حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا : عفت و حیا کی پیکر اور جنت کی ملکہ۔۔از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا : عفت و حیا کی پیکر اور جنت کی ملکہ۔۔
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، رسولِ اکرم ﷺ کی نورِ نظر، حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی گود کی پرورش یافتہ، اور جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ آپ کی ذات پاکیزگی، صبر، زہد، قناعت، حیا اور وفا کا ایسا حسین امتزاج ہے کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور خشیتِ ربانی کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ رسولِ اکرم ﷺ آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور ارشاد فرمایا: "فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔" (بخاری، مسلم)۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی سخت محنت اور قناعت کے ساتھ گزاری۔ شادی کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ سادہ زندگی بسر کی، خود چکی پیس کر آٹا بناتیں، پانی بھر کر لاتیں اور گھر کے تمام کام انجام دیتیں لیکن کبھی زبان سے شکوہ نہ کیا۔
آپ کی سخاوت اور ایثار بھی بے مثال تھا۔ خود بھوکی رہتیں مگر دوسروں کو کھانا کھلاتیں۔ آپ کی عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ راتوں کو اللہ کے حضور سجدہ ریز رہتیں اور توبہ و استغفار میں مصروف رہتیں۔
آپ کا دنیا سے رخصت ہونا بھی شانِ فاطمی کے مطابق تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کو زیادہ دن دنیا میں رہنے کی خواہش نہ رہی۔ چند ماہ بعد جب آپ کا وصال ہوا تو آپ نے وصیت کی کہ میرا جنازہ رات کے اندھیرے میں اٹھایا جائے تاکہ میرا پردہ محفوظ رہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی آج کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آج جب سادگی، حیا، صبر اور قناعت جیسی صفات کمزور پڑ رہی ہیں ایسے میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے اور اصل کامیابی کیا ہے۔
اقبال کہتے ہیں
مذرئے تسلیم را حاصل بتول
مادراں را اُسوئہ کامل بتول
یعنی اسلام کی کھیتی کا جو حاصل ہے جو پھل ہے وہ سیّدہ فاطمہ کی ذات ہے اور ماؤں کے لئے کامل نمونہ سیّدہ فاطمہ زہرا کی ذاتِ با برکت ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم آپکی سیرت اپنائے اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اُسوئہ فاطمہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Comments
Post a Comment