شر کیا ہے؟ کیا اس کی جھلک آنکھوں میں نظر آتی ہے؟از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔


شر کیا ہے؟ کیا اس کی جھلک آنکھوں میں نظر آتی ہے؟
از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔ 

      شر ایک ایسا لفظ ہے جو صدیوں سے انسانی فکر، مذہب، اخلاقیات اور سماجی شعور میں زیرِ بحث رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا تصور معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی نفس، نیت اور عمل سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ عام طور پر ہم شر کو کسی برے کام، ظلم، فریب یا فساد کے مترادف سمجھتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا شر صرف اعمال میں ظاہر ہوتا ہے یا اس کی جھلک انسان کی آنکھوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے؟شر دراصل انسان کی اس اندرونی کیفیت کا نام ہے جو خیر کے برعکس ہو۔ یہ وہ رجحان ہے جو انسان کو خود غرضی، حسد، نفرت، تکبر اور ظلم کی طرف مائل کرتا ہے۔ مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شر نفسِ امّارہ کا نتیجہ ہے، وہ نفس جو انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے۔ فلسفیانہ اعتبار سے شر اس وقت جنم لیتا ہے جب عقل، اخلاق اور ضمیر کی آواز کو دبا دیا جائے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی آنکھوں میں شر ہے۔ یہ بات سائنسی نہیں بلکہ نفسیاتی اور مشاہداتی ہے۔ آنکھیں انسان کے باطن کی خاموش مگر گہری ترجمان سمجھی جاتی ہیں۔ خوشی، خوف، محبت، حسد اور غصہ یہ سب کیفیات آنکھوں کے ذریعے بے اختیار ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جب کسی شخص کے دل میں بغض، انتقام یا فریب پل رہا ہو تو اس کی آنکھوں میں ایک خاص سختی، تیزی یا بے رحمی جھلکنے لگتی ہے۔ اسی لیے اہلِ بصیرت آنکھوں کو "دل کا آئینہ" کہتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ شر صرف آنکھوں میں ہی پایا جاتا ہے۔ آنکھیں تو محض اندرونی کیفیت کی عکاس ہوتی ہیں، اصل شر انسان کے دل اور نیت میں جنم لیتا ہے۔ بسا اوقات ایک شخص نہایت معصوم شکل و صورت رکھتا ہے، اس کی آنکھوں میں نرمی ہوتی ہے، مگر اس کے اعمال سراسر شر پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگ سخت نگاہ رکھتے ہیں، مگر ان کے دل میں خیر اور رحم پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر کا حتمی فیصلہ ظاہری مشاہدے سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے کیا جانا چاہیے۔ معاشرتی سطح پر شر اس وقت خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے جب اسے معمول بنا لیا جائے۔ جھوٹ کو ہوشیاری، فریب کو عقل مندی اور ظلم کو طاقت سمجھا جانے لگے تو پورا سماج شر کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ایسے ماحول میں نگاہیں صرف شر کو دیکھنے کی عادی نہیں ہوتیں بلکہ اسے قبول بھی کر لیتی ہیں، اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ شر کا مقابلہ صرف قانون یا طاقت سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے اخلاقی تربیت، روحانی بیداری اور خود احتسابی ضروری ہے۔ جب انسان اپنے باطن کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں بھی نرمی، سچائی اور خیر کی روشنی اتر آتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شر نہ تو آنکھوں میں پیدا ہوتا ہے اور نہ وہیں ختم ہوتا ہے، البتہ آنکھیں اس کے وجود کی خبر ضرور دے دیتی ہیں۔ اصل معرکہ انسان کے دل میں برپا ہوتا ہے، جہاں خیر اور شر آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے دل کو خیر کے تابع کر لیتا ہے، اس کی آنکھیں خود بخود امن، محبت اور انسانیت کی گواہی دینے لگتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ