غزل۔۔شاعر :- شوق دلدار نگری
غزل۔۔
شاعر :- شوق دلدار نگری
شمس کی روشنی سے ہارا ہے
یہ اندھیرا دکھوں کا مارا ہے
یہ جو سینے میں دل ہمارا ہے
تیری یادوں کا گوشوارہ ہے
مجھ میں کیا ہے مرا نہیں کچھ بھی
رنگ جو بھی ہے وہ تمہارا ہے
پیاس میری ہے میرے قبضے میں
جب کہ دریا پہ حق تمہارا ہے
تیرے آنے سے اوج پر آیا
میری قسمت کا جو ستاراہے
ایک بس آپ ہی نہیں چھت پر
رات ہے چاند ہے ستارا ہے
تو کھڑا ہے اگر مقابل میں
تو مجھے ہار بھی گوارہ ہے
آونگا میں ضرور آونگا
شوق تم نے مجھے پکارا ہے
Comments
Post a Comment