کیا'اشرف المخلوقات' جانوروں سے بھی بدتر ہو گیا؟۔ ازقلم : وسیم رضا خان۔
کیا'اشرف المخلوقات' جانوروں سے بھی بدتر ہو گیا؟
ازقلم : وسیم رضا خان۔
خدا نے انسان کو بہترین تخلیق بنایا۔ اسے سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی قوت عطا کی۔ اسے عقل و شعور دیا تاکہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کر سکے۔ لیکن آج جب ہم اخبارات کے صفحات پلٹتے ہیں یا خبریں دیکھتے ہیں، تو ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے— کیا ہم واقعی اشرف ہیں؟
حال ہی میں بدلاپور کے اسکول میں معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والی درندگی، مالیگاؤں کا لرزہ خیز واقعہ اور پونے کے ایک گاؤں نسراپور میں بچی کے ساتھ ہونے والی حیوانیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاشرے میں ایسے آدم خور گھوم رہے ہیں، جن کا موازنہ جانوروں سے کرنا جانوروں کی بھی توہین ہے۔
فطرت کا اصول ہے کہ جانور اپنی جبلت کے مطابق چلتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی کسی کتے یا بلی کو اپنی ہی نسل کے معصوموں کے ساتھ ویسی حیوانیت کرتے نہیں دیکھا جیسی آج کا 'مہذب' انسان کر رہا ہے۔ جس انسان کو خدا نے اپنی بہترین تخلیق (اشرف المخلوقات) قرار دیا، وہ آج اپنی ہوس اور بگڑی ہوئی سوچ کی آگ میں ان کلیوں کو مسل رہا ہے جنہوں نے ابھی ٹھیک سے کھلنا بھی نہیں سیکھا۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو خود کو دانشور اور سماجی کہتے ہیں، جبکہ ان کے اندر ایک ایسا راکشس پل رہا ہے جو معصومیت کا لہو پینے پر اتارو ہے۔
این سی آر بی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2011 سے اب تک 4 لاکھ سے زیادہ عصمت دری کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ لیکن کیا یہ تعداد کافی نہیں تھی کہ ہماری حکومتیں اور انتظامیہ جاگ جاتیں؟ بدلاپور کے واقعے میں جس طرح پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی، وہ انتظامی بے حسی کی انتہا ہے۔ نسراپور اور مالیگاؤں جیسے واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ مجرموں کے دلوں سے قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ ملک آج تک آصفہ کو بھی تو نہیں بھول پایا ہے۔
جب سزا کی شرح محض 25-35% ہو، تو مجرموں کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ قانون کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلیں گے۔ 'تاریخ پر تاریخ' کا سلسلہ اور برسوں تک چلنے والی عدالتی کارروائی متاثرہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ حکومتیں 'بیٹی بچاؤ' کے نعرے تو لگاتی ہیں، لیکن جب زمین پر بیٹیوں کی حفاظت کی بات آتی ہے، تو نظام گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔
ایسی سوچ رکھنے والوں اور ان خنزیر خوروں کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ معاشرے کا حصہ نہیں بلکہ ایک 'کینسر' ہیں۔ جو لوگ معصوم بچیوں کی چیخوں کو ان سنا کر اپنی ہوس مٹاتے ہیں، وہ نامرد ذہنی سڑاند کے شکار ہیں۔ یہ طمانچہ ان پر بھی ہے جو 'خاندان کی عزت' کے نام پر ایسے واقعات کو دبا دیتے ہیں۔ یہ طمانچہ اس انتظامیہ پر بھی ہے جو بااثر لوگوں کے دباؤ میں فائلیں دبا دیتی ہے۔
اگر ہم آج بھی نہیں جاگے، اگر ہمارے نظامِ عدل نے ان درندوں کو چوراہے پر ایسی سزا نہ دی جو عبرت بن سکے، تو ہمیں خود کو انسان کہلوانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم ایک ایسے کھوکھلے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں تکنیکی ترقی تو ہو رہی ہے، لیکن اخلاقی طور پر ہم پتھر کے دور سے بھی نیچے گر چکے ہیں۔ اب وقت موم بتیاں جلا کر صرف خراج پیش کرنے کا نہیں، بلکہ نظام کی اس خامی کو جلانے کا ہے جو ان درندوں کو پناہ دیتی ہے۔
Comments
Post a Comment