فروری 28....یوم قومی سائنس کے موقعہ پر اک مضمون۔" مسلمان طبقہ اور عصری علوم"۔ - مضمون نگار : سی. عبدالعزیز تسلیم، نندیال ڈسٹرکٹ، آندھراپردیش ، انڈیا...
فروری 28....یوم قومی سائنس کے موقعہ پر اک مضمون۔
" مسلمان طبقہ اور عصری علوم"
مضمون نگار : سی. عبدالعزیز تسلیم،
نندیال ڈسٹرکٹ، آندھراپردیش ، انڈیا...
9059590071
اللہ تعالیٰ نے دنیا بنایا.. اس دنیا میں کئ ہزار مخلوقات کا جنم ہوا.. جن میں انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیاگیا... یہ لقب اس لے دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات میں انسان ہی کو علم دے رکھا ہے..
روز اول سے ہی مسلمانوں کے ہر طبقہ نے علم سے شغف رکھا.. کہیں ، کسی کتاب میں، میں نے پڑھا ہے کہ " مسلمانوں میں ایک زمانے میں اپنے گھروں میں کتابوں کو رکھنے کا ذوق و شوق اس قدر عام تھا کہ بڑے بڑے مالدار لوگ گراں و نایاب، دستیاب کتابوں کی خریداری کرکے اپنے گھروں میں رکھتے تھے... تاکہ اہل علم اور جن کو ضروری کتابوں کی تلاش ہو ان کے گھر آئیں..
جب یورپ کےمذہب عیسائی کے مذہبی راہبوں نے علم سائنس کو خلاف مذہب قرار دیتے ہوےء ممنوع قرار دیا.. لیکن مشرق میں سلاطین اسلامیہ نے علم سائنس کے فروغ میں فراغ دلی کا مظاہرہ کیا.. علم فلکیات اور دگر سائنسی شاخوں میں حیرت انگیز ایجادات ہوےء. اور کائنات کے پوشیدہ علوم سے عقل انسانی کو آشنائی حاصل ہوئ. شمس و قمر پر تجربات کے لےء ٹھوس اور مضبوط بنیادیں، سہولتیں حاصل ہوئیں. عہد اسلامی کے سائنس دانوں اور ان کے کارناموں پر بہت کچھ تصانیف آج بھی محفوظ ہیں.. لیکن ان کو پڑھنے والا ہے کہاں...؟ ہم نے انہیں تصانیف کا مطالعہ کرتے اس مضمون کو قلمبند کیا..
ذرا سوچیں...!
انسان قدرت کا شاہکار ہے.. قدرت نے "تخلیق" انسان کا ایک اعلی اور عظیم مقصد قرار دیا.. لیکن اج مسلم طبقہ اس لفظ سے ہی نا آشنا ہے..
عربک مدارس اور ناظم حضرات
________________________
عربک مدارس میں زیر تعلیم طلبہ.. پر مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کا ذہین بہت تیز رہتا ہے... رواں تعلیمی سال میں آندھراپردیش میں ٹیچرس ٹریننگ میں داخلہ کے لےء منعقد ہ مسابقتی امتحان "ڈائیٹ سیٹ" کیء ریگولر اردو طلبہ ناکام ہونے پر سیٹیں خالی رہ گےء.. اس امتحان کے صرف ایک مہینہ قبل مدرسہ سے فارغ طلبہ جس نے اوپن سکول سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا اور ڈائٹ سیٹ کی تیاری کے سلسلہ میں مجھ سے رابطہ رکھا.. میں نے رہنمائی کی اور دستیاب مواد دیا.. بہ فضل تعالیٰ اس لڑکے کو رینک ملا.. آج ٹانڈرا پاڈو گورنمنٹ ڈائٹ کالج میں زیر تربیت ہے. حاصل کلام یہ کہ اگر عربک مدرسہ کے ناظم حضرات دینی تعلیم کے ساتھ معیاری طور پر عصری تعلیم کا اہتمام کریں تو زمانے قدیم کے مانند آج بھی مسلمان طبقہ شعبہ علم اور سائنسی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے...
تبلیغی جماعت اور ذمہ داران
_________________________
یہ حقیقت ہے کہ آج کے فحش اور عیاشی دور میں مسلمانوں میں دینی رجحان بالخصوص نوجواں صوم و صلوۃ کے پابند رہنے کا سہرا تبیلیغ جماعت ہی کو جاتاہے.. ذمہ داروں کے ایک اعلان پر سیکنڈوں میں لاکھوں، کروڑوں کا چندہ جمع ہوتا ہے..کہیں اجتماعی اجلاس کے لے جھٹ پٹ لاکھوں، کروڑوں کا صرفہ ہوپاتاہے.. اگر تبیلیغ جماعت علم کے فروغ میں دلچسپی رکھتے، کم از کم منڈل یا ڈسٹرکٹ سطح پر اسکولوں، کالجوں، Neet, انجینئرنگ کوچنگ سینٹرس کے قیام کا منصوبہ رکھتے عملی جامہ پہناےء تو یقیناً عہد وسطی کی مانند حالیہ دور میں مسلمان طبقہ عصری علوم بالخصوص سائنسی شاخوں میں آگے بڑھے گا...جس طرح زمانے قدیم میں، علم سائنس میں، خالد بن یزید، بنو موسی شاکر، حکیم ابو محمد العدلی، امام محمد بن احمد غزالی، ابو حاتم مظفر، حکیم ابو نصر، اس طرح ہمیں سینکڑوں نام ملیں گے.. اگر عربک مدارس کے منتظمین حضرات اور تبلیغ جماعت کے ذمہ داران مسلم طبقہ کی عصری تعلیم پر فکر کریں تو یقینا عہد وسطی کے مانند دور حاضر میں بھی سینکڑوں، ہزاروں مثل عبدالکلام ( میزائل مین) بن کر آگے بڑھ سکتے ہیں....
Comments
Post a Comment