منشی پریم چند کے فن کا عَلمبردار—مجیب خان کا ’’آداب! میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1019 واں تاریخی پیش کش - پریم چند کے ادبی ورثے کی تجدیدِ نو اور اسٹیج پر مسلسل 21 برسوں کی خدمت۔


منشی پریم چند کے فن کا عَلمبردار—مجیب خان کا ’’آداب! میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1019 واں تاریخی پیش کش - 
پریم چند کے ادبی ورثے کی تجدیدِ نو اور اسٹیج پر مسلسل 21 برسوں کی خدمت۔

اردو ادب میں منشی پریم چند کا مقام ایک ایسے ستون کی حیثیت رکھتا ہے جس کی مضبوط بنیاد حقیقت نگاری، سچائی کی گہری پہچان اور سماجی شعور سے عبارت ہے۔ ان کے فن نے نہ صرف عام انسان کی زندگی کو موضوع بنایا بلکہ عہدِ رفتہ کے معاشرتی تضادات اور سیاسی جبر کو بھی بے نقاب کیا۔ یہی وہ ادبی ورثہ ہے جسے نئی نسل تک پہنچانے کا بیڑا گزشتہ دو دہائیوں سے ہدایت کار مجیب خان نے نہایت اخلاص، فنی مہارت اور علمی دیانت کے ساتھ اٹھایا ہوا ہے۔
“آئیڈیا” کی شناخت آج منشی پریم چند کے ادب کے اسی تسلسل سے وابستہ ہے۔ گذشتہ 21 برسوں سے مجیب خان جس استقامت کے ساتھ پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج پر پیش کر رہے ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ بر صغیر کے لئے فخر کا مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس ہمہ گیر کاوش کو ’’لمکا بک آف ریکارڈز‘‘ اور ’’ورلڈ وائڈ ریکارڈز‘‘ دونوں میں جگہ ملی ہے—جو کسی بھی ڈرامائی سلسلے کے لئے ایک تاریخی اعزاز ہے۔

1019 واں شو — ایک جاری ادبی تحریک
24 مئی 2026 بروز اتوار شام 7:30 بجے
شکنتلم اسٹوڈیو، آدرش نگر، اندھیری (ممبئی) میں
’’آداب! میں پریم چند ہوں‘‘ کا 1019 واں شو پیش کیا جا رہا ہے، جس میں آئیڈیا کے باصلاحیت فنکار پریم چند کی تین شاہکار کہانیاں:
شانتی ، بڑے گھر کو بیٹی اور بڑے بھائی صاحب کو اسٹیج پر پیش کریں گے۔ یہ تینوں ڈرامے اپنی تمثیلی قوت، حقیقت نگاری اور عصرِ حاضر سے گہری مطابقت کی بدولت برسوں سے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔

پریم چند کے ادب کا علمی پس منظر
پریم چند کی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف سماج کے کمزور طبقات، کسان، محنت کش، عورت، رشتوں اور معاشرتی اقدار پر ہی نہیں لکھا بلکہ انگریز حکومت کے جبر کے خلاف بھی قلم اٹھایا۔ ’’سوزِ وطن‘‘ کی ضبطی اور نذرِ آتش کیے جانے کے بعد انہوں نے پیچھے ہٹنے کے بجائے ایک نئے قلمی نام سے جدوجہد جاری رکھی—یہی وہ جرات ہے جو ان کے فن کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

مجیب خان کا تحقیقی و ثقافتی کارنامہ
مجیب خان نے اب تک پریم چند کی کل کہانیوں کو اسٹیج پر پیش کر کے ایک تاریخی اور ادبی کارنامہ انجام دیا ہے۔
حال ہی میں پریم چند کی سالگرہ پر آئیڈیا نے ان کی 22 کہانیاں ہندستان کی 22 زبانوں میں پیش کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا جو پریم چند کے فکری پیغام کو دنیا بھر تک پہنچانے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ آج پریم چند کے ادب کا گہرا مطالعہ بہت محدود لوگوں تک رہ گیا ہے۔ اکثر لوگ محض چند معروف کہانیوں کو ہی مکمل پریم چند سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ایسے وقت میں ’’آئیڈیا‘‘ اور مجیب خان کی کاوش نہ صرف ادبی خدمت ہے بلکہ ایک علمی فریضہبھی ہے۔ ان کا مقصد پریم چند کے پورے ادبی جہان کو ایمانداری کے ساتھ اسٹیج کی صورت زندہ رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا ہے۔

شرکت کی درخواست
تمام محبانِ پریم چند، ادب دوستی رکھنے والے قارئین، اساتذہ، طلبہ، اور فنِ اسٹیج کے شائقین سے شرکت کی خصوصی درخواست ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کریں: 9821044429

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔