منترالیہ میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی زبردست نمائندگی, ٹیچر بھرتی،اسکول گرانٹ،مردوم شماری،شکشن سیوک، اساتذہ ٹریننگ،ودربھ اسکول، سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو و فیصلہ۔
ممبئی : مورخہ 26 مئی 2026 کو اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138کے بانی ساجد نثار احمد نے منترالیہ ممبئی میں وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب سے خصوصی ملاقات کرکے ریاست بھر کے اساتذہ، طلبہ، اردو میڈیم اسکولوں، اقلیتی اداروں اور ٹیچر بھرتی سے متعلق مختلف اہم مسائل پر تفصیلی یادداشتیں پیش کیں نیز مختلف فیصلے لیے گئے۔اس موقع پر وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب، سیکریٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول صاحب، نائب سیکریٹری پروشوتم کالے صاحب، ماکنے صاحب اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔
🔹 TAIT-2025 ٹیچر بھرتی پر اہم میٹنگ
میٹنگ میں پویتر پورٹل پر ریاست کی پرائمری، سیکنڈری اور اردو میڈیم اسکولوں کی زیادہ سے زیادہ خالی اسامیوں کو فوری اپلوڈ کرنے، روسٹر جانچ مکمل کرنے اور بندو ناماولی کی تصدیق کرکے بھرتی عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے مطالبہ کیا نے مطالبہ کیا کہ:
▪️ تمام ضلع پریشد، میونسپل کارپوریشن، نگر پالیکا اور مقامی خود اختیاری ادارے فوری طور پر خالی اسامیاں پویتر پورٹل پر درج کریں
▪️ بی ایم سی اور دیگر میونسپل اردو اسکولوں کی خالی اسامیوں کو خصوصی ترجیح دی جائے
▪️بندو ناماولی اور ریزرویشن جانچ کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کیا جائے
▪️ خالی اسامیاں چھپانے یا تاخیر کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے
▪️ جون 2026 سے پہلے زیادہ سے زیادہ اسامیاں بھرتی عمل میں شامل کی جائیں
▪️ پویتر پورٹل کی تمام معلومات شفاف اور عوامی رکھی جائیں
▪️ اردو میڈیم اسکولوں کے لیے خصوصی بھرتی مہم چلائی جائے،تعلیمی سیکریٹری رنجیت سنگھ دیول صاحب کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں تمام اداروں کو احکامات جاری کرنے اور خالی اسامیوں کی اشتہاری مدت میں توسیع دینے کے تعلق سے فیصلہ لیا گیا ،
🔹 2022 TAIT ٹیچر بھرتی کے متعلق اہم فیصلہ ،
ساجد نثار احمد نے وزیر تعلیم دادا جی بھوسے صاحب، سیکریٹری تعلیم رنجیت سنگھ دیول صاحب، نائب سیکریٹری پروشوتم کالے صاحب اور ماکنے صاحب کے ساتھ خصوصی میٹنگ کرکے 2022 TAIT بھرتی کے اہم مسائل پیش کیے۔
اس دوران :
▪️ اپاتر امیدوار
▪️ غیر حاضر امیدوار
▪️ سابق فوجی امیدوار
▪️ اور 10 فیصد خالی اسامیوں کے راؤنڈ
کو فوری منظوری دینے کا مضبوط مطالبہ کیا گیا۔ بعض افسران 2022 ٹیچر بھرتی عمل بند کرنے کے موقف میں تھے اور کچھ فائلیں بند کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں، مگر اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 نے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔بانی ساجد نثار احمد نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے تمام فائلیں دوبارہ شروع کرکے امیدواروں اور طلبہ کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا،افسران کی جانب سے اگلے دو دنوں میں مثبت جواب دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جبکہ عدالت کے فیصلے کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے امیدواروں سے اپیل کی :
“مایوس نہ ہوں، آپ کے مستقبل کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے۔”
🔹 TET مقدمہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے تک تحفظ کا مطالبہ
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے آخری فیصلے تک :
▪️ اساتذہ پرموشن میں سینیئر اساتذہ کے ساتھ نا انصافی نا ہونے چاہیے ورنہ تحریک چلائی جائے گی، دو سال کی مدت دے کر اساتذہ کو پرموشن دیا جائے ▪️ TET کی بنیاد پر انتظامی کارروائی نہ کی جائے
▪️ اساتذہ کی سینارٹی، تنخواہ اور سروس حقوق محفوظ رکھے جائیں
▪️ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کو واضح احکامات جاری کیے جائیں
🔹 اساتذہ، طلبہ اور اسکولوں کے مختلف مطالبات
وزیر تعلیم کے سامنے درج ذیل مطالبات بھی پیش کیے گئے :
📚 تمام میڈیم کے طلبہ کو تعداد کے مطابق درسی کتابیں فوری فراہم کی جائیں
🏥 31 مارچ کے بعد منظور شدہ اساتذہ کے میڈیکل بل فوری ادا کیے جائیں
🎓 دوسری، تیسری اور چوتھی جماعت کی تربیت اسکول کھلنے سے پہلے منعقد کی جائے
👨🏫 خالی گریجویٹ، مرکز پرمکھ، ہیڈماسٹر اور ایجوکیشن ایکسٹینشن آفیسر کی اسامیاں فوری بھری جائیں
🔹 میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اسکیم جاری رکھنے کا مطالبہ
100 فیصد امدادی اور ضلع پریشد اسکولوں کے اساتذہ و غیر تدریسی عملہ کے لیے 5 لاکھ روپے تک کی میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اسکیم بند نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ساجد نثار احمد نے کہا :
▪️ ABHA کارڈ اور آیوشمان بھارت اسکیم خوش آئند ہے
▪️ مگر تمام بڑے اسپتال ابھی اسکیم سے منسلک نہیں
▪️ دیہی اور دور دراز علاقوں میں سہولیات ناکافی ہیں
▪️ اس لیے پرانی میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اسکیم بھی جاری رکھی جائے
🔹 اقلیتی اداروں کے لیے خصوصی یادداشت
اقلیتی ترقیاتی محکمہ کو 2025-26 بنیادی سہولیات گرانٹ اسکیم کے تحت تمام اہل اقلیتی اسکولوں، جونیئر کالجوں، آئی ٹی آئی، نگر پالیکا اور معذور اسکولوں کو منصفانہ انداز میں گرانٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
🔹 شدید گرمی کے باعث ودربھ میں اسکول یکم جولائی سے شروع کرنے کا مطالبہ
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138نے وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب اور محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ودربھ خطہ میں شدید گرمی، پانی کی قلت، بار بار لوڈشیڈنگ اور ہیٹ اسٹروک جیسے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 15 جون کے بجائے اسکول یکم جولائی سے شروع کیے جائیں۔ ساجد نثار احمد نے کہا کہ دیہی علاقوں کی کئی اسکولوں میں پینے کے پانی کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے جبکہ مسلسل بجلی بند رہنے سے طلبہ کو کلاس روم میں بیٹھنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔چھوٹے بچوں میں گرمی کی وجہ سے چکر آنا، تھکن، ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے والدین میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ساجد نثار احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی صحت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اسکول شروع ہونے کی تاریخ 15 جون کے بجائے یکم جولائی مقرر کی جائے۔
🇮🇳اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی ساجد نثار احمد نے ڈاکٹر نروپما ڈانگے سے ملاقات کرکے مردم شماری کے تمام شمار کنندگان، نگران اور اہم تربیت کاروں کے لیے 50 لاکھ روپے بیمہ تحفظ اور 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
🔹 جماعت 6 تا 8 کے تمام گریجویٹ اساتذہ کو گریجویٹ پے اسکیل دینے کا مطالبہ
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138نے وزیر تعلیم جناب دادا جی بھوسے صاحب اور محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت 6 تا 8 میں خدمات انجام دینے والے تمام تربیت یافتہ گریجویٹ مضمون اساتذہ کو ناگپور ہائی کورٹ کے 8 مئی 2026 کے تاریخی فیصلے کے مطابق یکساں طور پر گریجویٹ پے اسکیل نافذ کیا جائے۔ ساجد نثار احمد نے کہا کہ 2016 کے حکومتی سرکیولر کی وجہ سے مساوی تعلیمی قابلیت، مساوی ذمہ داری اور مساوی تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے درمیان ناانصافی اور امتیازی سلوک پیدا ہوا ہے۔ناگپور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ “Equal Pay for Equal Work” یعنی “یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ” آئینی اصول ہے اور حکومت کے سابقہ فیصلے کا متعلقہ حصہ امتیازی قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ :
▪️ جماعت 6 تا 8 کے تمام مضمون اساتذہ کو بلا تفریق گریجویٹ پے اسکیل دیا جائے
▪️ تقرری کی تاریخ سے بقایاجات ادا کیے جائیں
▪️ ریاست بھر میں یکساں عمل درآمد کے لیے فوری حکومتی فیصلہ جاری کیا جائے
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138نے امید ظاہر کی کہ حکومت اساتذہ کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر مؤثر عمل درآمد کرے گی۔
🔹 گیارہویں داخلہ عمل میں اضافی نشستوں کا مطالبہ
ساجد نثار نے مطالبہ کیا کہ :▪️ تمام جونیئر کالجوں کو 10 فیصد سے زائد اضافی داخلے کی اجازت دی جائے
▪️ اردو میڈیم اور اقلیتی اداروں کو مینجمنٹ کوٹہ میں خصوصی رعایت دی جائے
▪️ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو اضافی نشستیں دی جائیں
🔹 دسویں اور بارہویں مارک شیٹ میں نام کی ترتیب پر نظرثانی کا مطالبہ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے کہا کہ نام کی ترتیب بدلنے سے طلبہ کو مستقبل میں قانونی، تعلیمی اور سرکاری دستاویزات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، اس لیے پرانی ترتیب برقرار رکھی جائے۔
🔹 کمبھ میلہ کے دوران مالیگاؤں میں خصوصی کیمپ کا مطالبہ
ناسک میں کمبھ میلہ کاموں کے سبب سفر میں دشواریوں کو دیکھتے ہوئے ضلع پریشد ایجوکیشن محکمہ اور دیگر دفاتر کے افسران کو مالیگاؤں میں خصوصی کیمپ منعقد کرکے درخواستیں اور تنخواہ بل قبول کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
🔹 مرحلہ وار گرانٹ میں اضافہ کا مطالبہ
ریاست کی تمام سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے لیے :
20% سے 40%
40% سے 60%
60% سے 80%
80% سے 100%
تک مرحلہ وار گرانٹ فوری منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا،
🛸 شکشکن سیوک ماندھن واڑ،
ریاست مہاراشٹر میں تمام شکشکن سیوکوں کے ماندھن میں اضافہ کیا جائے نیز شکشکن سیوک مدت ایک سال کی جائے اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی جانب سے پر زور کیا گیا ،ائندہ اجلاس میں فیصلہ لینے کا اعلان کیا گیا،یہ تمام مطالبات اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی جانب سے منترالیہ ممبئی میٹنگ میں کیا گیا ہے اور چند مطالبات منظور کرایا گیا ہے ،
Comments
Post a Comment