فاروق سید صاحبؒ — ایک نام نہیں، ایک روشن چراغ تھے ( اخراج عقیدت شولا پور اردو ہاؤس اج بروز جمعہ 11 بجے )۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری.۔
فاروق سید صاحبؒ — ایک نام نہیں، ایک روشن چراغ تھے ( اخراج عقیدت شولا پور اردو ہاؤس اج بروز جمعہ 11 بجے )
ازقلم : سید فاروق احمد قادری.۔
ایک روشن چراغ… جو آج بھی لفظوں
میں زندہ ہے
اخبار کے صفحوں میں اور “بیل بوٹے” کے لفظوں میں آج بھی اُن کی سوچ سانس لیتی ہے۔
ہر سطر میں شعور کی خوشبو، ہر لفظ میں قوم کا درد محسوس ہوتا ہے۔
وہ بچوں کو صرف کہانیاں نہیں لکھتے تھے، بلکہ اچھے اخلاق، بہتر کردار اور صحیح عقیدے کا راستہ دکھاتے تھے۔
نوجوانوں کے دلوں میں تعلیم کی روشنی جگا کر اُنہیں مستقبل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیتے تھے۔
قلم اُن کا خاموش ہوا، مگر اُن کی فکر آج بھی زندہ ہے۔
ہر اُس ہاتھ میں جو سچ لکھنے کی ہمت رکھتا ہے، اور ہر اُس نوجوان میں جو علم کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔
انہوں نے سیاست کو آئینہ دکھایا، سماج کو بیداری دی اور صحافت کو سچائی کا وقار بخشا۔
وہ صرف صحافی یا کالم نویس نہیں تھے، بلکہ ایک چلتی ہوئی درسگاہ تھے۔
آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اُن کی تحریریں، اُن کی سوچ اور اُن کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
Comments
Post a Comment