فروری27، یومِ مراٹھی زبان: تاریخ، صورتحال اور اردو–مراٹھی رشتہ۔ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
فروری27، یومِ مراٹھی زبان: تاریخ، صورتحال اور اردو–مراٹھی رشتہ۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
مہاراشٹر کی تہذیبی شناخت اور فکری روایت میں مراٹھی زبان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ریاست میں ہر سال 27 فروری کو یومِ مراٹھی زبان منایا جاتا ہے تاکہ نئی نسل میں زبان کی محبت، ادبی شعور اور ثقافتی وابستگی کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دن محض ایک رسمی تاریخ نہیں بلکہ لسانی خود آگاہی اور تہذیبی تسلسل کی علامت ہے۔
27 فروری یومِ مراٹھی زبان کیوں منایا جاتا ہے؟
27 فروری کو یومِ مراٹھی زبان منانے کا مقصد مراٹھی زبان کے ادبی سرمائے، علمی روایت اور سماجی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن ریاست بھر میں تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور ثقافتی مراکز میں تقریبات، مشاعرے، مضمون نویسی کے مقابلے، کتاب میلوں اور مباحثوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہ دن اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم و اظہار نہ صرف ذہنی نشوونما کو مضبوط کرتا ہے بلکہ قومی و ریاستی شناخت کو بھی مستحکم بناتا ہے۔
ریاستِ مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کی صورتحال
مراٹھی زبان ریاست کی سرکاری زبان ہونے کے باوجود عملی زندگی میں کئی چیلنجوں سے دوچار ہے۔ شہری علاقوں میں انگریزی اور ہندی کے بڑھتے ہوئے اثر نے مراٹھی کے روزمرہ استعمال کو متاثر کیا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں مراٹھی کی حیثیت اکثر ثانوی رہ جاتی ہے جبکہ نئی نسل کے درمیان مراٹھی رسم الخط اور کلاسیکی ادب سے دوری ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود دیہی علاقوں، سرکاری اداروں اور ادبی حلقوں میں مراٹھی زبان پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔ مراٹھی اخبارات، تھیٹر، لوک ادب اور جدید شاعری زبان کو نئی جہتیں فراہم کر رہے ہیں۔
مراٹھی زبان کے فروغ و بقاء کے لیے ریاستی حکومت کے اقدامات
ریاستی حکومت نے مراٹھی زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں اہم یہ ہیں:
تعلیمی سطح پر مراٹھی کی ترویج:
اسکولوں میں مراٹھی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنا، اساتذہ کی تقرری اور نصابی کتابوں کی تیاری۔
سرکاری امور میں مراٹھی کا استعمال:
سرکاری دفاتر میں مراٹھی زبان کو ترجیح دینا اور مراٹھی میں سرکاری خط و کتابت کی حوصلہ افزائی۔
ادبی اداروں اور اکادمیوں کا قیام:
مراٹھی ساہتیہ اکادمی اور دیگر ثقافتی اداروں کے ذریعے مصنفین اور شاعروں کی سرپرستی۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مراٹھی کا فروغ:
ای-لرننگ، آن لائن لائبریریاں اور مراٹھی زبان میں سرکاری ویب سائٹس کی تیاری۔
یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست مراٹھی زبان کو محض روایت نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت سمجھتی ہے۔
اردو اور مراٹھی زبان کا باہمی رشتہ
اردو اور مراٹھی کا رشتہ صدیوں پر محیط تہذیبی میل جول کا نتیجہ ہے۔ دونوں زبانیں اسی سرزمین پر پروان چڑھیں، ایک ہی فضا میں سانس لیتی رہیں اور ایک دوسرے کے الفاظ، محاورات اور اندازِ بیان سے متاثر ہوئیں۔
ممبئی، پونہ، اورنگ آباد اور ناگپور جیسے شہروں میں اردو اور مراٹھی نے مشترکہ تہذیب کو جنم دیا۔ مراٹھی تھیٹر میں اردو کے الفاظ کی مٹھاس دکھائی دیتی ہے تو اردو شاعری میں مراٹھی لہجے کی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
یہ رشتہ مقابلے کا نہیں بلکہ تکمیل کا ہے — ایک زبان دوسری کو کمزور نہیں کرتی بلکہ مضبوط بناتی ہے۔
یومِ مراٹھی زبان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور تہذیب کا آئینہ ہوتی ہے۔ مراٹھی زبان کا فروغ دراصل مہاراشٹر کی روح کی حفاظت ہے۔ اسی طرح اردو اور مراٹھی کا رشتہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مختلف زبانیں مل کر ہی سماجی ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔
آخر میں اردو–مراٹھی رشتے کو ہم نے یوں جانا
اردو نے مراٹھی سے یہ رشتہ جو نبھایا
دو بول ملے تو تہذیب نے رنگت کو سنوارا
میں نے تو کہا بس یہی دونوں کا ہے پیغام
لفظوں کی سرحد پہ نہ دیواریں اٹھانا.
: عقیل خان بیاولی ۔
Comments
Post a Comment