آہ ! حاجی عبدالرحمن صاحب 62نمبر (سابق مہتمم دارالعلوم محمدیہ) انتقال کر گئے - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)


آہ ! حاجی عبدالرحمن صاحب 62نمبر (سابق مہتمم دارالعلوم محمدیہ) انتقال کر گئے - 
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 


زندگی کیا ہے؟ چند سانسیں، چند دن کا قیام، پھر رخصتی اور اصل زندگی کا آغاز، دنیا میں آدمی آتا ہے، دھیمے قدموں اور آہستہ روی سے آگے بڑھتا ہے، پھر برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارگاہِ خالق میں حاضر ہوجاتا ہے، تقریباً صبح ساڑھے نو بجے یہ جاں کسل خبر موصول ہوئی کہ دارالعلوم محمدیہ کے مہتمم جناب حاجی عبدالرحمن صاحب 62 نمبر اپنی حیاتِ مستعار کے لمحات گزار کر خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے، انا لله وانا اليه راجعون حاجی صاحب رح کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، ہر خاص وعام ان کی دینی خدمات، اور علمی کاوشات سے واقف ہیں، ان کی پوری زندگی جہدِ مسلسل اور عزمِ پیہم سے عبارت تھی، حاجی صاحب نے زندگی بہت سادہ گزاری اور پوری زندگی سادگی کا عنوان رہی، اپنے لباس سے ، حُلیہ اور وضع قطع سے، چال ڈھال سے، نشست و برخاست سے، گفتگو اور معاملات سے سچے اور کھرے انسان تھے، اصول پسندی میں ممتاز تھے، اسی اصول پسندی نے اُنھیں ایک نمایاں مقام اور اکابر اہلِ علم کی رفاقت عطا کی تھی، دارالعلوم محمدیہ کی بناء سے لیکر اس کو مضبوط و ٹھوس استحکام دینے میں عمر کے اخیر لمحات تک منصبِ اہتمام پر فائز رہیں، جب قوی مضبوط تھے تو روزانہ نورانی مسجد سے صبح مدرسہ تشریف آتے اور تقریباً ایک گھنٹہ رک کر استراحت کےلیے گھر تشریف لے جاتے، مزاج میں نرمی اور بُرد باری کافی تھی، علاوہ ازیں عمر کے آخر ایام تک نیک اعمال کی ادائیگی کا اہتمام رہا، نماز پنج وقتہ کے ساتھ تہجد، اشراق اور دیگر نوافل کا خوب اہتمام رہا، حالاں کہ جسم أعذار سے چُور مگر نمازوں کے ذوق و شوق کے سامنے تمام أعذار ہیچ اور ماند پڑ گئے تھے اعتکاف سنتِ مؤکدہ پر دوام اور غریبوں کی مدد و خیر خواہی بھی قابلِ رشک رہی ورنہ عموماً عمرِ طویل اور أعذار کی کثرت کے باعث انسان شکوہ شکایت کا عادی ہوجاتا ہے مگر حاجی صاحب، صابر، شاکر، صلہ رحمی اور ذوقِ عبادت میں منہک رہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من أحب أن یبسط له فی رزقه و یُنسأ له أثرہ فلیصل رحمه (بخاری شریف) جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراوانی اور عمر میں برکت ہوتو اُسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں، عمرِ دراز کے ساتھ حُسنِ عمل خداوند متعال کی عظیم ترین نعمت ہے، امام ترمذی رح نے اپنی سنن میں ایک روایت بیان کی کہ عن ابی بکرة ان رجلاً قال یا رسول اللہ صل اللہ علیہ ایُّ الناس خیرٌ قال من طال عمرہ و حَسُنَ عمله قال فایّ الناس شر قال من طال عمرہ و ساء عمله (سنن ترمذی) ایک شخص نے سوال کیا یا رسول اللہ لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو، گویا اچھے اعمال کے ساتھ لمبی عمر بھلائی کی علامت ہے، نیک اعمال پر مداومت کے ساتھ اہلِ علم سے خصوصی لگاؤ اور محبت تھی، راقم السطور کو مرحوم مولانا اسرائیل صاحب رح دادا نے بتایا تھا کہ جس وقت دارالعلوم محمدیہ قائم ہوا تو چند ماہ تک طلباء کے خورد نوش کا انتظام اور اساتذۂ کرام کی تنخواہ حاجی صاحب سے متعلق رہی پھر بعد میں جب چندہ کا نظم ہوا تو یہ سلسلہ موقوف ہوگیا، اسی طرح تبلیغی جماعت سے خصوصی دلچسپی اور لگاؤ تھا اور ارکانِ شوریٰ کے ایک اہم رکن تھے بل کہ ہر ماہ یا پندرہ پر دن امیر (فیصل) بھی بنتے تھے، شہرِ عزیز کی بعض مساجد کے ذمہ دار بھی تھے اس کے علاوہ دارالعلوم محمدیہ (قدوائی روڑ مالیگاؤں) مدرسہ اسلامیہ (واقع بڑا قبرستان) مدرسہ دار الفلاح (یتیم خانہ) اور کلیة الطاہرات کے ٹرسی و ذمہ دار تھے، یقیناً ان مدارس میں پڑھنے والے طلباء و طالبات حاجی صاحب کے لیے ذخیرۂ آخرت ہے، ان شاءاللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا إذا مات الإنسان انقطع عنہ عملہ إلا من ثلاث إلاّ من صدقة جارية او علم ینفع به او ولد صالح یدعو له (سنن ترمذی) ایک دوسری جگہ ارشادِ نبوی ہے اُغْدُ عالماً اَوْ مُتعلماً اَوْ مُحباً او مُستمعاً ولا تکنِ الخامس فَتَھْلِكْ (شرح مشکل الآثار للطحاوی) حاجی صاحب اگر چہ عالم دین نہیں تھے مگر اہلِ علم پیدا کرنے کے لیے جو علمی پیدا لگایا اور دیگر حضرات کے ہمراہ مل کر اس کی جو آبیاری کیں وہ سب ان شاءاللہ حاجی صاحب کے دفترِ حسنات میں اضافہ کا باعث ہوگا، آج حاجی صاحب اپنی عمرِ مستعار کی 96 بہاریں دیکھ کر نعمتوں اور راحتوں سے لبریز حقیقی زندگی کی طرف کوچ کر گئے، ان کے انتقال پر دارالعلوم محمدیہ( قدوائی روڑ مالیگاؤں) میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا پھر مفتی امتیاز احمد فلاحی صاحب (ناظمِ تعلیمات دارالعلوم محمدیہ نے مختصراً حاجی صاحب مخفی گوشوں کو آشکارا کیا اور حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی(شیخ الحدیث و صدر المدرسين دارالعلوم محمدیہ) نے ماضی کے گم گزشتہ اوراق سے کُرید کر اور اپنے ذہن کے دریچوں میں ثبت پُرانی یادوں میں سے کچھ چیدہ چیدہ واقعات و کارناموں کو طلباء و اساتذہ کرام کے مابین بیان کیا،اور پھر دعا فرمائی، آج ہی بعدِ نماز عشاء ساڑھے نو بجے حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان میں تدفین عمل میں آئی گی، خداوند متعال سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاجی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اہلِ خانہ متعلقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین 

منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔