اپنے کمرے کی صفائی کاقومی دِن 10/مئی۔ محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک


اپنے کمرے کی صفائی کاقومی دِن  10/مئی۔ 
    محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک 

دن منانے کی تاریخ:۔ گوگل بابا فرماتے ہیں ”نیشنل کلین اپ یور روم ڈے، (اپنے کمرے کی صفائی کاقومی دِن)جو ہر سال 10 مئی کو منایا جاتا ہے، موسم بہار کے نئے آغاز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، ذاتی جگہوں کو صاف کرنے، گہرائی سے صاف کرنے اور منظم کرنے کا ایک وقفہ وقت ہے۔ یہ گندے بیڈ رومز سے نمٹنے، غیر استعمال شدہ اشیاء کو عطیہ کرنے اور ذہنی توجہ کو بہتر بنانے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرنیچر کے نیچے کی صفائی کا ایک بہترین دن ہے“
 ہماراخیال ہے کہ سبھی نوجوانوں کی تعلیمی زندگی کمرے سے شروع ہوتی ہے۔ اور ان کی ملازمت کے لئے جدوجہد بھی ایک شیئرنگ کمرے سے ہوتی ہے۔ ہندوستان میں آج بھی شیئرنگ (اور کچھ حدتک بورنگ) کمروں کاجال بچھا ہواہے۔جو انتہائی گندے ہوتے ہیں۔ان گندے کمروں کی صفائی ستھرائی کاخیال ہم تمام کو بالکل نہیں آتا(گلف میں تنہا رہنے والے ہندوپاک اور بنگلہ دیشی مزدوروں کے کمرے بھی صاف ستھرے نہیں ہوتے) اب تو سناہے کہ ورکنگ وومنس ہاسٹل کے کمرے بھی نہایت ہی گندے (خیالات، معاملات اور کمالات سے بھرے) ہوتے ہیں۔ کون صاف کرے انھیں، ہمارا کمرہ ہے تو کیاہواہاسٹل والے ہم سے کرایہ ایسے ہی نہیں لے رہے ہیں۔انھیں صفائی کرنی چاہیے۔ پی جی بھی ان ہی شکایات سے بھرے پڑے ہیں۔ 
 خوش نصیب ہیں وہ گھر جہاں صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھاجاتاہے۔ ورنہ گھروں میں بھی گندگی رہ ہی جاتی ہے۔ صفائی کرنے والی نہیں آئی، اس لئے یہ حال ہے۔ ورنہ میں خود اپنا خیال رکھتی ہوں،کس طرح اپنے ہبی کے کمرے کاخیال نہیں رکھوں گی؟ہبی کے کمرے کامطلب میرا ہی کمرہ ہواناں؟
 کچھ بڑے اور تاریخی و چھوٹے شہروں کی مساجد کے کمرے طلبہ سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہاں پر بھی کھٹملوں کی بہتات نظر آتی ہے۔ چند ایک مساجد کے کمرے البتہ صاف ستھرے پائے گئے ورنہ ہر جگہ ایک سی گندگی گویا ناگزیر ہے۔ کیوں کہ طلبہ پڑھنے پر زیادہ دھیان دیتے ہیں۔ خود پر، خود کے
 کپڑوں کو دھولینے یاکمرے کو صاف ستھرا رکھنے پر دھیان کم نہایت ہی کم ہوتاہے۔ 
 ایسے میں National Clean Up Your Room Day یاد دِلاتاہے کہ یار، سال میں ایک دن ایسا ضرور ہوکہ اپنے اپنے کمرے کی صفائی کرلی جائے۔ وہ دن 10/مئی کو آرہاہے۔ توقع ہے کہ طلبہ وطالبات، گھریلو خواتین، ورکنگ وومنس اپنے اپنے گھر اور ہاسٹل کے کمروں کی صفائی اور ستھرائی میں لگے رہیں گے۔یوں بھی پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔ اس آدھے ایمان کے حصول کی کوشش ایمانی فرحت سے بھی نواز سکتی ہے۔ گواہیڈ۔  
کمرے کی بابت اردو شعراء کیاکہتے ہیں؟:۔ 
 آئیے! اب ہم ان کمروں کی بات کرتے ہیں، جہاں ہماری یاد یں دفن ہیں۔ خو شنما وخوشگوار یادیں جن کے بغیر زندگی جیسے ادھوری ہوگی۔ دیکھتے ہیں کہ اردو شاعروں نے ان کمروں کی بابت کیاکیاکہاہے؟احمد مشتاق فرماتے ہیں ؎
یہ مقتل بھی ہے اور کنج اماں بھی
یہ دل یہ بے نشاں کمرہ ہمارا
 اندھیرے میں رہنے والی ناصر کاظمی کی کمرہ نما ذات ملاحظہ کیجئے گا ؎
میرا دیا جلائے کون
میں ترا خالی کمرہ ہوں 
 مصداق ؔاعظمی ایک نمایاں نام ہے۔ اردوکے جس بھی رسالے کو کھولیں مصداق ؔاعظمی کی غزلیں مل جاتی ہیں۔ موصوف نے کمرے کی گھٹن، کمرے سے نکل آنے والا نئے دور کاجونؔ ایلیا
اوران پر بیت رہے کمرہ نما تجربے کو درج ذیل تین اشعار میں ملاحظہ کریں ؎
آپ بھی میری طرح شاعر ہیں کم سے کم جناب
 آپ تو اس بند کمرے کی گھٹن مت دیکھیے 
غار والوں کی طرح نکلا ہے جو کمرے سے آج 
اس کو اس دنیا کی تبدیلی کا اندازہ نہیں 
میں اپنے آپ میں ہوں بند جیسے
 مرے کمرے کی چابی کھو گئی ہے 
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری کرناٹک سے ہیں، بہت لکھتے ہیں۔ مسلسل ادب کی خدمت میں مصروف ہیں، کمرے سے متعلق ان کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ؎
تری آمد سے مہکا ہے مرے گھر کا ہر اک کمرہ
سمجھنے میں ہوئی تاخیر کے لوبان ہے عورت
میں وہ کرایہ دار ہوں جس نے نگر نگر
گلیوں کے ساتھ ساتھ ہی کمرہ بدل دیا
 پردہ کھڑکی کمرہ درپن
تیری یاد سے مہکا آنگن
 انورقادری نوجوان شاعر ہیں، ان کے کمرے کو بھی دیکھتے چلیں کہ اس کااستعمال کس کام کے لئے ہورہاہے۔ موصوف کہتے 
ہیں ؎
میرے کمرے میں آج مت آنا
اے فرشتو، میں تھک کے سویا ہوں 
سارا شگفتہ کی ایک نظم ہے ”آدھا کمرہ“ اس کی دوسطریں ملاحظہ کیجئے، کہتی ہیں ؎
میں نے ایک تنقیدی نشست رکھی
میں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھا
مجیب احمد مجیبؔانتہائی تازہ کار شاعر ہیں۔ دل سے شعر کہنا کوئی مجیبؔسے سیکھے۔ انھوں نے اپنے ایک دوہے میں اس کمرے کا ذکر کیاہے، جو سب کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ واہ صاحب، شاعر ہوتو ایسا کہ ذہن کو موڑدے اور درست راستے کی طرف موڑے ؎ 
ایسا کمرہ دہر میں سب کا ہے تیار 
سوئیں گے چھت اوڑھ کر کرے بنا انکار 
سخاوت علی سخاوت ؔ کی نرم بیانی اور پیار الہجہ متاثر کرتاہے ؎
ویسے کمرے میں میرے ساتھ رہی 
دل کے اندر تری ہی بات رہی
میرے کمرے میں بھی ہے تنہائی 
ساتھ خوشبو رہی، حیات رہی 
میرؔبیدری کی غزلیں بھی روزانہ کی بنیاد پرشمالی ہند کے مختلف اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔جنوبی ہند کے ایک دواخبارات میں ہفت اور پندرہ روزہ کی بنیاد پر شائع ہوتے ہیں۔ تسلسل سے لکھنے میں آفتاب عالم شاہ نوری اور میرؔبیدری دونوں ایک ہی سکہ کے دورخ ہیں۔ ”اپنے کمرے کی صفائی کے قومی دن“ پرمیرؔبیدری کے درج ذیل اشعار کافی لطف دیں گے ؎
خواب بھی اچھے ہوتے ہیں دیوانوں کے یعنی 
کمرہ اچھا ہوتو پریاں ملنے آتی ہیں 
آرام کرتی نانی نظر آتی ہیں جہاں 
مانو نہ مانو ہم اسی کمرے میں رہتے ہیں 
کمرہ دیکھنے کے لئے آپ کا محبوب پہنچے اور پھر یوں کہہ دے کہ ؎
کمرہ اتناگندا رکھتے ہو؟
اورپھر اس میں رہتے کیسے ہو 
میرؔبیدری کا وہی محبوب کمرے سے چلاجاتاہے تو یہ کون سا جذبہ ہے جو اس شعر میں بیان کیاگیاہے ؎ 
وہ چلاجاتاہے یہ کمرے سے 
کمرہ ماتم منائے بھی توکیوں 
اردو ادب میں کمرہ اور خواب کاچولی دامن کاساتھ رہاہے۔ اس حوالے سے میرؔبیدری کے مزید دوشعر پڑھ لیں ؎
خواب میرے تھے، مسلسل جو دِکھایا کمرہ اک 
دھیمی دھیمی روشنی میں تھا نہایا کمرہ اک 
خواب کمروں کاتھا دالان کاتھا
کی ہے تعمیر مگر رہتے نہیں 
ڈاکٹریسٰین راہی ؔترسگار استاد شاعر ہیں۔ بیلگام سے ان کاتعلق ہے۔ مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں۔ کمرہ عنوان پران کے 
اشعار سماعت کیجئے گا ؎
حسیں دل کش تصور کو سمو کر اپنے دامن میں 
مرے کمرے کو دلہن سا سجا دیتی ہیں دیواریں 
ہے رسائی جو غیروں کی کمرے تلک
پھر سلامت کہاں اپنا گھر آج کل
یادوں کی قندیل سے روشن
کرلے دل کا کمرہ بابو
تبسم کی جھالر سے اپنے لبوں کا
یہ مغموم کمرہ سجا کر تو دیکھو
جتنی خاموشیاں ہیں کمرے میں 
خوب کرتی ہیں گفتگو ہم سے
وہ کمرہ جس کو لحد کہتے ہیں وہاں اپنے 
عمل کے دیپ لے جاؤ بہت اندھیرا ہے 
ان سے کہہ دیجئے راہی کہ مرے کمرے میں 
چند نایاب کتابوں کے سوا کچھ نہیں 
نایاب کتابوں کے علاوہ بھی کچھ اور ہوناچاہیے لیکن ڈاکٹر یٰسین راہی ؔتو کتابی راہی نکلے۔ ڈاکٹر انجم شکیل احمد انجم ؔ مدینہ منورہ میں رہتے ہیں۔ اوران کاکمرہ کچھ اس طرح کی گواہی دیتاہے ؎
بہت سے راز کمرے میں سمائے رہتے ہیں نا
وہی تو راز ہیں جو ہم کمائے رہتے ہیں نا
کیسے محسوس ہوتا ہے گھر کی زینت یہ
جب تک ہے پردہ،کمرہ یہ کمرہ ہے
ہم دیر تک کمرے میں بیٹھے تھے
اکیلے تھے، اکیلی سوچ بھی تو تھی
لوگ کہتے ہیں بہت کچھ
بولتا ہے میرا کمرہ
اردو کے معروف شعراء کے اشعار:۔ 
اب ہم ملک گیر اور عالمی سطح پر معروف شعراء کے اشعار پڑھ لیں گے ؎
 کمرے ویراں آنگن خالی پھر یہ کیسی آوازیں 
شاید میرے دل کی دھڑکن چُنی ہے ان دیواروں میں 
بشیر بدر
 کون کھولے گا دل کا وہ کمرہ 
نام کا تیرے جس پہ تالا ہے 
چندر شیکھر پانڈے شمس
چھت پہ کمرہ ہے میرا کمرہ بھی کونے والا 
کام آسانی سے ہوجاتا ہے رونے والا 
عمیر نجمی
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا
کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا
تہذیب حافی
جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف
اس کا کمرا ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف
تہذیب حافی
یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم
اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے
جون ایلیا
سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے
ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے
جاوید اختر
کبھی کبھی آتی تھی پہلے وصل کی لذت اندر تک
بارش ترچھی پڑتی تھی تو کمرہ گیلا ہوتا تھا
اظہر فراغ
مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھا
کوئی کل رات مجھ میں مر گیا تھا
یاسر خان انعام
دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے
جلیل عالیؔ
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے
ذوالفقار عادل
میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو
سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے
مصطفی زیدی
چور بیٹھا ہے کہاں سوچ رہا ہوں میں ظفرؔ
کیا کوئی اور بھی کمرہ ہے مرے کمرے میں 
ظفر گورکھپوری
 کمرا کُھلی کتاب ہے پڑھ کر تو دیکھیے 
کھِلنے لگے گی اور بدن کی جمالیات 
جاوید مشیری
کہتی ہے یہ شام کی نرم ہوا پھر مہکے گی اس گھر کی فضا
نیا کمرہ سجا نئی شمع جلا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں 
صابر ظفر
یہی کمرہ تھا جس میں چین سے ہم جی رہے تھے
یہ تنہائی تو اتنی بے مروت اب ہوئی ہے
شارق کیفی
 روز آتا ہوں تیرے کمرے میں 
اپنی تنہائی سے پتہ کرنا 
راشد کمال گنگوہی 
میرے کمرے میں صرف کاغذ ہیں 
میں چراغوں سے خوف کھاتا ہوں 
ڈاکڑ رحمان مصور
کوئی کمرہ ہے جس کے طاق میں اک شمع جلتی ہے
اندھیری رات ہے اور سانس لیتے ڈر رہا ہوں میں 
احمد مشتاق
سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے
ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے
جاوید اختر
کیا اسی کا نام ہے رعنائی ء بزم حیات
تنگ کمرہ سرد بستر اور تنہا آدمی
چندر بھان خیالؔ
تو اکیلا ہے بند ہے کمرا
اب تو چہرا اتار کر رکھ دے
شین کاف نظام
 آخر میں یہی کہناہے کہ ادبی لحاظ سے اپنے کمرے کی یادوں، اس کی باتوں، اس کے راز وں اور اس کے تحفظ پر نازاں ہونا علیحدہ بات ہے اور کمرے کو صاف ستھرا رکھناعلیحدہ ذمہ داری ہے جس کوہم اپنی منصبی ذمہ داری کہہ سکتے ہیں۔ توقع یہی ہے کہ طلبہ اور طالبات، مردو جوان، گلف کے ملازم پیشہ افراد اوربرصغیر کی ورکنگ وومنس اپنے اپنے کمرے کی صفائی کے دِن یعنی 10/مئی کو اپناپیارا پیاراکمرہ صاف ستھرار رکھیں گے۔ 10/مئی کو اتوار ہے اورحوصلہ کرلیاجائے، من بنالیاجائے توپھر تین دن بعد والی اتوار صفائی کے نام کی جاسکتی ہے۔ اس صفائی کے ساتھ ہی ہم عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جڑسکیں گے۔اس موقع پر ہم تمام کو یہ حلف بھی اٹھانا چاہیے کہ ہم ہرتیسرے ماہ اپنے اپنے کمروں کواچھی طرح صاف کرنا نہ بھولیں گے۔صفائی ہے تو صحت ہے۔ صحت ہے تو زندگی کالطف دوبالا ہوگا۔ ورنہ مرمرکے جئے جانے کوکون زندگی کہے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔