رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں مراٹھی بھاشا دن کا شاندار انعقاد۔
بھیونڈی: (عبدالعزیز انصاری) شہر کے قدیم اور ممتاز تعلیمی ادارے رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں مراٹھی بھاشا دن نہایت جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔ یہ تقریب مہاراشٹر کے نامور شاعر اور دانشور کسما گرج کی یومِ پیدائش کے موقع پر جمعہ 27 فروری 2026 کو اردو بسیرا ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر سوداگر شکھرے نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ مراٹھی ہماری مادری زبان ہے اور اس کا تحفظ، فروغ اور ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مراٹھی زبان میں پڑھنے، لکھنے اور بولنے کی مسلسل مشق کریں تاکہ زبان سے ان کا رشتہ مضبوط ہو۔مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹو آفیسر یو۔ ایل۔ سمباری شریک ہوئے۔ دیگر معزز مہمانان میں ابرار پٹھان (سی آر سی)، پرنسپل ضیاء الرحمن انصاری، اسسٹنٹ ہیڈماسٹر مخلص مدعو اور سپروائزر سبطین کشیلکر شامل تھے۔پرنسپل ضیاء الرحمن انصاری نے مہمانانِ کرام کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی و ثقافتی پروگرام طلبہ میں خود اعتمادی، اظہارِ خیال کی مہارت اور لسانی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مراٹھی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی۔پروگرام کا آغاز مراٹھی گورو گیت سے ہوا جس نے فضا کو روح پرور بنا دیا۔ طلبہ نے مراٹھی زبان میں نظمیں اور بڑبڑ گیت پیش کیے، جبکہ جماعت ہشتم تا دہم کے طلبہ نے مراٹھی زبان کی اہمیت پر مؤثر تقاریر کیں۔ حوصلہ افزا کہانیوں کے ذریعے مراٹھی ثقافت کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کیا گیا۔ مزید برآں دیش بھکتی گیتوں اور بھاؤ گیتوں کی دلنشین پیشکش نے سامعین کو مسحور کر دیا اور ماحول جذباتی و پُراثر بن گیا۔مہمانِ خصوصی یو۔ ایل۔ سمباری نے طلبہ کے ذریعہ پیش کیے گئے تمام پروگراموں کی تعریف کی اوراپنے خطاب میں مراٹھی زبان کی تاریخ، اس کی عظیم ادبی روایت اور معاشرتی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو مراٹھی ادب کے مطالعے کی عادت اپنانے کا مشورہ دیا اور واضح کیا کہ زبان شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔تقریب کی نظامت مراٹھی کے استاد الطاف شیخ نے نہایت عمدگی سے انجام دی۔ پروگرام کی کامیابی میں مراٹھی کے اساتذہ سلیم شیخ اور ایوب شیخ کا خصوصی تعاون شامل رہا۔یہ پروگرام طلبہ کے لیے نہ صرف معلوماتی بلکہ فکری اور ثقافتی اعتبار سے بھی نہایت مفید اور یادگار ثابت ہوا۔
Comments
Post a Comment