نیا سال : وقت کی تبدیلی یا شعور کا امتحان ؟ازقلم : ڈاکٹر بی۔بی۔ عائشہ چکولی۔دھارواڑ، کرناٹک۔


نیا سال : وقت کی تبدیلی یا شعور کا امتحان ؟
ازقلم : ڈاکٹر بی۔بی۔ عائشہ چکولی۔دھارواڑ، کرناٹک۔

ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی ،صدر شعبہ اردو،انجمن آرٹس،سائنس ،کامرس کالج اینڈپی جی اسٹدیز دھارواڑ ،کرناٹک
ہر نیا سال محض ایک عدد کا اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ وقت کی طرف سے انسان کے لیے ایک خاموش امتحان بھی ہوتا ہے۔ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھ جاتی ہیں، کیلنڈر کا ورق پلٹ جاتا ہے، مگر اصل سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا انسان بھی آگے بڑھا، یا صرف وقت گزر گیا؟
ہم نے نیا سال ہمیشہ ایک تہوار کے طور پر منایا ہے، ایک ایسے لمحے کے طور پر جس میں ہم خود کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آنے والا وقت بہتر ہوگا۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وقت خود کچھ نہیں بدلتا، تبدیلی کا اختیار ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہا ہے۔ اگر شعور بیدار نہ ہو تو صدیوں کا گزر جانا بھی سماج کو ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا۔
سماج افراد کا مجموعہ ہے، مگر اس مجموعے کی سمت کا تعین فرد کی سوچ کرتی ہے۔ ایک شخص کے بدلنے سے شاید پورا سماج نہ بدلے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی سماجی تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک ذہن سے ہوا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود کو بدلنے کی ذمہ داری قبول کی یا نہیں۔
آج بھی ہمارا معاشرہ کئی سطحوں پر فکری جمود کا شکار ہے۔ ہم روایت کے نام پر ناانصافی کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور اقدار کے نام پر امتیاز کو مقدس بنا چکے ہیں۔ گھروں میں بیٹی کو بوجھ اور بیٹے کو امتیازی مقام کی علامت سمجھنا محض ایک خاندانی رویہ نہیں، بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے۔ جب تک ہم ان تصورات پر سوال اٹھانے کی جرأت نہیں کریں گے، تب تک کسی نئے سال کی آمد ہمیں نیا سماج نہیں دے سکتی۔
نوجوان نسل کو اکثر آزادی کے نعروں میں الجھا دیا گیا ہے، مگر ذمہ داری کی زبان کم ہی سنائی دیتی ہے۔ آزادی اگر شعور سے خالی ہو تو وہ انتشار بن جاتی ہے، اور ترقی اگر اخلاق سے محروم ہو تو وہ محض ظاہری چمک رہ جاتی ہے۔ نیا سال نوجوانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ زندگی کو صرف ذاتی کامیابی کے پیمانے سے نہ ناپیں، بلکہ سماجی ذمہ داری کو بھی اپنی شناخت کا حصہ بنائیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہم تبدیلی کو ہمیشہ بڑے نعروں، انقلابی دعووں اور فوری نتائج سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سماجی تبدیلی اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ رویوں میں جنم لیتی ہے، زبان کے انتخاب میں ظاہر ہوتی ہے، اور روزمرہ کے فیصلوں میں اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اگر ہم نے کسی اختلاف کے باوجود احترام کا دامن تھام لیا، اگر ہم نے کمزور کے حق میں خاموشی توڑ دی، تو یہ چھوٹے عمل کسی بڑے انقلاب سے کم نہیں۔
نیا سال دراصل ہمیں ایک سوال نہیں، بلکہ کئی سوالات تھماتا ہے:
• کیا ہم نے سچ بولنے کے ساتھ انصاف بھی کیا؟
• کیا ہم نے مذہب، ثقافت اور روایت کے نام پر انسان کو مجروح تو نہیں کیا؟
• کیا ہم نے اپنی سہولت کے لیے کسی اور کی عزت نفس کو مجروح تو نہیں کیا؟
یہ سوالات اگر ہمیں بے چین کر دیں، تو سمجھ لیجیے کہ نیا سال اپنا کام کر گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئے سال کو شور، خریداری اور رسمی خوشیوں سے نکال کر فکر اور احتساب کے دائرے میں لے آئیں۔ کیلنڈر بدلنے سے پہلے اگر ہم نے اپنے رویوں کا جائزہ لے لیا، تو شاید آنے والا وقت واقعی مختلف ہو۔
آخرکار، نیا سال ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ ہم وقت کے مسافر نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اگر ہم نے اس ذمہ داری کو قبول کر لیا، تو ہر نیا دن ایک نئی شروعات بن سکتا ہے—اور اگر نہیں، تو سال بدلتے رہیں گے، سماج وہیں کا وہیں رہے گا۔
 
 Dr. BIBI AYESHA CHAKOLI,
 HOD of URDU
Anjuman Arts, Science , Commerce College & P.G Studies Dharwad, Karnataka

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ