سیکولر سیاست، ووٹوں کی تقسیم اور اپوزیشن کے لیے لمحۂ فکریہ - پانچ ریاستوں کے نتائج نے کیا پیغام دیا؟ - تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی ( اسسٹنٹ پروفیسر، اورنگ آباد)


سیکولر سیاست، ووٹوں کی تقسیم اور اپوزیشن کے لیے لمحۂ فکریہ - 
پانچ ریاستوں کے نتائج نے کیا پیغام دیا؟ - 
تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی ( اسسٹنٹ پروفیسر، اورنگ آباد) 

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ملک کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ نتائج صرف جیت اور ہار کی کہانی نہیں بلکہ ہندوستان کی سیکولر سیاست، اپوزیشن کی حکمتِ عملی اور مستقبل کی سیاسی سمت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ خاص طور پر کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں سے یہ سوال پوچھنا اب ناگزیر ہوگیا ہے کہ آخر وہ مسلسل ایسی غلطیاں کیوں دہرا رہی ہیں جن کا فائدہ براہِ راست بی جے پی کو پہنچتا ہے؟
آسام کے نتائج اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر مسلم ووٹر کانگریس کے ساتھ نہ ہوتے تو شاید اسے ایک بھی نشست نصیب نہ ہوتی۔ تقریباً انیس نشستوں پر کامیابی میں مسلم ووٹوں کا فیصلہ کن کردار رہا، لیکن اس کے باوجود کانگریس اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں وہ سنجیدگی پیدا نہ کرسکی جو وقت کا تقاضا ہے۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں کانگریس کا ووٹ فیصد انتہائی محدود رہا، جبکہ ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی نے اپوزیشن کی مجموعی طاقت کو کمزور کیا۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل دہرائی جانے والی سیاسی غلطی ہے کہ سیکولر ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں اور فائدہ بی جے پی کو پہنچ جاتا ہے۔ کئی حلقوں میں اگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوتیں تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ذاتی انا، قیادت کی کشمکش، علاقائی برتری کی جنگ اور سیاسی ہٹ دھرمی نے اجتماعی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔
سیاست میں صرف نعروں اور جذبات سے کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ زمینی حقیقت کو سمجھنا، حالات کے مطابق حکمتِ عملی تیار کرنا اور بعض اوقات اپنی سیاسی ضد سے پیچھے ہٹ جانا ہی کامیاب سیاستدان کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر ہر جماعت صرف اپنی بقا، اپنی قیادت اور اپنی انانیت کے خول میں بند رہے گی تو پھر شکست مقدر بن جائے گی۔
یہ حقیقت اب سیکولر جماعتوں کو کھلے دل سے تسلیم کرلینی چاہیے کہ ہندوستان کی موجودہ سیاست “اتحاد کی سیاست” بن چکی ہے۔ تنہا لڑنے والی جماعتیں وقتی شور تو پیدا کرسکتی ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی آج بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کے مخالفین متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض جماعتیں جانتے بوجھتے ہوئے “ووٹ کٹوا” کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ کچھ نادانستہ طور پر اسی کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں۔ نتیجہ ہر صورت میں ایک ہی نکلتا ہے کہ سیکولر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں، اپوزیشن کمزور ہوتی ہے اور اقتدار مزید مضبوط ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ ایسے عناصر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی شہرت، چند ہزار ووٹ یا محدود سیاسی فائدہ مستقبل میں ان کے اپنے وجود کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
آج اگر اپوزیشن جماعتیں اپنی روش نہ بدلیں تو مستقبل میں صرف نشستیں ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی شناخت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سیاست میں خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ جو جماعتیں وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھتیں، عوام آہستہ آہستہ انہیں نظر انداز کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی پرانی جماعتیں آج اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
سیکولر جماعتوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف جذباتی تقریروں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ نوجوان روزگار چاہتے ہیں، کسان معاشی تحفظ چاہتے ہیں، متوسط طبقہ مہنگائی سے نجات چاہتا ہے، اور اقلیتیں آئینی تحفظ اور مساوی انصاف کی امید رکھتی ہیں۔ اگر اپوزیشن ان حقیقی مسائل پر متحد ہوکر عوام کے سامنے مضبوط متبادل پیش نہیں کرے گی تو محض حکومت مخالف بیانات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن کی سب سے بڑی کمزوری “بکھرا ہوا ووٹ” ہے۔ جب ایک ہی نظریاتی خیمے کی کئی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اترتی ہیں تو اصل فائدہ مخالف قوت کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقوں میں مجموعی سیکولر ووٹ زیادہ ہونے کے باوجود شکست مقدر بنی۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ کانگریس سمیت تمام سیکولر جماعتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ آخر کیوں عوام کا ایک بڑا طبقہ ان سے دور ہوتا جارہا ہے؟ کیوں اتحاد کی کوششیں صرف پریس کانفرنسوں تک محدود رہ جاتی ہیں؟ کیوں ہر جماعت خود کو مرکز ماننے پر اصرار کرتی ہے؟ اور کیوں اجتماعی مفاد کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کمزور پڑتا جارہا ہے؟
سیاسی دانشمندی اسی میں ہے کہ وقتی انا کو قربان کرکے بڑے مقصد کے لیے راستہ بنایا جائے۔ بعض اوقات آگے بڑھنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ ہر وقت کی ہٹ دھرمی اور ضد آخرکار بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اگر سیکولر جماعتیں اب بھی حقیقت کا ادراک نہ کرسکیں تو آنے والے دنوں میں ان کا سیاسی دائرہ مزید سکڑ سکتا ہے۔
پانچ ریاستوں کے نتائج دراصل ایک خاموش انتباہ ہیں۔ یہ نتائج اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں کہ اگر تم نے اتحاد، سیاسی بصیرت اور اجتماعی حکمت کا راستہ اختیار نہ کیا تو تم صرف اقتدار ہی نہیں بلکہ اپنی سیاسی اہمیت بھی کھو بیٹھو گے۔
جمہوریت میں ووٹ صرف ایک سیاسی ہتھیار نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت ہے۔ اس امانت کا تقاضا یہی ہے کہ ذاتی خواہشات، چھوٹی سیاسی رقابتوں اور انا کی دیواروں سے اوپر اٹھ کر ملک، آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی جماعتوں کو زندہ رکھتی ہے جو وقت پر اپنی غلطیوں سے سبق لے لیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔