بچوں کی کامیابی میں والدین کا کردار - ازقلم : تسنیم کوثر انصار پٹھان - (معلمہ. غیبن شاہ نگر میونسپل اردو اسکول نمبر 1 ،کرلا، ممبئی)
بچوں کی کامیابی میں والدین کا کردار -
ازقلم : تسنیم کوثر انصار پٹھان -
(معلمہ. غیبن شاہ نگر میونسپل اردو اسکول نمبر 1 ،کرلا، ممبئی)
بچے کسی بھی قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی کامیابی صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے والدین کی مسلسل محنت، دعا اور رہنمائی شامل ہوتی ہے۔ والدین بچے کی زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اس کی پوری شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری صرف خوراک، لباس اور رہائش فراہم کرنا نہیں بلکہ اچھی تربیت دینا بھی ہے۔ بچہ جو کچھ گھر میں دیکھتا اور سنتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔ اگر والدین خود سچائی، دیانت داری اور صبر کا مظاہرہ کریں تو بچے بھی انہی خوبیوں کو اپناتے ہیں۔ اس طرح والدین اپنے عمل کے ذریعے بچوں کے لیے بہترین مثال قائم کرتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم میں دلچسپی لینا بھی والدین کا اہم فرض ہے۔ جب والدین بچوں کے اسکول کے معاملات سے باخبر رہتے ہیں، ان کے اساتذہ سے رابطہ رکھتے ہیں اور پڑھائی میں رہنمائی کرتے ہیں تو بچے خود کو محفوظ اور اہم محسوس کرتے ہیں۔ یہ احساس ان کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے اور وہ مزید محنت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
والدین کی حوصلہ افزائی بچے کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اگر بچہ کسی کام میں ناکام ہو جائے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور اسے دوبارہ کوشش کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ مثبت رویہ بچے کو مایوسی سے بچاتا ہے اور اس میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں اپنی دلچسپی کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے، اس لیے اس کا دوسروں سے موازنہ کرنا مناسب نہیں۔ہر بچہ الگ الگ صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے. دوسروں سے موازنہ کرنا کہی نہ کہی بچوں کے کے ذہن پر برا اثر ڈالتی ہے. درست رہنمائی اور مناسب آزادی بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔. والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی چھپی صلاحیتوں کو ترجیح دیں نا کہ موازنہ کریں.
گھر کا خوشگوار ماحول بھی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ محبت، تعاون اور احترام پر مبنی ماحول بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو بہتر بناتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ زیادہ اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ والدین بچوں کی کامیابی کے معمار ہوتے ہیں۔ہم ہمارے زمانے کی باتیں نہ کرتے ہوئے دور حاضر کے چیلنجز کا سامنا کس طرح کر سکتے ہیں اس کے لیے بچوں کو تیار کیا جائے.آج ہماری قوم کس راستے پر چل رہی ہے اس سے ہم بے خبر تو نہیں. اور ہمارے لیے بھی یہ سب سے بڑا چیلنج ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت و رہنمائی ایسے ماڈرن کہلانے والے ماحول میں کس طرح کرتے ہیں. اگر والدین محبت، صبر، رہنمائی اور مناسب نظم و ضبط کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی کامیاب اور باوقار انسان بن سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment