واجد اختر صدیقی کی " نقشِ تحریر" — گلبرگہ کے قلمکاروں کی فکر کا ہمہ جہت آئینہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار۔ایم اے ،ایم۔ ایڈ۔ پرنسپال،مونٹ سنائی پی یو کالج ،بیلگام (کرناٹک )


واجد اختر صدیقی کی " نقشِ تحریر" — گلبرگہ کے قلمکاروں کی فکر کا ہمہ جہت آئینہ - 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار۔ایم اے ،ایم۔ ایڈ۔  
پرنسپال،مونٹ سنائی پی یو کالج ،بیلگام (کرناٹک ) 8904317986

“نقشِ تحریر” ایک ایسی سنجیدہ اور باوقار تصنیف ہے جو قاری کو محض مطالعے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے گردوپیش کا ازسرِنو جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہے۔ واجد اختر صدیقی کی یہ کتاب دراصل ایک بیدار ذہن کی وہ آواز ہے جو گلبرگہ کے قلمکاروں کی تحریروں کےمختلف پہلوؤں پر نہایت متانت اور فکری گہرائی کے ساتھ جائزہ پیش کرتی ہے۔
اگر اس کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مصنف کے یہاں محض معلومات نہیں بلکہ ان تحریروں پرشعور کی روشنی ہے۔ ہر مضمون میں ایک خاص داخلی ربط اور فکری تسلسل پایا جاتا ہے، جو قاری کو ایک خیال سے دوسرے خیال تک اس خوبصورتی سے لے جاتا ہے کہ کہیں بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ یہی تسلسل اس کتاب کو محض تحریروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط فکری سفر بنا دیتا ہے۔
واجد اختر صدیقی کی اس کتاب کی خاص خوبی یہ ہے کہ انھوں نے صرف گلبرگہ سے متعلق قلمکاروں کو ضبط تحریر میں لاہا ہے۔ اور مضامین تبصروں اور جائزوں کو مختلف اور نہایت خوبصورت عناوین باب میزان،باب سخن،باب فن،باب ایوان،باب جہان،باب چمن،باب میزان اور باب گمان پیش کیا ہے۔
اس کتاب میں جملہ 68 مضامین شامل ہیں۔ایک طرح سے یہ کتاب گلبرگہ کے قلمکاروں کا ادبی مرقع ہے۔
 واجداختر صدیقی کا اسلوب نہایت متوازن اور شائستہ ہے۔ وہ نہ تو مشکل الفاظ کے ذریعے قاری پر اپنی علمیت کا بوجھ ڈالتے ہیں اور نہ ہی سطحی انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کی زبان میں سادگی ہے مگر اس سادگی میں بھی تاثیر کی خوبی نمایاں ہے۔
مزید برآں، واجد اختر صدیقی کی تحریروں میں اخلاص اور سچائی کی جھلک نمایاں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ لکھتے ہیں، دل کی گہرائیوں سے لکھتے ہیں، اور یہی خلوص ان کے الفاظ کو ایک خاص تاثیر عطا کرتا ہے۔ ان کا قلم نہ تو محض اظہار کا ذریعہ ہے اور نہ ہی محض ادبی نمائش، بلکہ یہ ایک ذمہ دارانہ سوچ کا ترجمان ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ “نقشِ تحریر” ایک ایسی کتاب ہے جو ہر سنجیدہ قاری کے مطالعے کا حصہ ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف ادبی ذوق کی تسکین کرتی ہے بلکہ فکری بالیدگی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علاقائی ادب کا فروغ یقینا فال نیک ہے ۔ چونکہ گلبرگہ کی ادبی تارہخ نہایت توانا ہے۔اور ایسے ادب کے تحفظ کے لیے مصنف کی یہی وہ خوبی ہے جو اس تصنیف کو ایک پائیدار اور قابلِ قدر ادبی سرمایہ بناتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔