ایسے ہوتا ہے شہر کا وکاس۔ - ازقلم : وسیم رضا خان۔


ایسے ہوتا ہے شہر کا وکاس۔ - 
ازقلم : وسیم رضا خان۔
  
شہروں کی ترقی نعروں، پوسٹروں اور مذہبی و سیاسی علامتوں سے نہیں ہوتی۔ ترقی ٹھوس فیصلوں سے، منصوبوں کی منظوری سے، بجٹ کے درست استعمال سے اور عوام کے روزمرہ مسائل کے حل سے ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے کئی بلدیاتی ادارے آج ترقی کے بجائے صرف سیاست کا اکھاڑا بن کر رہ گئے ہیں۔
حال ہی میں ناسک ضلع کی سٹانہ نگر پریشد کی عام سبھا نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو چند گھنٹوں میں بھی شہر کی سمت بدلی جا سکتی ہے۔ سٹانہ کی صدر بلدیہ ہرشدا پاٹل نے صرف 7 گھنٹوں کی میٹنگ میں 111 تجاویز منظور کر کے ایک مثال قائم کی۔ یہ تجاویز شہر کی بنیادی ضروریات—سڑک، پانی، صفائی، روشنی کے انتظام اور دیگر ترقیاتی کاموں—سے متعلق تھیں۔ یہی ہے انتظامی چستی، یہی ہے عوامی نمائندوں کی جوابدہی۔
اس کے برعکس، ناسک ضلع کے ہی مالیگاؤں کی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ان دنوں جن وجوہات سے خبروں میں ہے، وہ ترقی سے کوسوں دور ہیں۔ کبھی ٹیپو سلطان کی تصویر پر تنازع کھڑا کیا جاتا ہے، تو کبھی میونسپل دفتر میں نماز پڑھنے کے معاملے پر سیاست گرمائی جاتی ہے۔ ان معاملات پر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سیاسی مفادات کی روٹیاں سینکتے ہیں، لیکن شہر کی ٹوٹی سڑکوں، گندے نالوں، پانی کی قلت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر اتنی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔
واضح ہے کہ اس طرح کے واقعات صرف جذبات بھڑکانے اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چاہے ٹیپو سلطان کی تصویر ہو یا کوئی مذہبی تقریب—ان پر بحث کرنے سے نہ نالیاں صاف ہوتی ہیں، نہ سڑکیں بنتی ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔ الٹا شہر فرقہ وارانہ کشیدگی اور ’تیری میری‘ کی سیاست میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔
نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشنوں کا بنیادی کام مقامی ترقی ہے۔ لیکن آج کئی جگہوں پر عام سبھا ترقیاتی منصوبہ بندی کا پلیٹ فارم بننے کے بجائے سیاسی طاقت کے مظاہرے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تجاویز پر سنجیدہ بحث کم اور الزام تراشی زیادہ ہوتی ہے۔ نتیجتاً بجٹ خرچ نہیں ہو پاتا، منصوبے لٹکے رہتے ہیں اور عوام کو صرف وعدے ہی ملتے ہیں۔
سٹانہ نگر پریشد نے یہ دکھایا کہ اگر نمائندے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر شہر کے مفاد میں کام کریں تو ریکارڈ وقت میں بھی تاریخی فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔ 111 تجاویز کی منظوری صرف ایک عدد نہیں، بلکہ یہ پیغام ہے کہ ترقی کے لیے نہ برسوں کا انتظار ضروری ہے اور نہ ہی تنازعات کی سیاست۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر نگر پالیکائیں اور میونسپل کارپوریشنیں بھی اس ماڈل سے سبق سیکھیں۔ ترقی کا مطلب ہے—صاف پانی، بہتر سڑکیں، مضبوط صحت کا نظام، معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع۔ اگر عوامی نمائندے صرف مذہبی اور تاریخی علامتوں پر سیاست کرتے رہیں گے تو شہر آگے نہیں بڑھے گا بلکہ باہمی دشمنی میں پیچھے چلا جائے گا۔
شہر کی ترقی جذبات بھڑکانے سے نہیں بلکہ فیصلوں کو نافذ کرنے سے ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے ترقی کا راستہ اختیار کریں گے یا سستی سیاست کا؟ عوام اب باشعور ہو چکی ہے—وہ دکھاوے اور حقیقی کام میں فرق جانتی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی بلدیاتی ادارے کامیاب ہوں گے جو سیاست سے اوپر اٹھ کر شہر کے مفاد کو اولین ترجیح دیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔