جب گودھرا غزہ سے ملا۔۔ از قلم:- ابرارالحق مظہر حسناتی۔
جب گودھرا غزہ سے ملا۔
از قلم:- ابرارالحق مظہر حسناتی۔
سن 2002 کے سانحۂ گودھرا نے ہندوستانی سیاست کی سمت بدل دی تھی۔ اسی طرح آج غزہ عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بنا ہوا ہے۔ جب ان دونوں استعاروں کو موجودہ عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، اور اس پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل سے قریبی تعلقات اور دوروں کا جائزہ لیا جاتا ہے، تو بحث محض سفارت کاری تک محدود نہیں رہتی بلکہ اخلاقی، نظریاتی اور مستقبل کے سوالات کو بھی جنم دیتی ہے۔
مودی کا سیاسی عروج گجرات کے دورِ حکومت اور اس کے بعد کے حالات سے جڑا ہوا ہے۔ ناقدین طویل عرصے تک 2002 کے فسادات کو ان کی سیاسی شناخت کے ساتھ جوڑتے رہے، اگرچہ عدالتی عمل میں انہیں براہِ راست مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل کی موجودہ قیادت بھی فلسطین کے مسئلے پر سخت گیر پالیسیوں کے باعث عالمی تنقید کا سامنا کرتی رہی ہے۔ یوں دونوں حکومتوں پر انسانی حقوق کے سوالات مختلف سطحوں پر اٹھتے رہے ہیں، چاہے ان کی نوعیت اور قانونی حیثیت الگ کیوں نہ ہو۔
غزہ میں جاری تنازعے کے دوران عالمی برادری کے کئی حلقے اسرائیل کی عسکری کارروائیوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران پر آواز بلند کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں ہندوستان کا اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلق اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ناقدین کے نزدیک ایک اخلاقی سوال کھڑا کرتی ہیں: کیا خارجہ پالیسی کو صرف تزویراتی اور دفاعی مفادات کی عینک سے دیکھا جائے، یا انسانی حقوق اور عالمی رائے عامہ کو بھی وزن دیا جائے؟
حامیوں کا مؤقف ہے کہ ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور اسے اپنے دفاعی، تکنیکی اور معاشی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق ہے۔ اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی، زرعی جدت اور سائبر سیکیورٹی میں اہم شراکت دار ہے، اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں اس سے تعاون عملی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ جب دنیا کے کئی حصے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہوں، تو اس وقت غیر مشروط قربت ہندوستان کی تاریخی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے، خصوصاً جب وہ ماضی میں فلسطینی حقِ خود ارادیت کا کھلا حامی رہا ہو۔
یہ بحث صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں۔ ہندوستان کے اندر بھی قوم پرستی، سیکورٹی اور اکثریتی سیاست کے بیانیے مضبوط ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا “سیکورٹی ماڈل” ہندوستان کے لیے کشش رکھتا ہے، جہاں سخت ریاستی ردعمل کو استحکام کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا طویل مدت میں یہی راستہ سماجی ہم آہنگی اور جمہوری تنوع کے لیے موزوں ہوگا؟
ہندوستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ عالمی طاقت بننے کے سفر میں اپنی اخلاقی بنیادوں کو کس حد تک برقرار رکھتا ہے۔ ایک طرف دفاعی تعاون اور سفارتی مفادات ہیں، دوسری طرف عالمی سطح پر انسانی حقوق اور انصاف کا بیانیہ۔ اگر ہندوستان صرف طاقت کی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے تو وہ اپنی اس شناخت سے دور ہو سکتا ہے جو اسے ایک کثیرالثقافتی، جمہوری اور اصولی ملک کے طور پر ممتاز کرتی رہی ہے۔
جب گودھرا اور غزہ کے استعارے ایک ہی فریم میں رکھے جاتے ہیں تو اصل سوال کسی ایک لیڈر یا ایک ملک کا نہیں رہتا، بلکہ یہ سوال بن جاتا ہے کہ کیا طاقت اور اخلاق ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ کیا قومی مفاد اور عالمی انصاف میں توازن ممکن ہے؟ اور کیا مستقبل کی سیاست صرف عسکری اتحادوں سے طے ہوگی یا اخلاقی جرات سے بھی؟
تاریخ اکثر فوری نعروں سے نہیں بلکہ دیرپا فیصلوں سے لکھی جاتی ہے۔ ہندوستان اگر عالمی قیادت کا دعوے دار ہے تو اسے طاقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی وزن بھی سنبھالنا ہوگا، کیونکہ عالمی سیاست میں ساکھ صرف ہتھیاروں سے نہیں، اصولوں سے بھی بنتی ہے۔
Comments
Post a Comment