عظیم نعمت ہے دل کا دنیا میں نہ لگنا - شبنم بنت محمد فاروق خان، ممبئی۔


عظیم نعمت ہے دل کا دنیا میں نہ لگنا - 
شبنم بنت محمد فاروق خان، ممبئی۔ 

بے نیازی یقیناً عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو دل کو مخلوق کی محتاجی سے نکال کر خالق سے جوڑ دیتی ہے۔ ایمان کے بعد اگر کوئی نعمت ہے جسے بار بار مانگنا چاہیے تو وہ بے نیازی ہے اس دنیا سے بے نیازی، دولت و آسائش سے بے نیازی، شہرت و نمود سے بے نیازی۔
ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔
"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً"
(جو نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے)
 قرآن مجید (سورۃ النحل 16:97)
یہ "حیاتِ طیبہ" دراصل اسی دل کی کیفیت کا نام ہے جو دنیا کی ظاہری چمک سے بے نیاز ہو کر ﷲ کی رضا میں سکون تلاش کرتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا ۔۔۔
"لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"
(مال کی کثرت اصل غنا نہیں، بلکہ اصل غنا دل کا غنی ہونا ہے)
 ﴾صحیح بخاری﴿
جب بے نیازی دل میں گھر کر لیتی ہے تو اپنے ساتھ پرہیزگاری بھی لاتی ہے، اور پرہیزگاری ہی تقویٰ کی بنیاد ہے۔ ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔۔
"وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ"
(اور جو اللہ سے ڈرے، ﷲ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو)
 قرآن مجید (سورۃ الطلاق 65:2-3)
دل کا دنیا اور اس کی چمک دمک سے آزاد ہو جانا تقویٰ کے لیے راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ جہاں تقویٰ اپنی جڑیں مضبوط کر لے، وہاں سکون آ کر رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ۔۔۔
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
(خبردار! ﷲ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے)
 قرآن مجید (سورۃ الرعد 13:28)
لہٰذا اپنے دل کو ہر اُس چیز سے بے نیاز کر لیجیے جو تقویٰ کو متزلزل کرتی ہو کیونکہ اصل سکون دنیا کو حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس سے دل کے آزاد ہو جانے میں ہے۔ بے نیازی دراصل دل کی آزادی ہے اور یہی آزادی انسان کو ﷲ کی قربت، سکونِ قلب اور حقیقی کامیابی تک پہنچا دیتی ہے۔

لیکن اگر یہی دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہو جائے ٬اس کی چمک دمک، مال و منصب اور شہرت کو ہی اپنا مقصود بنا لے تو یہی محبت تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ دنیا کی محبت دل کو سخت کر دیتی ہے آخرت سے غافل کر دیتی ہے اور انسان کو خسارے کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔
ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں
"اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ..."
(جان لو کہ دنیا کی زندگی تو کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر اور مال و اولاد میں بڑھ چڑھ کر حاصل کرنے کا نام ہے...)
 قرآن مجید (سورۃ الحدید 57:20)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
"بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ"
(لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے)
 قرآن مجید (سورۃ الاعلیٰ 87:16-17)
پس دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں۔ کیونکہ جب دنیا دل میں گھر کر
لیتی ہے تو بے سکونی، حرص اور حسرت پیدا کرتی ہے ۔۔ اور جب دل ﷲ سے جڑ جاتا ہے تو قناعت، تقویٰ اور اطمینان عطا ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔