوں میں بکھر گئیں، اور ان کی رخصتی کے ساتھ ہی اس آنگن کی آدھی سے زیادہ رونق، چہل پہل اور برکت بھی رخصت ہو گئی۔ ان کی جدائی نے اس صحن کو ایک ایسے دائمی خالی پن اور گہرے سکوت میں ڈبو دیا جس کا کوئی بدل ممکن ہی نہیں۔ وہ معصومانہ نوک جھونک، وہ عید کے تہواروں پر سب کا جمع ہونا، وہ ایک دوسرے کا بے حد خیال رکھنا جو کبھی اس آنگن کی فضاؤں میں گونجتا تھا، آج محض ماضی کے تلخ و شیریں نقوش بن کر رہ گیا ہے، اور ان کی یہ دوری ہمیں وقت کی بے ثباتی اور رشتوں کی اصل اہمیت کا شدید احساس دلاتی ہے۔

مگر یہ خالی آنگن محض ایک افسردہ یادگار یا ماضی کا کوئی مرجھایا ہوا پھول نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر ایک مثبت فکری سوچ اور تعمیری پیغام کا بہت بڑا داعی بھی ہے۔ یہ ویران صحن اور خاموش دیواریں آج ہمیں اپنی بے زبان مگر اثر انگیز زبان میں پکار رہی ہیں کہ ہم لوٹ آئیں اپنی جڑوں کی طرف، اپنے اسلاف کی شاندار روایات کی طرف، اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کی اس سچی اور بے لوث محبت کی طرف جو دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ خاندانی دوریاں، دلوں کی سردی اور اپنوں سے کٹ کر حاصل کی جانے والی مادی آسائشیں انسان کو کبھی بھی حقیقی ذہنی سکون اور دلی اطمینان فراہم نہیں کر سکتیں۔ اگر ہمیں اس مادی اور مشینی معاشرے کے بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، شدید ڈپریشن اور جان لیوا تنہائی سے خود کو اور اپنی نسلوں کو نجات دلانی ہے، تو ہمیں اپنے خاندانی نظام کو دوبارہ اسی پرانے خلوص، محبت اور اتحاد کے ساتھ زندہ کرنا ہوگا جو ہماری پہچان تھا۔

آئیے، ہم سب مل کر آج اس تاریخی موڑ پر یہ پختہ عہد کریں کہ ہم اپنے ان خالی ہوتے ہوئے گھروں اور دلوں کے آنگنوں کو پھر سے محبت، رواداری، درگزر اور اپنوں کے خوبصورت قہقہوں سے آباد کریں گے۔ ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں دوبارہ بہنوں کی آمد پر خوشیوں کے چراغ جلیں، جہاں بھائی بھائی کا سچا بازو اور طاقت بنے، اور جہاں رشتوں کی مشترکہ طاقت ہمیں ایک بار پھر ایک مقدس لڑی میں پرو سکے۔ انسانی زندگی بہت مختصر، عارضی اور ناپائیدار ہے۔ اس سے پہلے کہ وقت کی ریت ہمارے ہاتھوں سے مکمل طور پر پھسل جائے، اور ہمارے حصے میں بھی صرف اس خالی آنگن کی پچھتاوے سے بھری حسرت اور تنہائی رہ جائے، ہمیں بیدار ہونا ہوگا اور اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر اپنے پیاروں، خصوصاً اپنی بہنوں اور بزرگوں کو سچی خوشیاں اور اپنا قیمتی وقت دینا ہوگا، ان کے دکھ سکھ کا حقیقی سانجھی بننا ہوگا، اور رشتوں کی اس خوبصورت اور مقدس مالا کو بکھرنے سے بچانا گا۔ جب ہمارے دلوں کے آنگن ایک دوسرے کے لیے محبت اور خلوص سے بھر جائیں گے، تو اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کے یہ بے جان مکان بھی زمین پر امن، سکون اور جنت کا نظیر گہوارہ بن جائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔