ماں۔ بچوں کی نظر میں (مدرڈے،10/مئی کے حوالے سے)۔ محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔


ماں۔ بچوں کی نظر میں (مدرڈے،10/مئی کے حوالے سے)
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
موبائل:9845628595 

ماں کاتعلق بچوں سے ہوتاہے۔ اور بچوں کاتعلق بھی ماں سے بڑا جذباتی اور رونے رلانے کاہوتاہے۔ ماں جدھر بچے اُدھرہوتے ہی۔وہ بچے چاہے مرغی کے ہوں یا انسان کے بچے۔ ماں کوچھوڑ کر بچہ رہ نہیں سکتا۔ اورماں بھی بچوں کے بناایک پل سانس نہیں لے سکتی۔ جن کے بچوں کوتعلیم یافتہ سیاسی قیادتوں نے جنگوں کے چلتے مارڈالا، ان کی مائیں زندہ لاشیں بنی دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں چل پھر رہی ہیں۔ان کو دیکھنے کے لئے عالمی سطح پر کچھ ہورہاہوتو ہو، اس کی گونج سنائی نہیں دیتی۔
اسی طرح جو مائیں اولڈ ایج ہوم میں دولت مند بچوں کے ہوتے ہوئے بھی پل رہی ہیں، ان پر ہماری مہذب دنیا کچھ نہیں کہتی۔ان اولادوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی یا سماجی کارروائی نہیں کرتی۔ بہرحال مسائل کے ان انبار کے درمیان 10/مئی کوMother Day(یوم ِ مادر/ماں کادِن) منایاجارہاہے۔ اس موقع پر ہم نے سوچاکہ ماں کے بارے میں دنیا کے معروف لوگوں کے اقوال توپڑھ اور سن چکے ہیں۔ چوں کہ ہماراملک ایک جمہوری ملک ہے، جس میدان میں بھی عوام سے جس قدر قربت ہوگی وہ میدان اس قدر جمہوری کہلائے گا۔ ہم نے مناسب سمجھاکہ سماج کے مختلف میدانوں سے وابستہ افراد سے ان کی والدہ یا پھر عمومی طورپر ”ماں“ جیسی مقدس ہستی کے بارے میں ان کے خیالات جان لیں۔ اس ضمن میں 101افراد سے رابطہ کیاگیا۔ درج ذیل افرادنے اپنے تاثرات،اور خیالات روانہ کئے ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔ ہمار اخیال ہے کہ یہ خیالات ماں کی عظمت کو بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی بچوں کی ماں سے اٹوٹ وابستگی کو بھی پیش کرتے ہیں۔ جب تک انسان اپنے والدین کااحترام کرتارہے گا، اس میں انسانیت، شرافت اور نیکی باقی رہے گی۔ اللہ کرے انسان شرف ِ انسانیت سے ہمیشہ وابستہ رہے۔ آئیے، یوم والدہ کے موقع پر والدہ سے متعلق مختلف افراد کے خیالات جانتے ہیں۔   
  صابر عالم:۔ غلام شفیع صابر عالم کا تعلق ورنگل (تلنگانہ) سے ہے۔ سنسکرت پنڈت ہیں۔ اسلام کے داعی ہیں۔ شاعر ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ ”ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، جس کی دعا تقدیر بدل دیتی ہے، جس کی آغوش انسان کی پہلی پناہ گاہ اور جس کی گود دنیا کا پہلا مدرسہ ہوتی ہے۔ انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے جس چہرے کی روشنی اس کی آنکھوں میں اترتی ہے، وہ ماں کا چہرہ ہوتا ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ محبت، ایثار، قربانی، شفقت اور بے لوث وفا کا ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ماں اپنے کردار، گفتار اور عمل سے اولاد کی شخصیت تعمیر کرتی ہے۔ وہ صرف بچوں کو بولنا نہیں سکھاتی بلکہ جینا، محبت کرنا، عزت دینا، سچ بولنا اور انسان بننا بھی سکھاتی ہے۔وہ اپنے آنسو چھپا کر بچوں کو ہنساتی ہے اور اپنے خواب قربان کرکے ان کے مستقبل کو سنوارتی ہے۔افسوس کہ آج کے مادی دور میں بعض لوگ ماں کی محبت اور قربانیوں کو فراموش کرتے جارہے ہیں۔ بڑھاپے میں وہی ماں، جو کبھی بچوں کے لیے سایہ ء رحمت تھی، تنہائی اور بے توجہی کا شکار ہوجاتی ہے۔ حالانکہ ماں صرف خدمت کی نہیں بلکہ محبت، احترام اور احساس کی بھی حق دار ہے۔ اس کے چہرے کی ایک مسکراہٹ اولاد کے لیے دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ہونی چاہیے۔
 رفیع بھنڈاری:۔ راجیوتسوا یوارڈ یافتہ اردو صحافی جناب رفیع بھنڈاری کاتعلق عادل شاہی حکمرانوں کے تاریخی شہر بیجاپور سے ہے۔ انھوں نے اپنی والدہ کے بارے میں لکھاہے ”میری پیاری ماں مرحومہ محبوب بی نیک محنت کش دیندار خاتون تھی۔ان کی محنت کا نتیجہ اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے آج مجھے چند اچھے اور ٹھوس کاموں کو کامیابی کے ساتھ خصوصی طور پر صحا فت کے میدان میں لوہا منوا نے کا مو قع مل رہا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے“
 ذکی قاضی:۔ سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میری والدہ مرحومہ کا کمپنی کی مجبوریوں کی وجہہ سے آخری دیدار بھی کر نہیں سکا۔ والدہ مرحومہ کے لئے دومختلف موقع پر انھوں نے اشعار کہے جو درج ذیل ہیں  ؎
موت کو شرمسار کرنا تھا
دو گھڑی انتظار کرنا تھا
مجھ سے ملنے کی تم دعارب سے
اک نہیں بار بار کرنا تھا
ماں تمہیں انتظار کی گھڑیاں 
میری خاطر شمار کرنا تھا
حسرت دید کو مری پوری
میرے پرور دگار کرنا تھا
دوسری دفعہ کہے گئے منتخبہ اشعار   ؎
جب تلک تو پاس تھی میں جی رہا تھا پرسکوں 
ہر قدم پر اب ہے مشکل ماں ترے جانے کے بعد
ناز ہے ہم کو مقدر پر ہمیں اب رات دن
پیار بہنا کا ہے حاصل ماں ترے جانے کے بعد
چلتے پھرتے ہر دعا میں تجھ کو یہ تیرا ذکیؔ 
کر رہا ہے روز شامل ماں ترے جانے کے بعد
انجینئر مبشرسندھے:۔ کاتعلق تعلیم، انجینئرنگ اور سماجی خدمات سے ہے۔ان کامشاہدہ ہے کہ ”کئی مسلم مائیں اولڈ ایج ہومز میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحہ ء فکریہ ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اولاد کی صحیح تربیت کا فقدان ہے۔یہ ذمہ داری گھر، مدرسہ اور پورے مسلم معاشرے کی ہے کہ وہ نئی نسل کی تربیت میں ان اقدار کو شامل کرے اور اس بات کا مسلسل جائزہ لیتا رہے کہ ہمارے بچوں کے دلوں میں والدین، خصوصاً ماں کے لیے احترام اور محبت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں“
 رخسانہ نازنین:۔ رخسانہ نازنین اردو افسانے کا اہم نام ہے۔ دوافسانوں کے مجموعوں پر انعام بھی حاصل کیاہے۔ وہ کہتی ہیں ”میری آنکھیں نم ہوگئیں کہ میں کیا لکھوں اس عظیم ہستی کے بارے میں جو میری زندگی تھیں۔ جن کے وجود سے میری زندگی میں بہار تھی۔ مشیت الٰہی سے انکو جنت مکاں ہوئے دس سال بیت گئے مگر لگتا ہے وہ آج بھی ہر لمحہ میرے ساتھ ہیں،  میرے پاس ہیں، مجھے دیکھ رہی ہیں، میری خوشیوں پر مسکرا رہی ہیں اور میرے غمگین ہونے پر آنسو بہا رہی ہیں۔ تمام عمر کی انکی ریاضت کا ہر لمحہ میرے ذہن ودل میں نقش ہے کہ ایک معذور بیٹی کی پرورش جو کسی آزمائش سے کم نہ تھی انہوں نے اس خوشدلی سے کی کہ کبھی کوئی محرومی کا احساس نہ ہوپایا۔ اللہ تعالی انکے لئے جنت کے محل آراستہ کرے۔ انہیں بہشتی لباس پہنائے۔ حوریں انہیں آراستہ کریں جیسے انہوں نے مجھے آراستہ کئے رکھا۔ صبر وایثار کا پیکر میری امی نہ صرف ایک بہترین ماں تھیں بلکہ ایک وفا شعار خدمت گزار بیوی اور بہو بھی تھیں۔ بیٹی کے ساتھ نواسے کو بھی ناز ونعم میں پروان چڑھایا۔ غرض خود کو سب کی خدمت کے لئے وقف کئے رکھا۔ 
آصف بالسنگ بیجاپوری:۔جناب آصف بالسنگ عادل شاہی سلاطین کے سابقہ پایہ ء تخت بیجاپور(موجودہ نام ویجاپور) سے ہیں۔ پیشہء تدریس سے وابستگی ہے لیکن ادبی خدمات کیلئے ہمیشہ پیش پیش اور حاضر رہتے ہیں۔ اردو ادب سے ان کی بے لوث اوربلاشرط وابستگی انھیں نیک جہدکاروں میں شمار کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”ماں ممتا کی وہ عظیم مورت ہے جس کی محبت دنیا کی ہر محبت سے پاکیزہ، بے لوث اور لازوال ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتی ہے اور اپنی ہر خوشی اُن پر قربان کر دیتی ہے۔زندگی کے مصائب، پریشانیوں اور دشوار کن حالات میں تمام رشتے کہیں نہ کہیں ا ورکسی نہ کسی بہانے قطع تعلق کوغنیمت و حکمت سمجھتے ہیں ایسے میں ماں ہی دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد کو کبھی تنہا، بے بس اور لاچار نہیں ہونے دیتی۔ وہ پہاڑ بن کر اپنے بچوں پر آنے والے ہر طوفان اور ہر تلاطم کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔ زمانے کی سختیاں ہوں یا حالات کی آندھیاں، ماں خود اُن سے ٹکرا جاتی ہے مگر اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتی۔ 
 جناب ابوالحسن قادری:۔ پیشہ سے لیب ٹیکنیشن ہیں۔ وہ اپنی ماں کی بابت بتاتے ہیں ”ماں وہ دعا ہے جو ہر درد میں سکون بن جاتی ہے۔ میری ہر کامیابی کے پیچھے ماں کی محبت چھپی ہوئی ہے۔ ماں کی مسکراہٹ میرے دل کا سب سے خوبصورت سکون ہے۔ امی آپ کے بغیر زندگی ادھوری سی لگتی ہے۔ قرأت سے قرآن پڑھنا کی  آپ کی وہ آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ اور آپ کو دینی کتابوں 
سے ہمیشہ لگاؤ رہا۔ آخری لمحوں تک علم حاصل کرنا اورآپ کا علم بتلانا یاد آتاہے“
محترمہ سیدہ وسیم بانو(ماہر تعلیم):۔  ماں دنیا کا سب سے مقدس رشتہ ہے۔ اس رشتہ کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ کوئی رشتہ انمول ہوگا جب تک امی زندہ تھے تو زندگی کبھی ایسی بوجھ نہیں لگتی تھی۔ مجھے کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ مائیں بیٹیوں کے اندر ہی رہتی ہیں ہم ہر بار خود سے باتیں کرتے رہتے ہیں امی ایساکہتے تھے، امی ایسا کرتے تھے اور ایک بات تو یقیناً ہے کہ جو سکون امی کے ساتھ ملتا تھا وہ کہیں نہیں ملتا۔
طاہر حسین ایڈوکیٹ:۔ بھائی طاہر حسین ایڈوکیٹ کبھی شاعری کیاکرتے تھے۔ چھوڑ دیا۔ اور عوام کے سیاسی مسائل حل کرنے میں لگ گئے۔ لیکن اپنی دکنیت کو نہیں چھوڑ ا۔ان کی دکنی ملی یہ تحریر ملاحظہ کیجئے۔ماں کی عظمت کوبیان کرتی ہے اور دل کوچھو بھی لیتی ہے۔ ”میرے امی صبر کا پیکر،سادگی کا اعلیٰ نمونہ،انتہائی رحم دل۔جب سے اُن کو دیکھا ہے یہی صفات پائے ہیں۔ہر ایک کی غلطیوں کو چھپانے
 والے حتیٰ کہ اپنی بہووں کی خامیوں پر بھی پردہ ڈالنے والے۔میری امی جیسی کم ہی ہستیاں ہوتی ہیں۔اللّٰہ انکی عمر دراز فرمائے صحت و عافیت کے ساتھ۔آمین“
 ڈاکٹر منظور دکنی:۔ گلبرگہ یونیورسٹی میں اردومضمون پڑھاتے ہیں۔ قلم اوراس کی مسند سنبھالے ہوئے عرصہ بیتا۔کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں۔ کم بولنا مزاج کا حصہ ہے۔ ماں کے بارے میں اظہار کے لئے کہاگیاتو ایک جملہ نثر کاکہااور ایک شعر پڑھ دیا۔ دل جب دُکھاہوتاہے، تو الفاظ کم ہوجاتے ہیں لیکن ان میں تاثیر زیادہ ہوجاتی ہے۔ اب نثری اور شعری میل دیکھئے اور اندازہ کیجئے کہ ماں کادُکھ کس قدر سرایت کرچکاہے ۔ ڈاکٹر منظور دکنی نے انتہائی اختصار کے ساتھ بتایاکہ ”میری والدہ صابرہ و شاکرہ خاتون تھیں“  ؎
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ ء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
مستقیم خان:۔ جناب مستقیم خان چار ریاستوں سے شائع ہونے والے روزنامہ ”سیاسی تقدیر“ کے مدیرہیں۔ ہمارے صحافتی رہنمااور محسن ہیں۔ وہ ماں سے متعلق کہتے ہیں ”اسلام نے ماں کو وہ مرتبہ دیا جو کسی اور رشتے کو نصیب نہیں۔ قرآن میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم بار بار آیا، مگر ماں کی تکلیف کو خاص طور پر بیان کیا گیا”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا“ ماں صرف ایک گھر نہیں بناتی، پوری نسل بناتی ہے۔ نیپولین نے کہا تھا:”تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا“۔انھوں نے آگے مشورہ دیاہے کہ ”ہمیں چاہئے کہ ہم دن میں کم از کم 30 منٹ ماں کے ساتھ بیٹھیں، ان کی بات سنیں۔بڑھاپے میں ماں کی وہی خدمت کریں جیسی بچپن میں انہوں نے ہماری خدمت کی تھی۔ماں کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی ہے۔ماں کی دعاء تقدیر بدل دیتی ہے۔ ماں کا قرض ہم کبھی نہیں چکا سکتے“
ڈاکٹر فہیم الدین حیدر آباد، مدیراعلیٰ سہ روزہ دعوت دہلی:۔ ہمارا خاندان بہت بڑا تھا، ہم پانچ بھائی اور پانچ بہن جملہ دس لوگ تھے۔گھر کی چار دیواری میں دس بچوں کی پرورش ایک الگ محاذ تھا۔ یہ سن کر ہی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امی کی زندگی مصروفیات سے کتنی بھری ہوئی تھی۔ ایک جانب گھر اور خاندان کی بھاری ذمہ داریاں، دوسری جانب دینی خدمات، اور ان سب کے بیچ دس بچوں کی بہترین اخلاقی و دینی تربیت! یقیناً امی کے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہیں تھی، بلکہ سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل تھا جو یہ تڑپ رکھتا تھا کہ میری اولاد دین دار، باکردار اور اللہ والی بنے۔ انہوں نے اپنے ہر بچے کو وقت دیا اور بنا کسی حرفِ شکایت کے سب کی ضروریات کا خیال رکھا۔ وہ صبر و رضا کا ایک ایسا کوہِ گراں تھیں کہ انہیں دیکھ کر خود ہمیں ہمت ملا کرتی تھی۔ ان کا اپنے رب پر توکل اس قدر پختہ تھا کہ بیماری کی شدید ترین تکلیف میں بھی بس یہی کہتیں، ”اللہ جو کرے گا، بہتر کرے گا“آج جب میں امی کے چہرے کو دیکھتا ہوں، تو سوچتا ہوں کہ ایک تنہا عورت نے اپنے اندر کتنی ہی زندگیاں جی لی ہیں۔اپنے دس بچوں کی شفیق ماں، 
بے شمار لڑکیوں کی مہربان ”چچی ماں“، دین کی ایک سچی اور مخلص داعیہ، ابا جان کی ایک باوفا رفیقِ حیات، اور ایک ایسی مجاہدہ جس نے کینسر جیسے جان لیوا مرض کو بھی ہرا دیا۔ یہ سب کچھ انہوں نے کسی دنیاوی صلے، تمغے یا واہ واہ کے لیے نہیں کیا، بلکہ یہ سب ان کی فطرت، ان کے پختہ ایمان اور اللہ سے محبت کا تقاضا تھا۔
الحاج عبد القادرفیصل:۔ صحافت کے میدان سے تعلق رکھتے ہیں، اردوصحافت کی معتبر اور قائدشخصیت ہیں۔ ان دِنوں حیدرآبادمیں قیام پذیر ہیں۔ ان کے نزدیک ”ماں اللہ کی سب سے عظیم نعمت ہے۔ماں،اللہ کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ماں،رحمت، برکت، محبت، ایثار و قربانی، دعاء ہے۔ماں جنت ہے۔ماں کا کوئی ثانی نہیں“
عبدالحلیم منصور:۔ جنوبی ہند کے اردو صحافی ہیں۔ بنگلور میں رہتے ہیں۔جہاں کے سیاسی سرد وگرم دیکھنے کے ساتھ ساتھ سماج کی کمی کوتاہی اور خوبیوں پر بھی ان کی نظرہے۔لکھتے ہیں اور ہندوستان بھر کے اخبارات میں ان کے سیاسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔وہ ماں کی بابت کہتے ہیں۔”وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، مگر ماں کی محبت کبھی کم نہیں ہوتی۔ وہ اولاد کے ہر دکھ میں تڑپتی اور ہر کامیابی پر سب سے زیادہ خوش ہوتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ماں کا مقام لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ماں محبت کی وہ عظیم کتاب ہے جس کا ہر باب شفقت، قربانی اور خلوص سے بھرا ہوا ہے“
مرزا چشتی نظامی:۔ مرزاچشتی صابری نظامی محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدارسپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے سرکاری پی اے رہے ہیں۔آج کل وظیفہ یابی کے دن ہیں لیکن صوفیوں کے سالار ہونے کے ناطے قلم رواں رہتاہے۔ انھوں نے اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں درج ذیل احساسات کا اظہار کیاہے۔”میں اپنی ماں کو نہایت اعلی و ارفع جانتا اور مانتا ہوں، کیونکہ میں ء اپنی ماں میں رحمت للعالمین کے اکثر صفات دیکھتا ہوں۔میں جانتا اور مانتا ہوں کہ میری ماں کی رضاء میں اللہ و رسولﷺ کی رضا ہے اور یہ کہ حصول جنت اسکی رضاء کے تحت ہے۔ الحمدللہ، میری ماں بھی مجھکو اس قدر چاہتی ہے کہ اسکے وصال کو عرصہ ہوگیا مگر آج بھی وہ میرے ساتھ ساتھ نظر آتی ہے۔“
ڈاکٹر غضنفر اقبال:۔ کتابیں تصنیف کرتے ہیں اور کالج کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”ممی کو اب کے برس سفر آخرت اختیار کئے ہوئے پانچ برس ہوجائیں گے۔وہ 15/ ستمبر2021کو اذان مغرب سے قبل نماز مغرب کی ادائیگی کی خواہش لیے میری ہنگامہ پرور زندگی کو ویران کرگئیں۔موذن نے اسی وقت صدا لگائی تھی۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ۔ممی اب اپنا ابدی سفر طے کررہی ہیں۔ان کی وظیفہ پڑھنے والی انگلیوں نے خاکسار کی تحاریر میں نشانات ثبت کئے تھے۔ خاکسار کا سارا علم ممی کا ہی فیضان نظرہے۔ممی کی حیات کے آخری ایام کے مناظر میری آنکھ میں اترتے ہیں تو میرے قلم کی سیاہی آنسو بن جاتی ہے۔ کاش وہ اس فانی دنیا میں کچھ دیر اور ٹھہر جاتی۔ میری آنکھ روتے ہوئے کہتی ہے”اے لامحدود طاقتوں کے مالک میں تیرا حقیر و فقیر بندہ  اپنی ممی کے لیے دعاگو ہے کہ روز محشر ان کانام نیک بندوں میں ضرور لکھنا“بہ قول اقبال   ؎
دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات 
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
عبد القدیر لشکری:۔ ابھرتے ہوئے صحافی ہیں۔مزاج میں خاکساری ہے اور بے نیازی بھی۔ماں کے بارے میں ان کاکہناہے ”اسلام اور دنیا کے تمام مذاہب نے ماں کے احترام پر بہت زور دیا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ ماں کی خدمت نہ صرف دنیاوی سکون کا باعث ہے بلکہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ماں کی محبت کو الفاظ کے پیراہن میں قید کرنا ناممکن ہے وہ سورج کی اس تپش میں سایہ دار درخت کی مانند ہے جو خود تپتا ہے مگر اپنی اولاد کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنی ماؤں کی قدر کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کے بڑھاپے میں ان کا اسی طرح سہارا بنیں جیسے وہ ہمارے بچپن میں ہمارا سہارا تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام ماؤں کو سلامت رکھے اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
محمدیونس صاحب:۔ کاتعلق بینک سے رہاہے۔ خاموش طبیعت انسان ہیں۔ دینی کام کا بے حد شوق ہے۔ وہ اپنی ماں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ”میری ماں بہت اچھی تھیں ویسے ماں تو اچھی ہی ہوتی ہے۔انہیں رشتے نبھانے بہت اچھا آتا تھا۔ گھر میں ساس کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔میں نے کبھی بھی انھیں ایک دوسرے سے الجھتے ہوئے نہیں دیکھا جس کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت پر سکون ہو تا۔ اپنی نندوں کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ تہجّد کی نماز کے بعد ذکر واذکار میں مشغول رہتیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حج ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی 1912 مجھے ان کے ساتھ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔
عبدالصمد منجو والا:۔ جناب عبدالصمدمنجووالا اردو صحافی ہیں۔ ایک دنیا دیکھ رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”بیدر کے ممتاز دینی و علمی خانوادہ میں پیدا ہونے والی میری والدہ محترمہ مرحومہ نہایت نیک، باکردار، صابرہ اور مخلص خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دین داری، سادگی، اخلاق اور خدمتِ خلق کے جذبہ کے ساتھ گزاری۔ شادی کے بعد ایک دین دار گھرانے کی بہو بن کر امورِ خانہ داری کو نہایت حسنِ انتظام، محبت اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔آخری ایامِ حیات میں انہیں شدید علالت کا سامنا کرنا پڑا اور چھاتی کے تین مرتبہ آپریشن ہوئے، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہر آزمائش میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل رکھا اور صبر و استقامت کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔ میرے والد محترم کی خدمت اور ہم چھ بہن بھائیوں، جن میں ایک بھائی اور پانچ بہنیں شامل ہیں، کی بہترین پرورش اور نگرانی میں انہوں نے اپنی پوری زندگی صرف کردی۔
سراج الحسن شادمان (کتب فروش اور عطر فروش):۔”اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے“(سورہ عنکبوت:8) ماں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ماں اپنی اولاد سے بے پناہ محبت اور ہمدردی کرتی ہے اور ہر دکھ خوشی میں ساتھ دیتی ہے ماں کی دعا انسان کی کامیابی کا راز ہے دنیا میں ماں جیسی محبت اور شفقت کوی نہی کرتا اسی لیے ہمیں ہمیشہ اپنی ماں کی قدر اور فرمانبرداری کرنی چاہیے
ڈاکٹرمشتاق احمد سہروردی:۔ ڈاکٹرصاحب پڑھاکو قسم کے شخص ہیں۔ تدریس کے علاوہ صحافت سے بھی وابستگی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”میری والدہ محترمہ کا اسم گرامی کلثوم بی ہے۔ الحمد للہ الحمدللہ ابھی ان کا سایہ عاطفت ہم تمام سات بھائیوں اور ایک بہن پر قائم و دائم ہے والد محترم کے داعی اجل کو لبیک کہے آج 25 سال ہوگئے ہیں۔ والدہ محترمہ کی عمر اب 95 سال ہے۔ کافی ضعیف ہوچکی ہیں۔ بغیر سہارے چل نہیں سکتی ہیں۔ تاہم ہوش و حواس قائم ہیں۔ ضعیفی ہی بیماری ہے۔ میری والدہ پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ تاہم یادداشت بہت اچھی ہے۔ کئی نعتوں اور سلام کے اشعار ازبر ہیں۔ انبیاء کرام و صالحین عظام کے واقعات جو انہوں نے علمائے کرام کے بیانات میں سنیں ہیں وہ یاد ہیں۔ ہم کو اکثر واقعات و نعتیہ کلام سناتی رہتی ہیں۔ ایک بڑی بہن اور باقی سات بھائیوں کی پرورش کیں۔ ان سب کی شادیاں کیں۔ سب کو مل جل کر رہنے کا سلیقہ سکھایا۔ہماری عمدہ تربیت کی۔ آج سب بھائی جو کچھ ہیں انہی کی تربیت کا ثمر ہے۔ بہن سب سے  بڑی ہونے کے سب ان کی شادی جلدی ہوگئی۔ میں مڈل اسکول میں تھا جب بہن کی شادی ہوئی۔ اس کے بعد گھر میں کوئی خاتون نہیں۔ والدہ نے اکیلے ہم سب کی دیکھ بھال کی اور روزانہ تازہ کھانا کھلایا۔ تینوں وقت روٹی بناکر کھلاتی تھیں۔ اس زمانے میں چاول بہت کم کھایا جاتا تھا۔نہ گھر میں کوئی ملازم نہ کوئی نوکرانی۔ ہر کام وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتی تھیں۔1985 ء میں والدین حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے تھے۔ 
 مصداق اعظمی:۔ جناب مصداق اعظمی کا تعلق اعظم گڈھ سے ہے لہٰذا اعظم گڈھ کی تہذیب کا بڑا حصہ خواتین کی تربیت پرمنحصر ہے۔وہ اپنی والدہ کی بابت کہتے ہیں ”امی جان میری شاعری کی پہلی سامع اور مداح تھیں۔ امی کو شاعری سے زیادہ شاعروں کے بارے میں علم تھا کہ شاعر یا تو پاگل ہوتے ہیں یا شاعری کرتے کرتے پاگل ہو جاتے ہیں۔امی جان نے جب میری مستقل شب بیداریوں پر تشویش کا اظہار کیا تو میں نے بھی امی سے وعدہ کیا کہ اب رات میں پڑھائی کرنے کے بعد صرف دو گھنٹے ہی شعر کہا کروں گا۔امی جان کی شفیق شخصیت کا یہ جادو تھا کہ ان کا کوئی حکم مجھ سے ٹالا نہیں گیا اور میری کہی ہوئی
 بات کو امی جان نے کبھی مسترد نہیں کیا۔امی جان خالص مذہبی اور گھریلو خاتون تھیں۔ قرآن مجید اور مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ شاہنامہ اسلام بھی پڑھتی تھیں۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ شاہنامہ اسلام پڑھتے پڑھتے امی کی انکھیں اشکبار ہو جاتیں اور امی جان کو روتا دیکھ ہم بھائی بہن بھی رونے لگتے۔ امی اردو عربی پڑھ تو لیتی تھی مگر لکھ نہیں سکتی تھیں۔ ایثار پسندی اور غریب پروری ان کی شرشت میں داخل تھی۔ فراخ دلی کا یہ عالم تھا کہ گاؤں کی پریشان حال عورتیں اپنی چھوٹی بڑی ضرورتوں کا ذکر امی جان سے کرتیں اور وہ انہیں خوشی خوشی ہرممکن پورا کرتیں۔ گاؤں میں نئے مانگنے والے میرے گھر میں دو دروازے ہونے کی وجہ سے میرے ایک ہی گھر کو دو گھر سمجھتے ہوئے صدائیں دیتے مگر امی جان انہیں محروم کرنے کے بجائے دونوں دروازوں سے نوازتیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر حاتم طائی کی طرح میرے گھر کے چالیس دروازے ہوتے تو امی جان بھی حاتم کی طرح سائلوں کی جھولیاں چالیس دروازوں سے بھرتیں۔
مولوی محمد یوسف کنی:۔ جناب محمدیوسف کنی دراصل تحریک اسلامی کرناٹک کی سرگرم شخصیت ہیں۔ ان کے اخلاص کاہر کوئی معترف ہے۔ بولتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں لیکن ان 
کالکھنا منتخب موضوعات سے متعلق ہوتاہے۔ تاہم تحریکی شخصیات کے بارے میں وہ وقتاً فوقتاً لکھتے ہیں۔ اپنی والدہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میری والدہ کی عمر 92 ہے۔مجھ سے زیادہ میری اہلیہ خدمت کرتی ہیں۔اماں کو اسکول جانے کا موقع نہیں ملا،لکھنے پڑھنے سے قاصر ہیں،میری تربیت میں اہم رول ادا کیا ہے، مثلأ سرپر ہمیشہ تاج رکھنا،بڑوں کا ادب کرنا،جان توڑ محنت کرنا وغیرہ،مجھے یاد ہے کہ گھر میں بت پرستی عروج پر تھی،میرے کہنے پر والدہ نے درگاہوں کی تصاویر کو ہٹا دیا،آج الحمدللہ نماز،ذکر و اذکار کی پابند ہیں،ماں کے دانت،آنکھ صحیح سلامت ہیں،شگر اور دیگر امراض سے محفوظ ہیں۔والدہ ہمارے لئے ہر دن دعائیں کرتی ہیں،جماعت کا تعارف ہے۔اپنے رشتوں داروں سے بات کرتی ہیں تو لازماً نصیحتیں کرتی ہیں۔حالات سے تھوڑا بہت واقفیت رکھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں کہ مودی سرکار ملک نفرت کو پھیلایا ہے۔اپنی مسلم و غیر مسلم سہیلیوں کو آج بھی یاد کرتی ہیں۔اماں کا نام قاسم بی ہے اور والد (میرے نانا) کا نام نصرالدین تھا۔والدہ مرحومین کو بھی یاد کرتی ہیں 
سعید احمد پونہ:۔ جناب سید سعید احمد کا تعلق مہاراشٹر کے شولاپور سے ہے۔ پونہ میں مقیم ہیں۔ مصنف ہیں، ڈرامہ نگار ہیں لیکن انھوں نے اپنی شناخت موٹی ویشنل اسپیکر کی حیثیت سے بنائی ہے۔ اسی مقصد کو لے کر دنیا بھر میں گھومتے رہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ”ماں کی محبت وہ سایہ ہے جو دھوپ میں بھی سکون دیتا ہے،وہ دعا ہے جو خاموش رہ کر بھی حفاظت کرتی ہے۔بیٹا، میری دعا ہے کہ تُو جہاں لات مارے گا نا، وہاں سے پانی نکلے گا۔ماں کے یہ الفاظ آج بھی میری ہمت، طاقت اور کامیابی کی ضمانت ہیں۔آج میں گاؤں گاؤں، شہر شہر سفر کر رہا ہوں،اور واقعی ماں کی دعا سے میرے پسینے کی قیمت مل رہی ہے۔
محمدایوب علی:۔ ایک معروف ٹیلر ہیں۔ یارانِ ادب بیدر کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ماں کی بابت بتایاکہ ”ماں کی شان میں جتنا بھی لکھاجائے کم ہے۔ایک سطر میں لکھوں تو وہ یہ ہے کہ ماں اپنے بچوں کوکبھی بڑا ہونے نہیں دیتی۔ اور غصہ سے ڈانتی ہے تو بڑا اچھا لگتاہے۔ اور جب وہ اُداس ہوتی ہے تو عجیب سی بے چینی ہمارے اندر ہونے لگتی ہے“
 سیدبشیر احمدبشیرؔشولاپوری:۔ ایوارڈ یافتہ شاعر ہیں۔ شولاپور(مہاراشٹر) کے متوطن ہیں۔ انھوں نے والدہ کیلئے جو نظم کہی وہ یہ ہے اور جو بات پیش کی ہے وہ بھی منسلک ہے   ؎ 
جب بھی کوئی غم ہوتا تھا
پیار تیرا مرہم ہوتا تھا
کہاں ملے گی تجھ سی الفت
جنت تھی ماں تیری قربت
ہر مشکل کو تُو نے جھیلا
پیار سے مجھ کو پالا پوسا
قابلِ اِک انسان بنایا
جینے کا انداز سکھایا
تُو میری ہمت تھی اے ماں 
تُو میری طاقت تھی اے ماں 
اب بھی تو سوچوں میں آئے
پیار سے میرا سر سہلائے                                  سب کچھ ہے ماں تُو ہی نہیں ہے
اب وہ رنگ و بُو ہی نہیں ہے
ماں کے بارے میں بشیرشولاپوری کہتے ہیں ”ماں کے مانند کون ہوتا ہے؟ماں سا بے لوث پیار کس کا ہے؟خود نہ کھا کر کھلاتی ماں ہی ہے۔ اپنے آنچل میں چھپاتی ماں ہے۔ دھوپ اور ٹھنڈ سے بچاتی ماں ہے۔ماں کے زانو پہ رکھ کے سر سونا کہاں ایسا سکون ملتا ہے؟ وہ سداکامیاب رہتاہے ماں کاہاتھ جس کے سر پہ ہوتاہے۔ ماں کی دعائیں عرش تک پہنچتی ہیں۔ ماں اپنے بچے کو اپنے جگرکا ٹکڑا سمجھتی ہے۔ ماں کوراضی رکھنا رب کی رضا پانا ہے۔ ماں کادِل دکھانے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا“
خواجہ فریدالدین انعامدار:۔ اردو کی بڑی پیاری اورمعصوم شخصیت ہیں۔ اپنا پیسہ، وقت،اور صحت داؤ پر لگاکر اردو طلبہ کیلئے مسلسل کام کئے جانا خواجہ فریدالدین انعامدارسے سیکھاجائے۔ گلبرگہ شریف سے تعلق رکھنے والے محکمہ پولیس کے مؤظف اورسماجی جہدکار اپنی والدہ کے بارے میں کہتے ہیں ”میری والدہ محترمہ بہت ہی خوش مزاج، رحم دل، سماجی خدمت کا جذبہ رکھتی تھیں۔ ان کی پیدائش علمی گھرانے میں کولگا بزرگ(Kawalga Buzarg) تعلقہ گلبرگہ میں ہوئی۔ میرے ناناحضرت سرکاری ٹیچر تھے۔ مجھے بچپن ہی سے تیراکی اور سماجی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر اہواتھا۔ میری سماجی خدمت دیکھ کر والدہ بہت خوش ہوتے تھے۔ میری والدہ محترمہ کاپڑوسیوں اور محلے کی خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچوں اور لڑکیوں سے اچھے روابط تھے۔ اور تمام لڑکے لڑکیاں اسکول جارہے ہیں یا نہیں اس کی پوری جانکاری رکھتے تھے۔ میری والدہ کا انتقال 2/اگست 2006؁ء میں ہوا۔ آج بھی میں 80%معذور ہونے کے باوجود خود کوصحت مند محسوس کرتاہوں۔یہ میری والدہ کی دعاؤں کااثر ہے۔  
عرفان افضل:۔ بنگلور سے تعلق رکھتے ہیں۔ فکشن کے میدان میں طبع آزمائی دلی مشغلہ ہیں۔ خاکسار ی مزاج میں ہے۔غصہ بھی ہے۔ناانصافی کو سہہ بھی جاتے ہیں۔ انھوں نے ماں کے بارے میں لکھاکہ ”خدا کے بعد اگر کوئی معزز یا عزیز تر ہے تو وہ آقا ﷺ ہیں اور پھر کوئی شخصیت کائنات میں معزز ہو تو یقیناً والدین ہی ہوں گے۔ ماں کی فضیلت اسلام میں اعلیٰ مقام پر درج ہے جس کی کئی وجوہات بھی ہیں۔ماں ایک ایسی ہستی ہے جو بچوں کے سامنے اپنے لاکھوں دکھ درد کے باوجود بے وجہ بھی ہنستی ہے۔ وہ اس لئے کہ کہیں میرا بچہ میری اداسی کی وجہ سے پریشان نہ ہو جائے۔ کائنات میں ماں ہی واحد ہے جو بنا کسی لالچ کے اپنی اولاد کو کوکھ میں نو ماہ اور پھر اپنی عمر کے آخری ایام تک سینے سے لگائے رہتی ہے۔ پھر چاہے اولاد ''بے'' یا ''با'' صلاحیت کیوں نہ ہو۔
انجینئرفیروز مظفر:۔ ہندوپاک کے معروف شاعر جناب مظفر حنفی ؔ کے فرزند ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”والدین بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ہمارے والدین پورے خاندان کے رول ماڈل تھے۔ والدہ ہماری صوم صلوٰۃ کی بہت پابند ہیں۔ اب تو بستر سے ہی تسبیح اور قرآن پڑھتی ہیں۔اس بات کا ثبوت منور رانا کا لکھا خاکہ ہے وہ لکھتے ہیں ''نماز شاید اس ضد میں نہیں پڑھتے کہ بھابھی سارا دن پڑھتی رہتی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ایک تو مقناطیسی بہت ہے اور اہلیان کلکتہ کو چپکنے کا شوق! لیکن ہوم منسٹری میں میری پکڑ مضبوط ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب میرا بہت خیال کرتے ہیں کیونکہ خفیہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر صاحب بھابھی کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ اگر تاش کے پتے میں بھی بیگم آ جاے تو کھڑے ہو جاتے ہیں لہٰذا من و سلوی ہو یا گاجر کا حلوہ میرے حصے میں ضرور آتا ہے۔بھابھی صاحبہ پاے بہت اچھے پکاتی ہیں“(حوالہ پھول پر باغ کی مٹی کا اثر آتا ہے - - -منور رانا صفحہ 487 کتاب مظفر حنفی ایک مطالعہ)اب تو پچھلے دس سال سے وہ چل پھر اور بول نہیں سکتیں۔ پر دماغ اور یاد داشت بہت تیز ہے۔جب تک سب گھر نہیں آ جاتے ہر ایک کو پوچھتی رہتی ہیں۔دروازے پر دستک کی آہٹ سے پوچھتی ہیں کون آیا، ان کی ساتھ کی بھی کوئی رہی نہیں۔ والد صاحب کے جانے کے بعد خاندان کے بہت سارے لوگوں کے انتقال پر بہت پریشان بھی ہوئیں پر یاد سب کو کرتی ہیں۔
پروفیسر حامد اشرف:۔ (سابق صدر شعبہ اردو مہاراشٹر اودے گری کالج اودگیر مہاراشٹر)  میرے والد محترم پر خاندان کے زیادہ افراد کی کفالت کی ذمہ داری تھی۔اس لیے میری ماں نے بچوں کو قران پڑھا کر اپنے اور ہمارے اخراجات پورے کیے۔ میری ماں میرے حافظ ناناسے روزآنہ قران سنتی تھیں اور شوہر جو مولانا تھے ان سے بھی قرآن سن کر کہیں کوئی لفظ چھوٹ جائے تو اس کی نشاندہی کرتی تھیں۔فجر سے عشاء تک گھریلو کام کرتے کرتے وہ بچوں کو عربی پڑھاتی تھیں گویا کہ ان کا اوڑھنا بچھونا مذہب ہی تھا.۔بوڑھی ساس ' پاؤں سے معذور مجرد دیور کی خدمت شوہر کے علاوہ چار بیٹے بیٹیوں کی ذمہ داری انہوں نے بہ حسن خوبی نبھائی۔اللہ نے ان کے ہاتھ میں برکت اور زبان میں شفا رکھی تھی جس کا اثر ہم ان کی دعاؤں میں دیکھا کرتے۔محلے کی عورتیں اپنے بچوں پر ان کی دعا دم کرواتی تھیں۔بڑی قناعت پسند اور دیندار تھیں۔ 23/مئی 2007 عیسوی کی شام میری آرزوں اورامیدوں کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا یعنی میری ماں نے دنیا فانی سے رشتہ توڑ کر دارالبقا کو اپنا رخت سفر باندھا۔ان کی زندگی کے آخری24 گھنٹے بڑے کٹھن رہے جہاں زندگی ہارگئی اور موت جیت گئی۔ میرے قلم نے کہا  
 فلک سے مہلت ایک شب بھی مل سکی نہ اسے 
 زمیں کو جس کی رفاقت پہ ناز تھا برسوں 
عزیز اللہ سر مست:۔ جناب عزیز اللہ سرمست معروف سینئر صحافی ہیں۔ حکومت کوآئینہ دِکھانا انہیں بخوبی آتاہے۔ گلبرگہ جیسے اردو کی زرخیز سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی والدہ کے بارے میں بتایاکہ ”میری والدہ نہایت مہربان اور شفیق تھیں اور پردہ کی اس قدر پابند تھیں کہ تمام حیات انہیں کسی غیر محرم نے نہیں دیکھا۔ وہ نہایت قناعت پسند اور باحوصلہ خاتون تھیں اہل ثروت باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود میرے والد گرامی کے ساتھ نہایت توکل کی زندگی بسر کی۔میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی والدہ کی ایسی خدمت کرنے کا موقع حاصل ہوا کہ میری والدہ نے خوش ہوکر مجھے دعا دی کہ میرے ہاتھوں کو جہنم کی آگ نہ چھوئے۔میری سرخروئی میں میرے والدین کی دعاؤں کا اثر ہے“
دیگر افراد کے بھی ماں سے متعلق جذبات اور خیالات ملاحظہ فرمائیے گا۔ ٭ اللہ رب العالمین نے جہاں کائنات کو پیدا کیا اس میں ہر قسم کی اشیاء جاندار پیدا کیے، ان میں انسان کو تمام مخلوق میں اشرف بتایا۔ اللہ کی تخلیق میں ماں جیسے رشتہ کو انفرادی مقام عطا فرمایا۔ اولاد کیلئے اپنی زندگی کو فناء کرنا ہی ماں اپنا مقصد حیات تصور کرتی ہے(فراست علی ایڈوکیٹ)
٭ماں کا دیا ہوا دلاسہ ہی انسان کو نیکی اور بدی کا راستہ سمجھاتا ہے۔ مولانا پالن حقانی سے منسوب ایک قول ہے کہ اگر ماں نیک ہو تو اُس کے بطن سے خالد بن ولید اور طارق بن زیاد جیسے عظیم کردار پیدا ہوتے ہیں، اور اگر تربیت بُری ہو تو ہامان، شداد اور نمرود جیسے لوگ جنم لیتے ہیں۔ اس لیے ایک نیک ماں پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔(عبداللہ آزاد، سی آر پی شاہ گنج، بیدر)
٭تیری خدمت سے دنیا میں عزت میری
تیرے قدموں کے نیچے ہے جنت میری
عمر بھر سر پہ سایہ تیرا چاہیے
پیاری ماں مجھ کو تیری دعا چاہیے                
(ڈاکٹر اسمٰعیل خان کے احساسات)  
٭اپنی زندگی کا سب سے حسین دور ایک لڑکی نے اپنے بھائی، بہنوں کی پرورش میں گزار دیا۔ تعلیم کی بجائے ہنر کو اپنایا اور اپنے والدین کا ساتھ دیا۔ کم عمری میں بیاہ دی گئیں پھر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اس قدر مصروف ہو گئیں۔ کہ اپنے وجود کا احساس تو تھا لیکن اپنی فکر نہیں تھی بس ایک فکر تھی میری اولاد ہر طرح سے خوش رہے اور اُس کی ہر چھوٹی بڑی ذمہ داری میں، میں بھی اس کی مدد کروں۔
(سیدہ شاہانہ سلطانہ سی آرپی)
 انسان ماں کے ہوتے ہوئے اس کی محبت کو معمول سمجھتا ہے، لیکن جب وہ ساتھ نہ ہو تو گھر کی ہر چیز اس کی یاد دلانے لگتی ہے۔ ماں کبھی مکمل طور پر جدا نہیں ہوتی۔وہ اپنے بچوں کی یادوں، دعاؤں اور سانسوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے(الطاف آمبوری، ٹمل ناڈو)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔