غزل۔۔۔۔ ازقلم۔۔۔۔ عبدالرشید شاؔدچکولی ،دھارواڑ۔ کرناٹک۔


غزل۔۔۔۔  
ازقلم۔۔۔۔  عبدالرشید شاؔدچکولی ،دھارواڑ۔ کرناٹک۔

حسین چہرے سے زلف سر کی، چاندنی سی بکھر گئی ہے
تمہارے ہاتھوں کا لمس پا کر ،حیات میری نکھر گئی ہے

وفا کی دیوی ،حیا کی مورت، وہ سامنے ہے میں سوچتا ہوں
میرے مقدر میں جانے کیسے ، پری سی کوئی ا تر گئی ہے

گلوں میں رنگت، فضا میں خوشبو، اسی کی آمد سے ہے یہ شاید
یہاں کا موسم بتا رہا ہے، ادھر سے ہو کر ادھر گئی ہے

درِ نگاہوں سے ہو کے اب تک، کوئی نہ دل میں اتر سکا تھا
ہماری انکھیں کھلی کھلی ہیں، وہ دل کے اندر اتر گئی ہے

اگر سناؤں میں حال دل کا، رقیب میرے یہی کہیں گے
ہمارا دل بھی تڑپ رہا ہے، ہمیں بھی پاگل وہ کر گئی ہے

یہیں کہیں ہے وہ حسن کامل، یہ جس کی خاطر غزل کہی ہے
اس ایک مصرع کوسن کے میرے، نگاہ سب کی ادھر گئی ہے

نثار اس پر ہوا ہوں کب کا، میں شاؔد خود کو بھلا چکا ہوں
نظر ملا کر وہ جان میری ،مجھے دیوانہ ساکر گئی ہے


                 عبدالرشید شاؔدچکولی ،دھارواڑ۔ کرناٹک

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ