جرس فلسطین ! ۔۔۔۔ ازقلم : عثمان جوہری جلگاؤں ۔


جرس فلسطین !
ازقلم : عثمان جوہری جلگاؤں ۔


دو قدم کلمہء توحید بسوئے منزل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 


زہر قاتل ہے فلسطین میں یورپ کا دھواں
آج بھی ظلم ہے کیوں نیل کے پانی پہ رواں
آہ مظلوم کی کیوں زیرو زبر لگتی ہے 
اب تو ملتے بھی نہیں ان کے مکانوں کے نشاں

کتنی روحیں ہوئیں قربان بہ جانِ بسمل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

ایسی خاموش ہے ملت کوئی آواز نہیں
نغمہء درد تو زندہ ہے مگر ساز نہیں
آرزو مند محبت کا تقاضا نہ کریں؟
کرگسِ فکر پہ شاہیں تری پرواز نہیں

زہدِ افلاک تمنا سے ہوا کیا حاصل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

باعثِ عزم فلسطین ہے غزہ کی زمیں
کتنے حیران و پریشان مقدس کے مکیں
فرش سے عرش تلک آہ و فغاں جاری ہے
فلسف ٹوٹ گیا جہدِ مسلسل کا یقیں

وہ فراست کہ جہاں دین ہوا ہے کامل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

کون آئے گا انھیں حوصلہ دینے کے لیے
بندشِ عقل کا وہ حاشیہ دینے کے لیے
جن کی املاک عداوت میں زمیں دوز ہوئیں
آؤ! میدا‍ں میں انھیں مرتبہ دینے کے لیے

ایک ذیشان مجاہد کے لیے کیا مشکل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

آتشِ زیم فلسطین پہ ڈھاتے ہیں ستم
پاس مظلوم ِ تمنا ہے ترا رحم کرم
آب و دانہ بھی گیا بھوک سے لاچار ہوئے 
صبر آمیز نگاہوں کا نہ ٹوٹے وہ بھرم

اس سمندر کو ملے دین کا بہتر ساحل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

فرقِ بنیاد میں طاغوتِ ستمگر کا بیاں
طرز اوصاف کے مضمون ترستے ہیں یہاں
قول کاذب ہے نتیجہ بھی حمایت میں نہیں
دور نظروں سے ہوا کیوں وہ حقیقت کا جہاں

کتنا ڈھاتی ہے ستم آج وہ قومِ جاہل 
ارضِ تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

نفس کے زیر ستم ہے یہ خرد چاک جگر
جھوٹی باتوں کا خیالوں پہ ہوا ہے یہ اثر 
ننگ تصویر نظر میں ہے بنامِ دنیا
اک قیافہ ہے ستمگرکا فقط زیرِ نظر

ایک مغرور ستم گر جو بنا ہے قاتل 
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

چیختے درد کی فریادبھی خاموش ہوئی 
حد تو یہ ہے کہ کفالت بھی تو روپوش ہوئی
دامن ضپط کے ہاتھوں میں فقط محرومی 
کیوں یہاں خوئے انا اس طرح مدہوش ہوئی

چلمنیں چاک ہوئیں ٹوٹ گئی ہے محمل 
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

کیوں مڈل ایسٹ کے چنگل میں ہے عربوں کی زمیں 
خون پیتے ہیں غریبوں کا سیاست کے امیں 
ان کو زر خیز حماقت نےبنایا جلاد 
کیا بتائیں کہ جسد جسم کہیں جان کہیں

کیا نتیجہ ہے تکبر کا پتہ ہے جاہل
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

رونقِ دید بنے گلسنِ ہستی کے چراغ
کتنے تقدیر صفت ہیں ترے قوموں کے ایاغ
تیری رحمت کے سہارے ہی ہیں مومن بندے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں دنیا میں محبت کا سراغ

ِّعزمِ تبلیغ کا مرکز ہے مکمل فاضل
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

دل ہو مطلوب خرد نفس شکن دوز نہیں
مطمئن ہیعتِ تقدیر ستم سوز نہیں
اک تخیل کے سوا اور وراثت کیا ہے
میری قسمت میں کوئی نظم کا افروز نہیں

کیوں نہیں ہوتے مقدس کے لیے دل مائل
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل 

کس قدر خاک ہوئے ہیں کوئی گنتی ہی نہیں 
 اتنی پاکیزہ زمانےمیں تو مٹی ہی. نہیں
اک مٍرکب ہے مرے خون کا غزہ میں شہید
میم معراج کا مرکز ہے یہ ہستی ہی نہیں

 دل کے ہر لمس میں قبلہ ہے نگاہِ قابل
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل

ضربِ ہو مسلکِ توحید ہے یہ صبر و رضا
ہے ترے عالم فردوس میں روحوں کی غذا
ایک مومن کی شہادت ہے ترا قرب حسیں
طالب عشق ہے عثمان ترے دل کی دعا

وصف اظہار ادب کیا ہے سمجھ لے عاقل
ارض تخلیق مقدس ہے فلسطین کا دل.
*صوفی شاعر حضرت عثمان جوہری صاحب امت کا درد رکھتے ہیں فلسطین کو لیکر ایک تازہ فکر مند نظم "جرس فلسطین" ہمدردان ملت کے نام* ....
انتخاب عقیل خان بیاولی جلگاؤں ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ