"لوگ کیا کہیں گے ؟"از : حفصہ بیگ بنت الطاف بیگ۔
"لوگ کیا کہیں گے ؟"
از : حفصہ بیگ بنت الطاف بیگ۔
لکچرر۔ شعبہ اُردو کویمپو یونیورسٹی شیموگہ
مہر کھڑکی کے باہر دیکھ تو رہی تھی پر نہ جانے کن خیالوں کی دنیا میں تھی۔۔
اُس کی آنکھوں اور چہرے سے یہ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اندر غصے اور دُکھ کے طوفان کو دبائے ہوئی تھی۔
ہائے مہر! یہ کیسا فیصلہ تم نے لیا ہے۔۔" لوگ کیا کہیں گے"۔۔۔ کس کس کو ہم جواب دیں گے۔۔ خود کا نہیں تو ہماری عزت کا لحاظ کر لیتی۔ کیاتم نے اپنے دو بچوں کی زندگی کے بارے میں سوچا ہے۔ انکی زندگی پر کیا اثر ہوگا ؟؟
مہر اپنے اندر دبے ہوئے غم و غصّے کو نکال کربول پڑی۔۔
امّاں! کون لوگ؟؟ یہ لوگ آخر ہیں کون؟؟ کون سے لوگ ہیں مجھے تو نظر نہیں آتے۔۔ جن لوگوں کا خوف دلا دلا کر اپ نے میری زندگی کے 16 سال برباد کر دیے۔۔ کہاں ہیں وہ لوگ؟ کیا اُن کو معلوم ہے میری برباد زندگی کے بارے میں۔۔؟؟
اس کے لفظوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کس قدر درد کی شدت کی لپیٹ میں ہے۔۔
مہر کے رویہ کو دیکھ کر اماں نے کہا کہ کیاتم پاگل ہو گئی ہو ۔۔ کچھ تو سوچو۔۔۔
مہر مزید طیش میں آکر کہنے لگی کہ کیا سوچوں امّاں؟ لوگوں کے بارے میں یا خود کے بارے میں۔۔ مہر اپنی اماں سے پوچھنے لگی۔۔
کہاں تھے اماں وہ لوگ جب مجھے سسرال میں زہر دیا گیا تھا، اور کہاں تھے وہ لوگ جب میں بے ہوش ہوکر زمین پر پڑی پانی سے نکالی گئی مچھلی کی طرح زندگی کے لیے تڑپ رہی تھی۔۔؟؟ کہاں تھے وہ لوگ جب میری چار ماہ کی دودھ پیتی بچی بھوک سے بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔ کہاں تھے وہ لوگ جب میں ڈپریشن، مائیگرین، دمہ، اینزائٹی اور نہ جانے کن کن بیماریوں کی لپیٹ میں تھی۔۔ کہاں تھے وہ لوگ جب میرا پیٹ کھانے سے زیادہ گولیوں سے بھرتا تھا۔۔ اور کہاں تھے وہ لوگ جب رات کے اندھیرے میں اپنے چھوٹے معصوم بچوں کو لپیٹ کر روتی تھی، میری آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں بے ساختہ ندیوں کی طرح بہتے ہوئے تکیے کو بھگو دیتے اور غم کا زلزلہ میرے وجود کو ہلاکر رکھ دیا تھا ۔۔ کہاں تھے وہ لوگ؟۔
رات کی تنہائی میں کبھی زمین کو اپنے ناخنوں سے کرید کر روتی، کبھی اپنے دوپٹے کو اپنے منہ میں دبا کر روتی۔ ۔۔زندگی کے سولہ سال میں نے کھوئے ہیں، صرف درد، غم، تنہائی میں۔ لوگوں کی نظروں میں شادی شدہ تو تھی مَیں، پر بیوہ کی طرح زندگی گزاری ہے۔۔کاش کہ آپ مجھے دلہن کے جوڑے میں تیار کر کے کسی ندی میں پھینک دیتے تومجھے کوئی شکوہ ہی نہ ہوتا ۔ کاش کبھی آپ اپنی عزت اور لوگوں کا چھوڑ کے اپنی بیٹی کا درد تو دیکھ ہی رہے تھے، محسوس بھی کر لیتے۔۔ "لوگوں کیا کہیں گے"۔۔ والے آئینے سے ہٹ کر دیکھتے تو آج میں یوں برباد نہ ہوئی ہوتی۔۔
کیا میری سزا یہ ہے — بیٹی ہونا؟ بیوی ہونا؟ بہو ہونا؟ یا شاید صرف عورت ہونا؟۔
ماں باپ کے گھر میں بیٹی پرائی، سسرال میں باہر والی؛ مگر جب عزت کی بات آتی ہے تو سب اپنی پگڑی عورت کے سر پر رکھ دیتے ہیں۔
کیا ساری عزت کی ذمہ داری واقعی بیٹی، بیوی اور بہو کے کندھوں پر ہے؟ کیا لوگوں کی زبانیں صرف انہیں کے لیے ہیں؟۔
اماں! خدا اُن ماں باپ سے بھی حساب لے گا جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا — اور اُن سے بھی جو زندہ رکھ کر ہر روز درگور کرتے ہیں ۔
کاش آپ لوگوں کے خوف سے زیادہ خدا کا خوف رکھتے، تو آج میں اس فیصلے پر آکر نہ رکتی۔
میرے رب نے مجھے حق دیا ہے — مجھے بھی اپنی مرضی سے جینے اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا پورا حق ہے۔
مہر کے ماں باپ خاموش ہیں، جیسے پتھر کے بُت بن گئے ہوں۔
مہر کی آواز اب لرزنے لگی تھی، جیسے اس کے دل کا ہر زخم الفاظ بن کر باہر آ رہا ہو۔ وہ اپنی ماں کے سامنے کھڑی تھی، لیکن اس کی نگاہیں کہیں دور، شاید اس مستقبل کی طرف تھیں جو اس نے اپنے لیے چنا تھا۔ اس کے لہجے میں درد تھا، مگر ایک عجیب سی طاقت بھی، جو برسوں کی خاموشی کو توڑ کر ابھری تھی۔
امّاں، مہر نے گہری سانس لے کر کہا،میں نے بس ایک فیصلہ کیا ہے — کہ اب میں اپنے لیے جیوؤں گی۔ اپنے بچوں کے لیے، اپنے دل کے لیے۔ اگر یہ فیصلہ لوگوں کو پسند نہیں، تو نہ سہی۔ میں نے اپنی زندگی لوگوں کے خوف میں گنوا دی، اب خدا کے خوف میں جیوؤں گی۔"
اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی چھلک پڑی، لیکن اس بار وہ غم کے نہیں، ایک نئی آزادی کے آنسو تھے۔ اماں خاموش کھڑی تھیں، ان کی آنکھیں بھی نم تھیں، مگر وہ کچھ نہ بول سکیں۔ مہر نے اپنا دوپٹہ درست کیا، اپنے بچوں کا ہاتھ تھاما، اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے قدموں میں ایک عزم تھا، جیسے وہ برسوں کے غم کے بوجھ کو پیچھے چھوڑ کر روشنی کی طرف چل پڑی ہو۔
باہر کھڑکی سے سورج کی کرنیں کمرے میں داخل ہو رہی تھیں، اور مہر کے چہرے پر ایک سکون سا چھا گیا۔ اس نے ایک بار پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا، پھر مسکرائی — ایک ایسی مسکراہٹ جو درد سے نکل کر امید تک کا سفر طے کر چکی تھی۔ دروازہ کھلا، اور مہر اپنی نئی زندگی کی طرف بڑھ گئی، جہاں اسے " کوئی لوگ کیا کہیں گے" کا خوف نہ روک سکتا تھا۔
Comments
Post a Comment