حضرت خواجه بنده نواز گیسو دراز کی تعلیمات ۔ (622 ویں عرس شریف پر خصوصی مضمون)ازقلم : عزیز اللہ سرمست، سینئر صحافی گلبرگہ۔
حضرت خواجه بنده نواز گیسو دراز کی تعلیمات ۔
(622 ویں عرس شریف پر خصوصی مضمون)
ازقلم : عزیز اللہ سرمست، سینئر صحافی گلبرگہ۔
ہم اولیائے کرام کی کرامتوں سے متاثر ہیں اور تقاریر و مضامین میں اولیائے کرام کی شان بیان کرنے کے لئے کرامتوں کا ہی ذکر کیا جاتا ہے اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو بیان نہیں کیا جاتا ۔ ہم اولیائے کرام سے غیر معمولی عقیدت و محبت رکھتے ہیں لیکن عملی زندگی میں ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اہل سنت والجماعت کے نز د اولیائے کرام سے کرامتوں کا صدور ثابت ہے لیکن صالح کردار اور روحانی ترقی کے لئے اولیائے کرام سے عقیدت و محبت کے ساتھ ان کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے جو نصیحتیں ارشاد فرمائے ہیں ان پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کے لئے آپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی اس قدر بھی نہ کر سکے (یعنی آپ کے ارشادات پر عمل نہ کرسکے ) تو پھر وہ صوفیوں کے مسلک میں قدم نہ رکھے ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کے اس انتباہ سے یہ واضح ہو گیا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات ، ارشادات نصیحتیں اور ہدایات پر عمل کئے بغیر ان سے عقیدت و محبت کا دعویٰ ناقص ہے اور اولیائے کرام کے مسلک میں تعلیمات وارشادات پر عمل کے بغیر منازل سلوک طئے نہیں ہو سکتے ۔ اب اگر کوئی بیعت وخلافت سے سرفراز ہو لیکن اولیائے کرام کی تعلیمات کیخلاف اسکا عمل ہو تو پھر بیعت و خلافت کی نعمت سے اُسے کچھ حاصل نہیں ہو گا حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز فرماتے ہیں کہ اگر کوئی سالک شہرت کا طالب ہو اور عبادت و ریاضت کو ترک کرتا ہے تو وہ ریا کار اور منافق ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے تاکید فرمائی ہے کہ جب تک کوئی شخص دنیاوی چیزوں سے فارغ نہ ہو جائے یعنی دنیا طلبی ترک نہ کرے وہ راہ سلوک میں گامزن نہ ہو۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے اس ارشاد گرامی سے صاف ہو گیا کہ اولیائے کرام نے دنیا طلبی کو ہرگز پسند نہیں فرمایا لیکن ہم ہیں کہ اولیائے کرام کے آستانوں پر روحانی ترقی طلب کرنے کے بجائے دنیا طلبی کے مقصد سے حاضر ہوتے ہیں۔ ہم بیعت کر کے داخل ارادت ہو جاتے ہیں لیکن مرید کے لئے جو لازمی امور ہیں ان سے غافل ہی رہتے ہیں ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز فرماتے ہیں کہ فرد کسی کا مرید ہونے کے بعد خلوت میں بیٹھے تو دسرے کے تمام حقوق ادا کرے۔ اس میں مطلق ریا اور غصہ نہ ہو۔ وہ دنیا داروں کی مجلسوں اور محفلوں سے دور رہے ۔ وہ کسی دوسرے کے خیر و شر سے کوئی واسطہ نہ رکھے ۔ اس کے دل میں جتنی ہوس ہو اس کو دور کر دے اگر دل ہوس سے پاک نہ ہو تو ریاضت و مجاہدہ کرتا رہے۔ ایسی تفریح سے جو جائز بھی ہو تو پر ہیز کرے۔ آج کا کام کل پر اٹھا نہ رکھے کسی حال میں اپنے نام کو شہرت نہ دے۔ بازار میں شدید ضرورت کے وقت ہی جائے ۔ فقہا نے طہارت و لطافت کی جو باتیں بتائی ہیں ان پر عمل کرے ۔ شب بیداری اختیار کرے ۔ مصیبت کے وقت مضطر اور مضطرب یعنی پریشان و فکر مند نہ ہو کسی حال میں نہ روئے اور روئے بھی تو اسلئے کہ کہیں منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے اس کو موت نہ آجائے ۔ زیادہ تر خاموش رہے۔ حضرت خواجہ بندہ نوازگیسودراز نے ایک مرید کے لئے اتنے سارے ہدایات پرعمل کو لازم قرار دیا ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم ان میں سے کتنی ہدایات پر عمل پیرا ہیں ۔ مرید کے لئے آپ کے اور بھی کئی ہدایات ہیں ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے مرید اور سالک کے لئے ہمیشہ با وضور بنے کی تاکید فرمائی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ نماز کے لئے تازہ وضو کرنا بہتر ہے۔ وضو کے بعد تحت الوضو ادا کرے۔ آپ نے مریدوں اور سالکوں کو یہ بھی تاکید فرمائی ہے کہ بے وضو نہ سوئیں ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز فرماتے ہیں کہ فجر ، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں لمبی قرات نہ ہو اور مسنون قرات سے کم بھی نہ ہو۔ نماز میں حضوری قلب لازمی ہے۔ فجر کی سنت پڑھنے کے وقت سے اشراق کی نماز پڑھنے تک حتی الوسع کسی سے نہ بولیں ۔ زوال کے وقت قیلولہ کریں تا کہ شب بیداری میں سہولت ہو۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے مریدوں اور سالکوں کے لئے یہ نظام العمل متعین فرمایا ہے کہ رات کو تین حصوں میں تقسیم کریں ۔ پہلے حصہ میں اوراد و وظائف میں مشغول رہیں ۔ دوسرے حصہ میں سوئیں ۔ تیسرے حصہ میں ذکر و مراقبہ کریں ۔ کم سونے کے لئے کھانے اور پینے میں تقلیل ، احتیاط ضروری ہے۔ رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر تہجد پڑھیں ۔ تہجد کے بعد اوراد و وظائف اور تلاوت کلام پاک ذکر و مراقبہ میں مشغول رہیں ۔ ان سب میں مراقبہ عزیز ترین مشغلہ ہونا چاہئے ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز مزید فرماتے ہیں کہ ارکان تصوف میں سے ہے کہ صوفی کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ روزہ سے نفس مغلوب رہتا ہے۔ اور اس میں غرور اور عجب پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی بھی مرید حقیقت و طریقت کو شریعت کی ضد نہ سمجھے بلکہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کا خلاصہ تصور کرے۔
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے ارشاد فرمایا کہ پانچ باتوں کو پانچ باتوں سے قبل غنیمت سمجھو ۔ جوانی کو بڑھاپے سے قبل ، تندرستی کو بیماری سے قبل تو نگری کو محتاجی سے قبل ، فراغت کو مشغولی سے قبل اور زندگی کو موت سے قبل ۔ ان میں سے ایک بھی جو آج نصیب ہے کل ممکن ہے کہ نہ رہے ۔ ہمیں اس زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کی قدر کرنی چاہیئے ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز محبت الہی کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ جان لو کہ سب سے اہم طلب اور سب سے بڑا مقصد محبت خدائے عز وجل ہے۔ عقلمند آدمی جس شئے میں قیام نہیں دیکھتا اور جس شئے میں عروج و زوال ہے یعنی بقاء نہیں ہے اس پر کبھی نگاہ نہیں ڈالتا۔ جس شئے میں ثبات نہیں اس سے دل لگانا مناسب نہیں۔ یہ دنیا ایک ایسی معشوقہ ہے جس میں مہر و وفا نہیں۔ عاشق کبھی با مراد نہیں ہوتا ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے عزیز ! محبت الہی ایک گلزار ہے اگر ہو سکے تو اس میں سے کچھ پھول چن لو ۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں موت نہ آجائے اور اس گلزار کی خوشبو سے یعنی محبت الہی سے تمہارا دل خالی نہ رہ جائے ۔ کیوں سو رہے ہو، اٹھو بیدار ہو کچھ کام کر لو اور جہاں تک ہو سکے اس جہان فانی سے کچھ حاصل کر لو جو عاقبت میں توشے کا کام دے اور کل قیامت میں پروردگار کے رحم و کرم کا موجب بن جائے حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے چند خاص نصیحتیں فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں
مردوں کو میری نصیحت ہے کہ پانچ وقت جماعت سے نماز ادا کریں ، جمعہ کا غسل بلا عذر شرعی ناغہ نہ کریں اور مغرب کے نماز کے بعد تین سلام سے اوبین کی چھ رکعتیں پڑھ لیا کریں۔ جن میں سے ہر ایک رکعت میں تین تین بار سورہ اخلاص پڑھیں ، پھر دو رکعت نفل حفظ ایمان کے لئے اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سات بار سورہ اخلاص ایک ایک بار معوذتین پڑھ کر سلام پھیریں، پھر سجدے میں سر رکھ کر تین بار یہ دعا مانگیں يا حي يا قيوم شبتني على الايمان - جب عشاء کی نماز پڑھ لیں تو دور کعتیں اور پڑھیں ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ 10 بار سورہ اخلاص پڑھیں بعد سلام 70 بار یا وھاب ( ھ ) پر زور دے کر پڑھیں ۔ ہر ماہ ایام بیض کے روزے رکھا کریں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز انتباہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اس قدر بھی نہ کر سکے ( ان نصیحتوں پر عمل نہ کر سکے ) تو پھر صوفیوں کے مسلک میں قدم ہی نہ رکھے۔
معراج العاشقین میں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے حضرت امام جعفر صادق کے حوالے سے پیر ( مرشد ) میں دس خوبیوں کا ہونا ضروری قرار دیا ہے (1) علم (2) سخاوت (3) عمل (4) مرید کے مال کی طمع و حرص نہ کرنا (5) مریدوں کے روبرو نادانی کی بات نہ کرنا (6) عقلمندی (7) شجاعت (8) ذکر الہی میں غرق رہنا (9) صاحب حال ہونا (10) سوجھ بوجھ کا مالک ہونا۔
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے سالک کیلئے پانچ منزلیس ( درجات ) بیان کی ہیں (1) واجب الوجود (2) ممکن الوجود (3) ممتنع الوجود (4) عارف الوجود (5) وحدت الوجود، نگہبانی کریں : نفس اماره نفس لوامہ نفس مطمئنہ ، مقامات کے اعتبار سے مسلک تصوف کی بھی پانچ منزلیں ہیں: شریعت، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور وحدانیت ۔ اذکار : ذکر جلی ذکر قلبی ، ذکر روحی ذکر سری، ذکر خطی ۔ پہلی منزل کا تعلق جسم سے دوسری کا نفس سے تیسری کا دل سے اور چوتھے کا روح سے اور پانچویں کا ذات سے ہوتا ہے۔ ترقی کے ان مدارج کو سالک کسی مرشد کامل کی نگرانی میں طے کر سکتا ہے۔ عروج کرنے کیلئے یہ پانچ چیزیں نہایت ضروری ہیں (1) خدائے واحد کا تصور (2) مشاہدہ (3) مراقبہ (4) ذکر جلی (5) مرشد کامل کی ہدایت ۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز کے بعد قرآن پڑھنا اور روزہ رکھنا دوزخ سے بچاتا ہے۔ ایمان طریقت کی ابتداء سے اور اس کی بنیاد اس شہادت پر ہے کہ خدا کے سواء کوئی معبود نہیں ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز معراج العاشقین میں فرماتے ہیں کہ شریعت میرا قول ، طریقت میرا فعل ، حقیقت میرا حال اور معرفت میرا راس المال ہے - نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو اللہ تعالی کا فرض انسان پر دوسرے تمام فرائض سے زیادہ واجب ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ تعالی کی اطاعت کی۔ سچائی نجات دیتی ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ جاہلوں سے پر ہیز کرو ، مومنوں کے دل اللہ تعالی کا عرش ہیں، شریعت مثل کشتی ہے، طریقت مثل سمندر ہے بہترین عبادت خلوت میں ہے ۔ اور وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے ، ان کی مثال ایسے گدھے کی مانند ہے جو کتابوں کا پشتارہ یعنی گٹھری لے کر چل رہا ہو۔ کوئی شخص بھی عبادت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا نفس عبادت میں داخل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ نفس مجسم عبادت ہو جائے۔ مومنوں کی خوشی اللہ تعالی کے دیدار کے سواء کسی چیز میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز کی تعلیمات ارشادات تلقینات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Comments
Post a Comment