مسلمان باطل طاقتوں سے خوف نہ کھائیں ، نصرت الہی پر بھروسہ کریں۔شکم سیری سے ایمانی قوت کو جلا نہیں ملتی ، جنگ بدر اور مسلمان کے زیر عنوان عزیز اللہ سرمست کا خصوصی خطاب۔
گلبرگہ 27 : (راست) سینئر صحافی عزیز اللہ سرمست صدر حضرت صوفی سرمست اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے کہا ہے کہ جنگ بدر سے یہ پیغام ملتا ہے کہ مسلمان باطل طاقتوں سے ہرگز خوف نہ کھائیں بلکہ نصرت الہی پر بھروسہ کریں وہ آج مسجد ہاجرہ گیسو دراز کالونی نزد جواہر ہند اسکول نیا محلہ گلبرگہ میں نماز جمعہ سے قبل جنگ بدر اور مسلمان کے زیر عنوان خصوصی خطاب کررہے تھے انہوں نے رمضان المبارک میں پیش آئے غزوات اور جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رمضان فتوحات اور غلبہ دین کیلئے جدوجہد کرنے کا مہینہ ہے عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا آج ساری دنیا میں مسلمانوں کا قتل و خون ہورہا ہے لیکن مسلم حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ بیعت رضوان میں نبی کریم نے صحابہ کرام سے حضرت عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم لی تھی عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ جنگ بدر کا یہ پیغام ہے کہ مسلمان عددی طاقت پر نہیں اللّٰہ کی نصرت پر بھروسہ کریں انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بدر میں قریش کے شکست کی سب سے بڑی وجہ ان کا انتشار اور کئی سرداروں کا لشکر کی قیادت کرنا تھا آج مسلمان بھی انتشار اور بٹی ہوئی قیادت کی اسی کیفیت سے دوچار ہیں اسی لئے ان کی ہوا نکل گئی ہے اور باطل طاقتیں انہیں پسپا کرنے کے درپئے ہیں عزیز اللّٰہ سرمست نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں کہا کہ ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں جنگ بدر میں قریش اپنی عصبیت اور اجارہ داری کو برقرار رکھنے کیلئے لڑرہے تھے جبکہ مسلمان باطل کو شکست دینے اور دین کو غالب کرنے کیلئے میدان جنگ میں برسر پیکار تھے انہوں نے کہا کہ آج ہم سیاسی جماعتوں سیاسی لیڈروں مال و اسباب اور دنیا کے مادی وسائل پر تکیہ کئے ہوئے اور مسلکوں گروہوں بٹے ہوئے ہیں لیکن صحابہ متحد تھے اور انہیں نصرت الہی پر یقین تھا عزیز اللہ سرمست نے قرآن مجید کے حوالے سے کہا کہ مسلمان تو غالب آنے کیلئے ہے انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کو بزدلی اور کمزوری کی کیفیت کو ایمانی طاقت میں بدلنے کی ضرورت ہے عزیز اللہ سرمست نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کا سامنا کرنے کیلئے مسلمانوں کو حضور کی مدنی زندگی اپنے پیش نظر رکھنا چاہیئے اور غزوات میں صحابہ کرام کی شجاعت اور ایمانی کیفیت سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے عزیز اللّٰہ سرمست نے مزید کہا کہ شکم سیری سے ایمانی قوت کو جلا نہیں ملتی صحابہ کرام نے حالت روزہ میں جنگ بدر میں دشمن کا مقابلہ کیا اور غزوہ خندق میں حالت روزہ میں ہی خندق کھودی آج ہمیں مومنانہ صفت و بصیرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صفت روزہ سے پیدا ہوتی ہے عزیز اللہ سرمست کے خطاب کے دوران مولانا محمد معین الدین صاحب خطیب و امام مسجد ہاجرہ عبد الرشید صاحب صدر مسجد ہاجرہ سید حاجی میاں نائب صدر مسجد ہاجرہ حاجی شاکر صاحب خازن مسجد ہاجرہ مولوی محمد خواجہ گیسودراز موظف محکمہ تعلیمات بشیر عالم صحافی صلاح الدین معلم رحمانیہ لائف انسٹیٹیوٹ نیا محلہ گلبرگہ کے علاوہ مسجد کی تین منزلہ عمارت میں مصلیوں کی کثیر تعداد شریک رہی
Comments
Post a Comment