رپورٹر — بیڑ کی صحافت کا 33 سالہ روشن سفر ایک نسل کی تربیت، عوامی خدمت اور بے باک صحافت کی داستان۔ - سید فاروق احمد قادری۔


رپورٹر — بیڑ کی صحافت کا 33 سالہ روشن سفر ایک نسل کی تربیت، عوامی خدمت اور بے باک صحافت کی داستان۔ -  
 سید فاروق احمد قادری۔

30 مئی 2026 کا دن ضلع بیڑ کی صحافتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ دوپہر میں شائع ہونے والا معروف و مقبول اخبار “رپورٹر” اپنی اشاعت کے 33 سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک اخبار کی سالگرہ نہیں بلکہ عوامی آواز، تعلیمی بیداری، سیاسی شعور اور سماجی خدمت کے ایک عظیم سفر کی تکمیل کا دن ہے۔
“رپورٹر” کے روحِ رواں شیخ طیب سکندر صاحب نے اپنے والد محترم سکندر صاحب کے نام کو عزت، وقار اور خدمت کے ساتھ زندہ رکھا۔ انہوں نے صحافت کو صرف خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح، نوجوانوں کی رہنمائی اور غریب عوام کی طاقت بنایا۔
شیخ طیب سکندر صاحب نے یہ محسوس کیا کہ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ مہنگی کوچنگ اور رہنمائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت “رپورٹر” اخبار کے ذریعے مختلف مضامین کے ماہر اساتذہ کو طلبہ تک پہنچایا گیا۔
سائنس، حساب، تاریخ، اردو، انگریزی اور دیگر مضامین پر مسلسل رہنمائی دی جاتی رہی۔ سوالات، مشورے، نوٹس اور تعلیمی مضامین کے ذریعے طلبہ کی فکری تربیت کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس اخبار سے رہنمائی حاصل کرنے والے بے شمار نوجوان آج ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں، افسر اور مختلف شعبوں میں کامیاب انسان بن چکے ہیں۔
عوامی خدمات اور تعلیمی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے شیخ طیب سکندر صاحب کو مولانا ابوالکلام آزاد اقلیتی سیل کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے پورے مہاراشٹر کا دورہ کیا اور غریب طلبہ کے مسائل حکومت تک پہنچائے۔
انہوں نے تعلیمی امداد، اسکالرشپ اور قرض کی سہولتوں کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ خاص طور پر عامدار وجے سنگھ پنڈت کے تعاون سے تقریباً 500 طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے قرض اور امداد فراہم کی گئی، جو ایک تاریخی اور قابلِ ستائش قدم تھا۔ 9 اپریل 2026 کو غریب طلبہ میں امدادی چیک تقسیم کیے گئے، جس سے سینکڑوں خاندانوں کو تعلیم کی نئی امید ملی۔
“رپورٹر” نے ہمیشہ عوامی مسائل کو بے باکی سے اٹھایا۔ 13 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بس اسٹیشن میں ناقص اور بوگس کام کو اخبار نے پوری شدت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا۔ بس اسٹینڈ کی چھت مختلف مقامات سے ٹپک رہی تھی، جسے “رپورٹر” نے اپنی خبروں کے ذریعے نمایاں کیا۔
6 مئی 2026 کو اسکول اور کالج جانے والی لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر بھی اخبار نے سخت آواز اٹھائی اور ڈی ایس پی سے مطالبہ کیا کہ طالبات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
اسی طرح 25 مئی 2026 کو NEET امتحان سے متعلق طلبہ کو درپیش مشکلات پر “رپورٹر” نے بھرپور انداز میں لکھ کر حکومت کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔
جب پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو سب سے زیادہ متاثر رکشہ ڈرائیور، مزدور اور روزانہ کمانے والے غریب افراد ہوئے۔ “رپورٹر” نے ان کی آواز بن کر کلکٹر کے ساتھ میٹنگ کی اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔
وہ لوگ جو برسوں سے سطحِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہے تھے اور جن کے پاس رہنے کے لیے چھت تک موجود نہیں تھی، ان کے لیے بھی شیخ طیب سکندر صاحب نے مسلسل جدوجہد کی۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ہزاروں غریب خاندانوں کو گھر ملنے میں “رپورٹر” نے اہم کردار ادا کیا۔
33 سال کا سفر معمولی نہیں ہوتا۔ یہ ایک نسل کی جوانی، ایک معاشرے کی بیداری اور ایک شہر کی تاریخ کا سفر ہوتا ہے۔ “رپورٹر” نے ثابت کیا کہ اگر صحافت ایمانداری، جرات اور عوامی درد کے ساتھ کی جائے تو وہ صرف خبر نہیں بلکہ انقلاب بن جاتی ہے۔
 33 سالہ کامیاب صحافتی سفر پر “رپورٹر” اور شیخ طیب سکندر صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔