دعوتِ اسلامی ہند بھوساول شاخ کا قابلِ تقلید و ستائش کارنامہ - "چار برسوں میں 450 درختوں کو پروان چڑھانے میں کامیابی، 90 ہزار پودے لگانے کا عزم" ـ خصوصی رپورٹ : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں)


دعوتِ اسلامی ہند بھوساول شاخ کا قابلِ تقلید و ستائش کارنامہ 
"چار برسوں میں 450 درختوں کو پروان چڑھانے میں کامیابی، 90 ہزار پودے لگانے کا عزم" ـ 
خصوصی رپورٹ : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں)

ماحولیات کے تحفظ، درجۂ حرارت میں کمی اور سرسبز و شاداب معاشرے کی تشکیل کے لیے دینی و سماجی تنظیم دعوتِ اسلامی ہند شاخ بھوساول کی جانب سے جاری شجرکاری مہم اب ضلع   بھر میں ایک مثالی تحریک کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تنظیم نے گزشتہ چار برسوں کے دوران نہ صرف سینکڑوں پودے لگائے بلکہ ان کی مستقل نگہداشت اور حفاظت کے ذریعے انہیں تناور اور سایہ دار درختوں میں تبدیل کر کے عملی خدمت کی روشن مثال قائم کی ہے۔
دعوتِ اسلامی ہند بھوساول شاخ اپنی دینی، سماجی اور اصلاحی سرگرمیوں کے باعث ضلع جلگاؤں ہی نہیں بلکہ ریاستی و قومی سطح پر بھی نمایاں شناخت رکھتی ہے۔ اسلامی مہینوں کے مطابق سال بھر منعقد ہونے والے مذہبی اجتماعات، طلبہ کے لیے تربیتی کیمپ، خواتین کے لیے ہمہ جہت پروگرام، خون عطیہ مہمات، علماء کرام کے بیانات، حجاج کرام کی تربیت، نشہ مکتی مہم، قیدیوں کی ذہن سازی اور اصلاحِ معاشرہ جیسے متعدد شعبوں میں تنظیم کی خدمات قابلِ تحسین سمجھی جاتی ہیں۔ اسی تسلسل میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے شجرکاری مہم کو بھی تنظیم نے اپنی سماجی ذمہ داری کا اہم حصہ بنایا ہے۔ برادرم رفیق روشن کی اطلاعات کے مطابق دعوتِ اسلامی نے سن 2018 سے بھوساول شہر میں منظم انداز میں شجرکاری مہم کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران کھڑکا روڈ، محمد علی روڈ، عیدگاہ میدان، قبرستان، تاپی ندی کے کنارے، تحصیل دفتر، پرانت افسر دفتر اور دیگر مختلف مقامات پر تقریباً 600 پودے لگائے گئے۔ سخت گرمی، موسمی اثرات اور بعض مقامات پر مناسب نگہداشت نہ ہونے کے باعث چند پودے سوکھ گئے، تاہم تنظیم کی مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال کے نتیجے میں تقریباً 450 پودے آج مکمل درختوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور شہریوں کو سایہ اور ٹھنڈک فراہم کر رہے ہیں۔
شہر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ماحولیاتی عدم توازن کے تناظر میں اس مہم کو عوامی سطح پر بھی کافی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی سروے کے مطابق محمد علی روڈ، گھرکا روڈ اور قبرستان سے ملحق علاقوں میں سرسبزی میں نمایاں اضافہ محسوس کیا گیا ہے، جس کے بعد بعض شہری حلقے ان علاقوں کو “گرین پارک” سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے بھی تنظیم کی اس سنجیدہ کوشش کو سراہا ہے۔
دعوتِ اسلامی نے اب اس مہم کو مزید وسعت دیتے ہوئے صرف بھوساول شہر میں 90 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ ملک بھر میں 10 کروڑ پودے لگانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ آئندہ برسات کے موسم میں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور اس کے تحفظ کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔
تنظیم کی جانب سے شجرکاری کے دوران دیسی اقسام کے درختوں کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ماحول کے مطابق زیادہ دیرپا اور مضبوط درخت تیار کیے جا سکیں۔ اس مہم کے تحت کڑونیم، پیپل، شیشم، گل موہر اور کرنج جیسے درخت لگائے گئے ہیں، جن میں تقریباً 50 فیصد پودے کڑونیم کے شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ درخت نہ صرف طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں بلکہ ماحول کو متوازن رکھنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
گزشتہ برس غوثیہ نگر علاقے میں تنظیم نے تقریباً 200 افراد میں مفت پودے تقسیم کر کے عوام کو بھی شجرکاری کے لیے ترغیب دی تھی۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ آئندہ برسات میں شہر کے ہر علاقے میں یہ مہم مزید جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
اس مہم کی نگرانی دعوتِ اسلامی کے آل انڈیا ذمہ دار سلیم عطاری اور ضلعی ذمہ دار جابر شیخ عطاری کی رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہے، جبکہ رئیس شیخ، سید عمران، حاجی شاکر، رئیس اسلم، عاصف شیخ، حاجی توفیق، سابق کونسلر صابر شیخ، رفیق روشن قادری ،اور دیگر کارکنان سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے عملی اقدامات کی اس مثال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر سماجی اور دینی تنظیمیں خلوص، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ میدان میں آئیں تو نہ صرف شہر کا ماحول خوشگوار بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر اور سرسبز مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔