انا سے آگاہی کا عالمی دن (11/مئی) - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
انا سے آگاہی کا عالمی دن (11/مئی) -
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
ہر دِن کوئی نہ کوئی دِن ہوتاہے۔ عالمی سطح پر بھی، ملکی سطح پر بھی (ریاستی اور مقامی سطح پر بھی دن منائے جاتے ہیں)۔ اِن دِنوں کو دیکھیں تو ایسا لگتاہے کہ دنیا بھر کے ممالک اچھائی کے لئے فکرمند ہیں۔ دِن منانا اچھائی کو فروغ دینے کے مقصد اپنے اندر رکھتا ہے۔ انا سے آگاہی کا عالمی دن ہر سال (WORLD EGO AWARENESS DAY) 11/ مئی کو منایا جاتا ہے۔ بقول گوگل ”تاکہ مصنوعی طورپر خود میں پیدا کی ہوئی انا(EGO)، یا انا پرستی کے منفی اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے، اور عاجزی اور خاکساری کی حوصلہ افزائی ہو۔ سال 2018ء میں تخلیق کیا گیا یہ دن اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح بغیر چیک اور جانچ کی گئی انا پرستی جذباتی بدسلوکی کی ایک شکل کے طور پر کام کرتی ہے اور صحت مندطریقے سے رہنازیادہ ذہنی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔
انا سے آگاہی کے عالمی دن (11 مئی)کے اہم پہلو:۔(۱)یہ تحریک افراد کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے کہ ان کی انا خود پر اور دوسروں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے، جس کا مقصد زہرناک رویوں کو کم کرنا اور ہمدردی کو فروغ دینا ہے۔(۲)یہ دِن اس بات کو اجاگر کرنے کا کام کرتا ہے کہ انا پرستی ایک سیکھا ہوامصنوعی رویہ ہے اور بدسلوکی کی ایک پوشیدہ شکل ہے، جو لوگوں کو زیادہ ہوشیار، حاضر اور خود آگاہ رہنے کی تاکید کرتی ہے۔(۳) 2018ء سے اس دِن کو منانا شروع کیا گیا تھا تاکہ بہت زیادہ انا کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے۔(۴)لوگ اکثر خود کو بڑ ابتاتے ہیں (اناپرستی کے سبب)،ان کی ذہن سازی میں مشغول ہوتے ہوئے، سخت، دفاعی انا کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں بات چیت کے ذریعے دن کو منایاجاسکتاہے۔ (۵) جھوٹی انا کے خطرات کے بارے میں خود کو تعلیم دے کر، لوگ انانیت بھری مسابقت کو کم کرنے اور تعلقات میں میل جول کو بہتر بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ یہ آگاہی کا عالمی دن 11/ مئی 2026 پیر کو سارے عالم میں منایا جارہاہے۔ ہم سب اپنی خطرناک انا(EGO)کو قابومیں کرنے کے لئے شریک ہوں۔
اناکے معنی:۔ گوگل بابا کہتے ہیں، اردو اور عربی زبان میں ”انا“ کے کئی مختلف معنی اور استعمال ہیں۔ ٭خود، ذات (Self/Ego): اردو میں اناکا مطلب اپنی ذات، شخصیت، خودی، غرور، اہنکار یا نفس ہوتا ہے۔ ٭ میں (I/Me): عربی زبان میں ’أَنَا‘ضمیرِ متکلم ہے، جس کا مطلب ”میں“ ہے (مرد اور عورت دونوں کے لیے)۔ اکثر گفتگو میں ’انا‘ سے مراد انسان کی اپنی ذات یا خودی (Ego) ہوتا ہے۔ ریختہ ڈکشنری میں انا کے معنی،میں، خود، اناالحق کی تخفیف، اپنی ذات اور شخصیت کا اظہار، خودی، غرور، اہنکاردئے گئے ہیں۔ اور تصوف سے مثال دیتے ہوئے درج کیاہے کہ ”(تصوف) وجود حق کہ ذات اپنے آپ کو اس کے ساتھ تعبیر کرتی ہے خواہ مطلق ہو خواہ مقید اور بعض کے نزدیک عبارت ہے ذات مطلقہ سے لہٰذا ہر مظہر کی انا وجود مطلق کی انا ہے، اور انا سے اشارہ ہے مرتبہ وحدت و حقیقت محمدی
کی طرف بھی کہ اس کو علم مجمل اور یقین اول کہتے ہیں۔
انا اور خودی کیا ہے:۔ انا (Ego) اور خودی (Self/Selfhood) میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انا منفی تکبر اور خود پسندی ہے جو انسان کو دوسروں سے برتر سمجھتی ہے، جبکہ خودی علامہ اقبال کے نزدیک خود شناسی، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور خدا سے تعلق پیدا کرنے کا نام ہے۔
انا اور خودی میں کلیدی فرق:۔ ٭ انا (Ego/Pride): یہ نفسانی خواہشات، تکبر، اور ’میں‘ کی پرستش کا نام ہے۔ یہ انسان کو خود پرست بنا کر دوسروں کی نظر میں گرا دیتی ہے۔ ٭ خودی (Self/Self-Realization): یہ اپنی ذات کی پہچان، خودداری، اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا عمل ہے۔ یہ انسان کو اپنے اصل (خدا) سے جوڑتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ”انا“کو فنا کرنا ضروری ہے، جبکہ ”خودی“ کو بیدار (مضبوط) کرنا لازم ہے۔
اردو ادب نے اناپرستی کو کچل کررکھا:۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اردو ادب نے اناپرستی کو کچل کررکھا ہے۔ وجہ جو بھی رہی ہو۔ اناکے جتنے بت تھے وہ سبھی بت اردوشعراء اور ادیبوں نے گرادئے ہیں۔ ہرقسم کے ازم کابت یہاں گرایا گیا۔ اور آج بھی کوئی انا کا بت کھڑا کیاجاتاہے تو اس کو گرادیاجاتاہے۔ گویا اناپرستی کامرض اردو ادب میں قابل گردن زدنی جرم ہے۔ آئیے، اسی حوالے سے چند اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں۔
انا سے متعلق اشعار کا مطالعہ:۔
ٍسب سے پہلے ہم جون ایلیا کا سوال شعر کی شکل میں سنتے ہیں ؎
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کامریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
احمد فرازؔگویا جون ایلیا کوجواب دے رہے ہیں ؎
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتاہوں دوستی کے لئے
اقبال عظیم مرنجان مرنج شخص ہیں، وہ اپنی اناکی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ؎
یہ مری انا کی شکست ہے، نہ دعا کرو، نہ دوا کرو
جو کرو تو اتنا کرم کرو، مجھے میرے حال پر چھوڑ دو
ا ب تشریف لاتے ہیں بشیر بدر ؔ، ان دونوں کاکوئی معاملہ ہے۔فرماتے ہیں ؎
تنہائیوں نے توڑدی ہم دونوں کی انا
آئینہ بات کرنے پر مجبور ہوگیا
خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر اناپرست کے ہتھے چڑھ گئی ہیں اور کہہ رہی ہیں ؎
اناپرست اتنا ہے کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتا ب کردے گا
پھر کہتی ہیں ؎
ہارنے میں اک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارااور ہے
گلزار (ممبئی والے) کہہ رہے ہیں ؎
یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا
کوئی احساس تو دریا کی انا کاہوتا
جب کہ محمد مسعو د کو کوئی اناپرست شخص مل گیا جس کے لہجے میں پیار بھی چھپا ہواہے۔ واہ صاحب ؎
وہ شخص اناپرست تھا اس کی باتوں میں اقرار بھی تھا
اس کے چبھتے ہوئے لہجے میں چھپاہوا پیا ربھی تھا
قتیل شفائی اناکی جنگ ہار چکے ہیں، اور خود سے ہارے ہیں۔ کیا انہیں خودگر کہنا چاہیے؟ ؎
میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیلؔ
انا کی جنگ میں خود سے ہی ہار بیٹھا ہوں
احمد ندیم قاسمی کی انا ملاحظہ کیجئے ؎
مجھ کو توفیقِ سخن دیتی ہے ہمت میری
میری شہرت سے بڑی ہے میری انا کی قیمت
عامر امیرچالاک بندہ معلوم ہوتاہے اور سرپھر ابھی۔ پھر ا پھر اکربات کرتاہے، ملاحظہ کیجئے ؎
غرورپرور انا کامالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکاراتو میں تمہارا
وپل کمار کہہ رہے ہیں ؎
اتنا حیران نہ ہومیری اناپر پیارے
عشق میں بھی کئی خود دارنکل آتے ہیں
وپل کمار کے درج بالا خیال (اور دیگر معاملات) کومیرؔبیدری نے کچھ یوں بیان کیاہے ؎
ضروری ہے، ضروری ہے، ضروری ہے
انا کا سراٹھا نا بھی ضروری ہے
لیکن حفیظؔ میرٹھی کی انا کاحال کچھ اس طرح ہے، ایک بڑا شعر ایسا ہی ہوتاہے جو زندگی کی حقیقت بیان کرتاہے ، جانے کتنوں کے ساتھ یہ معاملہ ہواہوگا ؎
ہم ضرورت اور انا کی کشمکش دیکھاکئے
بھیک ٹھکرایاکئے، دامن بھی پھیلایاکئے
علی رضا اسیردنیا کی تعریف لے آئے ہیں ؎
ایک کلمہ انا پرستی کا
ایک حرف غرور ہے دنیا
حجاب عباسی کادعویٰ ہے کہ اس نے سارے جھگڑوں کاسبب سمجھ لیا ہے، فرماتی ہیں (اگر مردہوں تو معذرت) ؎
حجابؔ اس شہر نا پرساں میں سب جھگڑا انا کا ہے
سرور خود پرستی میں خودی کو کون لکھے گا
مگرتاج مہجور کایہ شعر EGOاور Self Respectکی بات کرتے ہوئے لوگوں کے رویہ کو بیان کرتاہے ؎
خود پرستی میں انا میں حد فاصل کھینچی
کتنے چہرے انہی آنکھوں نے اترتے دیکھے
دنیش ٹھاکر درج ذیل شعر میں کیاکہہ رہے ہوں گے؟ ؎
خود پرستی انا ہی کافی ہے
رخ ذرا بے نقاب ہو جائے
ذکی قاضی نوجوان شاعر ہیں، لیکن بات کہنے کاہنر جانتے ہیں، ان کایہ مطلع غضب کا ہے ؎
رہتے تھے ہم سے دورابھی کل کی بات ہے
رنجش، انا،فتور، ابھی کل کی بات ہے
شاید اسی بات کا بہنام احمد اقبال جرم کررہے ہیں۔ مگر آنکھوں کی سرخیاں تو دوسری کہانی پیش کررہی ہیں جس کو وفا راس نہ آئے ان کی آنکھیں ایسی کہانی لکھتی ہیں ؎
آنکھوں کی سرخیوں میں چھپا کر وفا کا رنگ
کچھ سلسلے انا کے بڑھانے لگا ہوں میں
اختر ملک(یاکسی اور شاعر؟) کا پیار اسا شعر ہے ؎
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
جاوید مشیری بھی شاید اختر ملک کی بات کو قبول کر کہتے ہیں ؎
جھوٹے وقار جھوٹی انا کے شکار تھے
ہم بزدلوں سے کھل کے بغاوت نہ ہوسکی
جاوید مشیری نے انا والا مضمون کہاں سے جوڑ دیا۔ کتنی نفیس بات کہہ دی، واہ صاحب۔
ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کاکہناہے ؎
خاک کر دیتے ہیں روابط کو
آگ شعلے انا کے ہوتے ہیں
ایک اور شعر میں ڈاکٹر راہی ؔ نے نصیحت کی ہے ؎
جوق در جوق بہت لوگ آتے جاتے
تم جو دیوارِ انا اپنی گراتے جاتے
ذکی قاضی کافرمان مکمل جو ہے، کاش!اس فرمان پر عمل ہو ؎
کسی روز پھر سے جلا دے نہ دل کو
یہ شعلے انا کے بجھاؤ مکمل
لیکن اس افسوسناک حقیقت کابھی وہ انکشاف کررہے ہیں کہ ؎
ہم بھٹکتے ہی رہیں گے پیہم
جب تلک ساتھ انا ہے صاحب
اکرام مجیب کہتے ہیں ؎
سب انا پرستی کی مسندوں پہ ہیں فائز
سر کرے کڑی منزل کون خاکساری کی
وفا نقوی کایہ شعر اچھا لگتاہے کیوں کہ اس میں زمین اورآسمان کی مثال دی گئی ہے ؎
زمیں اٹھے گی نہیں آسماں جھکے گا نہیں
انا پرست ہیں دونوں کے خاندان بہت
علی رضا اسیرکاوقار دیکھئے ؎
ہم ہیں انا پرست نہیں خلعتیں پسند
کیوں دوش پر عطائے سلاطیں اٹھائیے
مرزاؔچشتی صابری نظامی کاکہناہے ؎
ہے مشرکوں کی پہچان انائے نفسانی
اور موحدوں کی پہچان انائے روحانی
عابد کاظمی نے اس شعر میں کیا کہاہے، اس کی تشریح مرزا ؔ صاحب جیسے افراد ہی کرسکتے ہیں، یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعر بیچارا نئے مضامین لاتے لاتے پھنس گیا ؎
خدا کو مان کے خود کو خدا سمجھتا ہے
انا پرستی سراسر ہے بندگی کیا ہے
حسین خاں دانشؔ کی دانش مندانہ خواہش کچھ یوں ہے ؎
انا پرستی کے جو توڑ دے گھروندوں کو
مجھے خلوص کی وہ موج بے کراں کر دے
معید رہبر لکھنوی بھی کچھ کہہ رہے ہیں ؎
انا پرست ہوں مل جاؤں خاک میں لیکن
خرید سکتا نہیں کوئی مال زر سے مجھے
لیجئے مرتضیٰ اشعرکی اناپرستی کو ؎
انا پرست تو ہم ہیں غرور کس کا ہے
مبارزت کے عمل میں قصور کس کا ہے
مگر حنا امبرین طارق کہتی ہیں ؎
گو ہے انا پرست مگر دوست بھی تو ہے
دل کو یہ سوچ کر ہی کشادہ ہے کر لیا
کچھ مزید اشعار درج ذیل ہیں، ملاحظہ فرمائیں ؎
ویران گھر ہمارے بلا سے نہیں ہوئے
بیزار دل ہمارے انا سے نہیں ہوئے
ذکی قاضی
اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہے
خود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو
حبیب جالب
انا پرست ہیں تہہ داریوں میں جیتے ہیں
یہاں تو رونا بھی پڑتا ہے مسکراتے ہوئے
نور الحسن نور
کہہ دو انا پرست سے احیاؔ کہ جلد ہی
میں اور ہم کے درمیاں آئے گا آئینہ
احیاء بھوجپوری
عدو نے ہم سے ہمارا غرور مانگا تھا
انا پرست تھے ہم زندگی کو بھول گئے
شعیب بخاری
جتنے انا پرست ہیں محفل میں ان سے ہم
ہرگز اٹھے نہ ہاتھ ملانے کے واسطے
نیلیندر رانا
تو بھی انا پرست ہے سو کھولتا نہیں
اور ہم بھی تیرے در سے کہیں ہل نہیں رہے
سدھارتھ سازؔ
میں منا تو لوں گا اسے مگر وہ انا پرست
مری سمت اب کسی حال میں نہیں آئے گا
قمر رضا شہزاد
ہم تھے انا پرست سو روکا نہیں اسے
پر اس کے لوٹ آنے کی خواہش میں مر گئے
مادھوی شنکر
کوئی بھی پہل نہ کرنے کی ٹھان بیٹھاتھا
اناپرست تھے دونوں، مفاہمت نہ ہوئی
اعزاز احمد آذرؔ
جس میں راہی انا پرستی ہو
وہ کرے گا بھلا اطاعت کیا
ڈاکٹر یاسین راہی
انا کا یہ چولا جو پہنا ہوا ہے
اسے اپنے تن سے ہٹانا پڑے گا
ڈاکٹر یاسین راہی
خودی سے متعلق اشعار:۔
مضمون کے آغاز میں ہم نے بتایاہے کہ انا کے مقابل خودی کواہمیت حاصل ہے۔ انا منفی جذبہ ہے اورخودی مثبت ومحترم اور مطلوبہ جذبہ ہے۔ اسی خودی کی بابت چند شعر ملاحظہ فرمائیں تاکہ انا سے آگاہی کا عالمی دن کامقصد پور اہوسکے۔ خودی سے متعلق جو درس علامہ اقبال نے پڑھایاہے وہ کسی نے نہیں پڑھایا۔ گویا خود ی کاسبق علامہ کی یونیورسٹی میں ہی اعلیٰ پیمانے پر حاصل کیاجاسکتاہے۔ یہ تو سبھی کو پتہ ہے کہ علامہ اقبال کہتے ہیں ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
وہ یہ بھی کہتے ہیں ؎
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
اپنے فرزندسے انھوں نے کہاتھاتو غلط نہیں کہاتھا ؎
مراطریق امیری نہیں فقیری ہے
خود نہ بیچ غریبی میں نام پیداکر
اگر علامہ کہہ رہے ہیں تو غلط نہیں کہہ رہے کہ ؎
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
علامہ اقبال اپنی نظم ”طلوع اسلام“ میں لکھتے ہیں
تورازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کاراز داں ہوجا، خدا کا ترجماں ہوجا
خدا کاترجماں ہونا خود ی کی انتہا ہوسکتی ہے۔ اس انتہاتک پہنچنے کے لئے انتہائی کمالات آدمی میں ہونے چاہیے۔ یوں بھی انسان کمالات کامجموعہ ہے جس نے فرشتوں کوشکست دی، کمال اس کے پاس نہ ہوگاتو کیافرشتوں کے پاس ہوگا۔قرب خداوندی میں بندگی کرلی، یہ کیابات ہوئی، پاکیزگی ہے، موقع محل ہے۔ کوئی فتنہ قریب نہیں لیکن یہاں انسان کے ہاں تو پوری دنیا ایک فتنہ بنی ہوئی ہے۔ اوراس دنیا میں قدم قدم پر کئی فتنے سراٹھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود بھی خداکاترجماں بننا، یہ کوشش سے نہیں پروردگار کی نوازش سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا ترجماں بنادے۔ ہماری آنے والی نسلوں کواپنا ترجمان رکھے۔ آمین۔ علامہ اقبال لاالہ الااللہ کوسمجھاتے ہوئے خودی کافلسفہ پیش کررہے ہیں ؎
خود ی کاسرنہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
الطاف حسین حالی ؔ جیسی شخصیتکاکہناہے ؎
ہیں دورِ جام اول شب میں خود ی سے دور
ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
ساحرؔلدھیانوی کی چیخ وپکار دراصل ترقی پسندوں کی چیخ وپکار ہے۔ ملاحظہ کیجئے ؎
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
ناطق گلاوٹھی کہتے ہیں ؎
ہمیں کم بخت احساس خودی اس در پہ لے بیٹھا
ہم اٹھ جاتے تو وہ پردہ بھی اٹھ جاتا جو حائل تھا
یہ دواشعار بھی پڑھ لیجئے گا ؎
چھوڑا نہیں خودی کو دوڑے خدا کے پیچھے
آساں کو چھوڑ بندے مشکل کو ڈھونڈتے ہیں
عبد الحمید عدم
بہ قدر پیمانہ ء تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا
جمیلؔ مظہری
رمز ؔعظیم آبادی کاایک بڑا شعر ملاحظہ فرمائیں، اسی کے ساتھ ہم اپنی آخری بات کی طرف آتے ہیں ؎
مری انا نے سبق دے کے خود پرستی کا
چھڑا دیا ہے زمانے کی بندگی سے مجھے
اپنی انا کے سخت خول سے نکلیں:۔مختصر طورپر یہ کہ اپنی انا کوچھوڑنے کی کوشش ہو۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنانہیں ہے۔ اصولوں پر چلناہوگا لیکن ذیلی یا کم اقدار رکھنے والے بیکار قسم کے اصولوں کودیوار پر دے مارنا بھی ضروری ہے۔ اپنے بڑوں سے ناطہ جڑا رہے۔ ان کی تربیت یافتہ انا کو تسکین پہنچاسکتے ہیں تو ایسا ضرور کریں۔ کیوں کہ بڑوں کے پاس اگر انا ہوتی ہے تو اس کاجواز بھی ہوتاہے۔ چھوٹوں کے پاس عموماً انانیت برتنے کے لئے اصول، ضابطہ، یاکلیہ نہیں ہوتا۔ حجتیں بڑوں کے ہاں کام نہیں آتیں۔ یہاں حجت تمام کرنے کے بعد بھی بڑوں کے دیار سے چلے جانا یا ان سے قطع تعلق کرلینا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ آپ صحیح ہوسکتے ہیں، لیکن اتنے بھی صحیح نہیں ہوسکتے کہ بڑوں کے بغیر زندگی گزارنے کاقدم اٹھائیں۔ بہرحال اپنی انا (EGO)کے دام سے باہر آنا اورساتھ ہی ساتھ خودشناسی کواہمیت دینا، اور ان دونوں کام میں توازن قائم رکھنے کاحلف لینا انا سے آگاہی کے عالمی دن (11/مئی) کے موقع پر ضروری ہے۔ اللہ کرے ہماری انانیت ختم ہو۔ ہمارے نوجوانوں کی انانیت ختم ہو۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو آپسی تال میل کی توفیق ملے۔ اور ہم انسانیت کو اناکی زہر ناکی سے آگاہ کریں، اس کی خرابیوں کے پہلوسے بچنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ آمین
Comments
Post a Comment