ایوبی صاحب کی یاد میں آئیڈیا کی جانب سے ایک جذباتی نشست۔
ایوبی صاحب کی یاد میں آئیڈیا کی جانب سے ایک جذباتی نشست۔
شکنتلم اسٹوڈیو میں27 جنوری کی شام نہایت پُرسوز اور پُراثر تھی۔ آئیڈیا نے سینئر جرنلسٹ، ادیب اور اسٹیج کے پہلے ’’پریم چند‘‘ جناب محمود ایوبی کی 16ویں برسی کے موقع پر ایک تہذیبی نشست کا اہتمام کیا، جس میں اہلِ خانہ اور رفقائے کار نے اُن کی یادوں کو دل سے قریب تر محسوس کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ محفل صرف ایک صحافی، ایک ادیب یا ایک فنکار کی یاد میں نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے سچے، کھرے اور بے ساختہ انسان کا ذکر تھا جس نے ہر دل میں اپنی الگ ہی جگہ بنائی۔
صدر آئیڈیا مجیب خان نے اپنے ابتدائی کلمات میں وہ دن یاد کیا جب انہوں نے ایوبی صاحب سے کہا تھا کہ وہ منشی پریم چند کی کہانیوں پر مبنی ڈراموں کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، جس کا نام ہوگا "آداب، میں پریم چند ہوں"، اور اس میں پریم چند کا کردار انہیں ہی ادا کرنا ہے۔ ایوبی صاحب نے اپنی مخصوص سادگی کے ساتھ جواب دیا، “آپ بڑا رسک لے رہے ہیں”۔ اس پر مجیب خان نے مسکرا کر کہا، “اگر لوگوں نے پسند کیا تو یہ آپ کی محنت ہے، اور اگر ناکام ہوئے تو ذمہ داری میری۔”
وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ محض ایک جرات نہیں، بلکہ ایک روشن مثال تھا۔ شو غیر معمولی کامیاب ہوا، اور ایوبی صاحب اسی روپ میں گھر پہنچے تاکہ اپنے اہلِ خانہ کو حیران کر سکیں۔ آج یہ سلسلہ ہندوستان میں ڈراموں کی ایک طویل ترین روایت کے طور پر زندہ ہے۔ اور اس سیریز کا نام “لمکا بک آف ریکارڈ اور ورلڈ وائڈ بک آف ریکارڈ” میں درج ہے۔
ایوبی صاحب کے ساتھی ریاض شیخ نے ان کی برجستہ حسِ مزاح اور طنزیہ لطافتوں کا ذکر اس انداز سے کیا کہ محفل لمحہ بھر کے لیے مسکرا اُٹھی۔ سراج انصاری نے بھی اپنی یادوں کے دریچے کھولے۔ سینئر جرنلسٹ سعید حمید نے ایوبی صاحب کی صاف گوئی، بےتکلف طبیعت اور نگار لائبریری کی دیرینہ محفلوں کی داستان چھیڑی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایوبی صاحب کا دل ایسا آئینہ تھا جس میں سچائی اور ایمانداری صاف جھلکتی تھی۔ ہر عمر اور ہر مزاج کے لوگ ان سے محبت کرتے تھے، اور شاید یہی انسان ہونے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
سعید حمید نے ایک گہری بات کہی—“ایوبی صاحب تو دوبارہ نہیں آ سکتے، مگر اُن کی عادتیں، اُن کی سچائی، اُن کی شفافیت ہم چاہیں تو آج بھی اپنے اندر بسا سکتے ہیں۔” محفل کچھ دیر کو سنجیدہ ہوگئی۔
پھر وہ لمحہ آیا جب فوزیہ ایوبی نے مائیک سنبھالا۔ جذبات سے بھرپور رُکی ہوئی آواز، نمناک آنکھیں—اور دل سے نکلے وہ الفاظ جو پورے ماحول کو سوگوار کر گئے:
“ہمارے ابو نے ہمیں سب کچھ اپنی زندگی میں ہی دے دیا تھا۔”
انہوں نے اپنی والدہ کی تکلیف اور گھر کی مصروف زندگی کا ذکر کرتے ہوئے وہ واقعہ سنایا جب انہوں نے غصّے میں والد کو کہا تھا کہ ملنے والوں کی تعداد کم کیا کریں۔ جواب میں ایوبی صاحب نے دھیرج سے کہا تھا:
“ہماری زندگی میں تو لوگ آئیں گے، مگر ہماری موت کے بعد کوئی نہیں آئے گا۔”
فوزیہ ایوبی کی لرزتی ہوئی آواز نے سب کے دلوں کو چھو لیا کیونکہ اُس ایک جملے میں زندگی اور انسانیت دونوں کا فلسفہ پنہاں تھا۔
ان کی نواسی سیما نے نانا کے ساتھ گزارے ہوئے وہ قیمتی لمحات یاد کیے جو اب صرف دل کی ڈائری میں محفوظ ہیں۔
آخر میں مجیب خان نے شکریہ ادا کیا اور یہ پُرسوز نشست اپنے اختتام کو پہنچی—مگر یادوں کے دروازے کھول کر۔
یہ محفل گزر گئی، مگر یہ احساس چھوڑ گئی کہ کچھ شخصیات وقت سے نہیں ہوتیں، وہ دلوں سے بنتی ہیں؛ اور دلوں میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ محمود ایوبی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
Comments
Post a Comment