رمضان اور آج کے نوجوان - از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔


رمضان اور آج کے نوجوان۔ 
از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں رمضان کا تقدس اور ہماری ذمہ داریاں:
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ"
(سورۂ البقرہ: 185)
یعنی رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔
رمضان کا تقدس اور عبادات کی اہمیت : 
رمضان کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ... لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
(سورۂ البقرہ: 183)
یعنی اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
(صحیح بخاری)
اس مقدس مہینے میں نماز، تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور صدقہ و خیرات کی خاص اہمیت ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے بعض نوجوان اس مہینے کے اصل مقصد سے غافل نظر آتے ہیں۔
مسلم محلوں کا ماحول اور نوجوان : 
رمضان آتے ہی مسلم محلوں میں ایک روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ مساجد آباد ہوتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھتی ہے، اور گھروں میں سحری و افطاری کی تیاری ہوتی ہے۔ لیکن اس خوبصورت ماحول کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔
موبائل اور گیمز میں گم نوجوان : 
آج کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موبائل فون اور آن لائن گیمز میں مشغول رہتی ہے۔ سحری کے بعد یا افطار کے فوراً بعد کئی نوجوان گھنٹوں موبائل پر ویڈیوز دیکھنے، سوشل میڈیا استعمال کرنے یا گیم کھیلنے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔رمضان جو کہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے، وہ اسکرین ٹائم میں ضائع ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ عبادت کا شوق رہتا ہے اور نہ ہی روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے۔
راتوں کو رت جگا اور کرکٹ میں مصروف نوجوان : 
بعض محلوں میں نوجوان افطار اور تراویح کے بعد رات گئے تک کرکٹ کھیلتے یا گلی کوچوں میں بے مقصد گھومتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ سرگرمیاں سحری تک جاری رہتی ہیں۔اگرچہ کھیل کود جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے، مگر رمضان میں اعتدال اور عبادت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ جب راتیں عبادت کے لیے مخصوص ہوں اور نبی کریم ﷺ ان راتوں میں عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے، تو ہمیں بھی ان مبارک اوقات کی قدر کرنی چاہیے۔
مساجد میں ہنسی مذاق اور بے ادبی : 
مسجد اللہ کا گھر ہے۔ یہاں سکون، وقار اور خشوع و خضوع ہونا چاہیے۔ لیکن بعض نوجوان مساجد میں ہنسی مذاق، شور شرابہ یا غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مساجد اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں۔"
لہٰذا مسجد میں دنیاوی باتوں اور بے ادبی سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
تراویح میں وقت گزاری اور جماعت کی بے قدری : 
کچھ نوجوان تراویح کی نماز کو محض وقت گزاری سمجھتے ہیں۔ نماز کے دوران موبائل دیکھنا، صفوں میں کھڑے ہو کر باتیں کرنا یا جلدی باہر نکل جانا عام منظر بن چکا ہے۔
اسی طرح بعض افراد جماعت کھڑی ہونے کے باوجود جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور مسجد کے باہر یا صحن میں کھڑے رہتے ہیں یا امام صاحب کے رکوع میں جانے تک بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نمازِ جماعت کی اہمیت کے منافی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جماعت کے ساتھ نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ افضل ہے۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
اصلاح کی ضرورت اور نوجوانوں کا کردار : 
آج کے نوجوان امت کا مستقبل ہیں۔ اگر وہ رمضان کی اصل روح کو سمجھ لیں تو معاشرہ سنور سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ:
موبائل اور گیمز کے استعمال میں اعتدال اختیار کیا جائے۔
روزانہ قرآن کی تلاوت کا معمول بنایا جائے۔
پنج وقتہ نماز اور تراویح باجماعت ادا کی جائے۔
مساجد کے ادب و احترام کا خیال رکھا جائے۔
راتوں کو عبادت، دعا اور ذکر میں گزارنے کی کوشش کی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔