طویل نظم۔۔۔۔ نیا سال۔۔۔از قلم : ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر یوپی۔
طویل نظم۔۔۔۔ نیا سال۔۔۔
از قلم : ابوذر صفدر نریاؤں امبیڈکر نگر یوپی۔
8354041050
میں نیا سال مناؤں تو منائوں کیوں کر
کیا گلِ تر میں بدل جائیں گے خونی منظر
کیا نئے سال میں بھر جائیں گے رستے ہوئے زخم
درد کی آنچ میں پیہم یہ سلگتے ہوئے زخم
لیکے خورشید محبت کی کرن نکلے گا
روئے افسردہ کو کیا رنگِ حنا بخشے گا
دل کے ویرانے میں کیا پھول کھلا دے گا یہ
مری اجڑی ہوئی دنیا کو بسا دے گا یہ
مرے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملا دے گا یہ
لوریاں گاکے مرے غم کو سلادے گا یہ
سرد ہونگے نہ کبھی میرے سلگتے دن رات
پھر مجھے آنکھ دکھائیں گے دگرگوں حالات
مسلے جائیں گے یدِ غم سے گلابِ جذبات
غم کے آتش کدہ میں پھر سے جلیں گے دن رات
درد کے ماروں پہ کیا ہوگی خوشی کی برسات ؟
غم کے صحراؤں میں اس سال بھی بھٹکے گی حیات
دل کی بیچینی. وہی درد کا عالم ہوگا
قلب کشتہ کا وہی نوحہ و ماتم ہوگا
روز و شب ہونگے وہی اور وہی شام و سحر
میں نیا سال مناؤں تو منائوں کیوں کر
کیا نئے سال میں بھوکوں کو ملے گی روٹی؟
مسلی جائے گی نہیں آصفہ سی کوئی کلی؟
عائشہ نربھیا کے خونی سزا پائیں گے؟
عیش و عشرت بھرے دن لوٹ کے آجائیں گے؟
کھل کے مسکائیں گے کیا مفلس و نادار و یتیم؟
گلشنِ قلب کو مہکائے گی کیا بادِ نسیم؟
روزی روٹی کو نہیں بھٹکے گا کوئی انسان؟
خودکشی اب نہ کرے گا کوئی مزدور کسان؟
روزگار اب کے نئے سال میں مل جائے گا؟
دیش کا نقشہ نئے سن میں بدل جائے گا؟
بیٹی مفلس کی بآسانی بنے گی دلہن؟
نذرِ آتش نہ کی جائے گی کوئی بیٹی بہن؟
ہندو مسلم کے نہ اب دیش میں دنگے ہوں گے؟
کسی بھی دھرم کے ہوں سب بھلے چنگے ہونگے؟
وہ جو دہلیز پہ بیٹھے ہیں تھکے ہارے سے
روشن آنکھوں میں کئے اپنی امیدوں کے دئے
جن کے آنگن میں کبھی گونجتی تھی شہنائی
ان کے حصے میں ہے بس آج غمِ تنہائی
جن کو ماں باپ نے پالا تھا لہو دے دے کر
لاڈلے آج انہیں کرتے ہیں گھر سے بے گھر
کیا نئے سال میں لوٹیں گے وہ بچھڑے ہوئے لال ؟
پوچھنے کوئی نہ آئے گا بزرگوں کا حال
مطلبی شہر میں رشتوں کا جنازہ نکلا
خون خاموش تماشائی بنا ہے، کیا کیا؟
ممتا روتی ہے کسی کونے میں منہ کو ڈھانپے
بوڑھا باپ اپنے سگے بیٹے سے تھر تھر کانپے
اب کے بھی سال اگر ایسی جفا لائے گا
کون رشتوں کے تقدس کو بچا پائے گا؟
گھر تو سیمنٹ کے تھے ، دل بھی ہوئے پتھر کے
کتنے پتے ہیں گرے شاخِ شجر سے ڈر کے
دعویٰ ہے مہر و وفا کا مگر الفت غائب
دل کے ایوان سے اخلاص کی دولت غائب
کاش اولاد کو احساسِ ندامت ہو جائے
پھر سے آباد محبت کی عمارت ہو جائے
جرم کرتا ہے کوئی اور کوئی بھرتا ہے
مال و دولت کے عوض عدل یہاں بکتا ہے
بے گنہ بے خطا جیلوں میں بھرے جاتے ہیں
جو ہیں مجرم انہیں اعزاز دئے جاتے ہیں
کیا نیا سال عدالت میں سحر لائے گا؟
عدل مظلوم عدالت میں کوئی پائے گا
فائلوں سے دبی سسکی یہ بھلا کس کی ہے
کون مظلوم ہے ہچکی یہ بھلا کس کی ہے
عدل و انصاف کے مارے ہوئے جانے کتنے
زندگانی کے ستائے ہوئے جانے کتنے
زیست کی شمع اچانک وہ بجھا دیتے ہیں
خرمنِ ہستی کو یکلخت جلا دیتے ہیں
اب کے امید ہے زنجیریں پگھل جائیں گی
قید خانوں کی فضائیں یہ بدل جائیں گی
دستِ قدرت ہی چھڑائے گا انہیں بندش سے
پاک کر دے گا زمیں کو ہر اک آلائش سے
جادہُ حق و صداقت سے بھٹک بیٹھے ہیں
کرکے گل اپنی جوانی کی للک بیٹھے ہیں
زہر رگ رگ میں اترتا ہے دھوئیں کی صورت
پیر خوردہ نظر آتی ہے شبابی مورت
ماں کی آنکھوں کے ستارے ہوئے تاریک تمام
پی کے بس مست پڑے رہتے ہیں ان کے گلفام
اے نئے سال بتا تجھ سےیہ میرا ہے سوال
کیوں ہیں پستی میں نئی نسل کے خوش رنگ و جمال
علم و حکمت کی جگہ ہاتھ میں ساغر کیوں ہے؟
آدمی جامہُ انسانی سے باہر کیوں ہے؟
کل کے معمار اگر خاک میں مل جائیں گے
پھر گلستاں میں کہاں پھول یہ کھل پائیں گے؟
وقت کی رو میں بہی جاتی ہے ناداں پیڑھی
موت کی سمت بڑھی جاتی ہے ناداں پیڑھی
کوئی رہبر نہیں، ہادی نہیں، محرم ہی نہیں
درد ایسا ہے کہ جس کا کوئی مرہم ہی نہیں
اٹھو بیدار کرو امتِ خوابیدہ کو
کب سنوارو گے بھلا گیسوئے پیچیدہ کو
عزمِ نو لے کے اٹھو، خاک کو گلزار کرو
زندگی اپنی جوانو نہ یوں بیکار کرو
دھرم کے نام پہ کیوں خون بہایا جائے؟
گھر کسی بھائی کا ہرگز نہ جلایا جائے؟
نام پر مسجد و مندر کے جھگڑنا چھوڑو
اب بہت ہوچکا اک دوجے سے لڑنا چھوڑو
کیا نئے سال میں ہم ایک نہیں ہو سکتے؟
پھول الفت کے محبت کے نہیں بو سکتے؟
وہ جو انسان ہے، اس کو فقط انساں سمجھو
دکھ اگر اس کو ملے، اپنا ہی نقصان سمجھو
ایک انسان کی اولاد ہیں سب بھائی ہیں
یہ جو ہندو ہیں مسلمان ہیں عیسائی ہیں
جب تلک سینوں میں یہ بغض وجلن باقی ہے
چودھویں چاند پہ سمجھو کہ گہن باقی ہے
چاند تارے تو سبھی کے لیے اک جیسے ہیں
دل میں نفرت کے شرارے یہ بھلا کیسے ہیں؟
کیا یہ تہذیب ہے؟اور کیا ہے تمدن بولو
پیار سے مل کے رہیں گے سبھی یہ عہد کرو
آؤ مل جل کے محبت کو سرِ عام کریں
شر پسندوں کی تدابیر کو ناکام کریں
عدل و انصاف و مساوات کے خوگر بن جائیں
خاک سے شمس و قمر نجمِ منور بن جائیں
کس طرح عید منائے گی یہ اجڑی بستی
ہوگئی نیست و نابود وہ جن کی بستی
ہر طرف چیخ پکار اور لہو کے منظر
سرخ آندھی کے نشانے پہ ہے ہر ایک شجر
سرخ ہے آج بھی غزہ کی وہ جلتی ہوئی ریت
بم و بارود اگلتے ہویے غزہ کے کھیت
چھت میسر نہیں بچوں کو نہ سر پہ آنچل
آسماں سے ہے برستی ہوئی آگ اور اجل
خامشی اوڑھ کے بیٹھے ہیں زمانے والے
جھوٹی ہمدردی جتاتے ہیں زمانے والے
کیا نئے سال میں بدلے گی یہ رسمِ سفاک؟
امن کے پانی سے دھل جائے گا ظلمِ ناپاک؟
ظلم کے ہاتھ سلامت نہ رہیں گے اب کے؟
آہِ مظلوم سے کیا لرزیں گے ایواں سب کے؟
وقت لائے گا پلٹ کر وہی عہدِ زریں؟
پھر سے کھل جائیں گے عالم میں گلِ امن حسیں
صلح و انصاف کی رت آئے گی اب کے ہر سو
رنگ لائے گا نئے سن میں شہیدوں کا لہو
جب تلک پیار کا پرچم نہ اڑے گا گھر گھر
جشن نو سال منائیں نہ یہی ہے بہتر
بھوک افلاس کے ماروں کا مقدر کیا ہے؟
صرف اک لقمہِ تر، دیدہِ تر میں کیا ہے؟
قصر تعمیر ہوئے، جھونپڑیاں ٹوٹ گئیں
ساری خوشیاں تو پھپھولے کی طرح پھوٹ گئیں
ٹوٹتا ضربِ گرانی سے ہے مفلس کا بدن
کتنے مردوں کو میسر نہیں دو گز بھی کفن
کیا نیا سال مٹائے گا تمیزِ من و تو؟
اسدِ غم سے ڈرے گی نہ خوشی کی آہو
ظلم کا جور کا نفرت کا صفایا ہوگا؟
امن کا عدل کا انصاف کا سایا ہوگا؟
ہو بہو ویسے ہی حالات نظر آئیں گے
اشک سے پیاس بجھائیں گے الم کھائیں گے
غلہ تحویل حکومت میں چلا جائے گا
پھر سے دہقاں کوئی پنکھے سے لٹک جائے گا
عہدِ نو! تیرے تپاک اور مروت پہ ہے شک
تیری تجدید پہ، اور تیری حقیقت پہ شک
گھر سے باہر جو کسی کام سے نکلیں گے ہم
مرحبا آئیے بولیں گے یہ بارود و بم
اور بجھ جائے گا یکلخت کسی گھر کا چراغ
کسی ماں باپ بہن بیٹے برادر کا چراغ
ڈگریاں ہاتھ میں اور دل میں امیدیں لےکر
روزی روٹی کے لیے پھر سے پھریں گے در در
جو جھکے تھے نہ سوا رب کے کسی کے در پر
بوس کے قدموں میں سر رکھ کے کہیں گے اکثر
بے سہاروں کو جناب آپ سہارا دیں
ڈوبتی کشتی کو سر آپ کنارا دیدیں
علم بازار میں بکتا ہے گراں قیمت پر
کون روئے گا یہاں قوم کی اس حالت پر
زہر آلود ہوا جاتا ہے ہر آبِ رود
کھو گئی وقت کے ہنگاموں میں آج اپنی نمود
کیا شعور اور بصیرت کا سویرا ہوگا؟
یا کہ پھر ذہن پہ اوہام کا ڈیرا ہوگا؟
سبھی تہذیب کے کیا سانچے میں ڈھل جائیں گے؟
تیرگی توڑ کے سورج سے نکل آئیں گے
زہر نفرت کا فضاؤں میں گھلا جاتا ہے
اور چراغ امن و محبت کا بجھا جاتا ہے
فکرِ اقبال سے خالی ہے جواں نسلِ زماں
قفسِ دہر میں محبوس ہے ہر ایک جواں
سال بدلے گا مگر منتشر و زولیدہ
سارے افکار ہمارے رہیں گے بوسیدہ
کاش انسان کی عظمت کا دوبارہ ہو ظہور
ٹوٹ جائے یہ انا اور یہ باطل کا غرور
اے مرے مالک و مختار! کرم اب کر دے
ساری دنیا کو سکون اور اماں سے بھر دے
ہنستے بستے رہیں اجڑے ہوئے انسانی نگر
دکھ کے زنداں میں مقید نہ ہو کوئی بھی بشر
پیار کی خوشبو سے مہکے یہ چمن زارِ جہاں
خوش و خرم رہیں آباد رہیں سب انساں
حق کا غلبہ رہے عالم میں سدا اے مولا
پرچمِ ظلم رہے سر نگوں ہر آن خدا
کرہ ارض پہ بس امن کے بادل برسیں
روز و شب صبح و مسا ہر گھڑی ہر پل برسیں
چاک دامن نہ کسی کا ہو نہ ہو قلبِ حزیں
سارے انسان بنیں مہر و محبت کے امیں
سالِ نو آئے تو خوشیوں کا پیمبر بن کر
سب کو چمکائے مثالِ مہ و مہر و اختر
کرے مرہم عطا ہر ایک دلِ زخمی کو
نور سے اپنے منور کرے ہر ہستی کو
حرفِ حق کہنے کی ہمت ہو عطا صفدر کو
نورِ ایماں سے منور کرے حق منظر کو
ظلم و بیداد کا خورشید جو ڈھل جائے گا
سارے عالم کا اگر نقشہ بدل جائے گا
سبھی بن جائیں گے جب مہر و وفا کے پیکر
تب. نیا سال مبارک ہو کہے گا صفدر
Very nice 👍
ReplyDelete