رشتوں میں احساس کم مطلب زیادہ۔۔۔۔ ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر لاتور۔


رشتوں میں احساس کم مطلب زیادہ۔۔۔
ازقلم : محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر لاتور۔

انسانی زندگی رشتوں کے سہارے قائم ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اُسے محبت، اپنائیت، خلوص اور احساس کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ رشتے صرف خون کے تعلقات کا نام نہیں ہوتے بلکہ یہ دلوں کی قربت، اعتماد، احترام اور احساس کے حسین بندھن سے جڑے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں رشتوں کی حقیقت بدلتی جا رہی ہے۔ اب اکثر رشتے احساس، محبت اور وفاداری سے نہیں بلکہ مطلب، ضرورت اور فائدے سے جڑے نظر آتے ہیں۔
پہلے زمانے میں لوگ رشتوں کو عبادت سمجھ کر نبھاتے تھے۔ دکھ ہو یا سکھ، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت اور دوستوں سے وفاداری زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ مگر آج مادّی ترقی، خود غرضی اور دنیا پرستی نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اب تعلقات میں خلوص کم اور مفاد زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ جب تک کسی سے فائدہ حاصل ہوتا رہے تب تک تعلق قائم رہتا ہے، اور جیسے ہی مطلب ختم ہوتا ہے، ویسے ہی رویّے بھی بدل جاتے ہیں۔
آج بہت سے لوگ صرف اُنہی رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں جہاں سے انہیں دولت، شہرت، سہارا یا ذاتی فائدہ ملنے کی امید ہو۔ اگر کوئی شخص کمزور، غریب یا بے سہارا ہو جائے تو اکثر لوگ اُس سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی محسوس کرتا ہے۔ دلوں میں قربت کم اور فاصلے زیادہ ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مصنوعی زندگی نے بھی رشتوں کی حقیقت کو بہت متاثر کیا ہے۔ لوگ اب حقیقی محبت اور وقت دینے کے بجائے صرف دکھاوے اور رسمی تعلقات تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ زبان پر خلوص کے دعوے ہوتے ہیں مگر دلوں میں مطلب چھپا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، ناراضگیاں بڑھ جاتی ہیں اور اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام نے رشتوں کی بنیاد احساس، محبت، صبر اور اخلاص پر رکھی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ ایک مومن وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے، اُن کے دکھ کو سمجھے اور بغیر کسی مطلب کے محبت کرے۔ کیونکہ بے غرض تعلقات ہی انسان کو حقیقی سکون دیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم رشتے نبھا رہے ہیں یا صرف ضرورت پوری کر رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات مضبوط رہیں تو ہمیں دوسروں کے جذبات کو سمجھنا ہوگا، وقت دینا ہوگا، احترام کرنا ہوگا اور خلوص کو زندہ رکھنا ہوگا۔ کیونکہ مطلب پر قائم رشتے وقتی ہوتے ہیں، جبکہ احساس سے جڑے تعلقات زندگی بھر دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت مخلص رشتے ہیں۔ اگر تعلقات میں احساس، وفاداری اور محبت باقی رہے تو زندگی خوبصورت بن جاتی ہے، لیکن جب رشتے صرف مطلب کے تابع ہو جائیں تو انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔