اصل دانشمند۔۔از قلم : طٰہٰ نلاّمندو۔ (پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ)

اصل دانشمند۔۔
از قلم : طٰہٰ نلاّمندو۔ (پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ)

خداوندِ کریم نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور کی نعمت عطا کی۔ یہی عقل وہ چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر یہ نعمت اسی وقت برکت ثابت ہوتی ہے جب اسے مثبت راستے پر استعمال کیا جائے۔ اگر دماغ کو ہم حسد، شکایات اور غصے سے بھر دیں تو یہی منفی رویے ہماری زندگی کو تلخ بنا دیتے ہیں۔ لیکن اگر اسی دماغ کو ہم علم، تجربات اور مثبت سوچ سے زرخیز کریں تو یہی سرمایہ وقت پر کامیابی اور سکون کی صورت میں لوٹتا ہے۔ اصل دانشمند وہ ہے جو اپنے دماغ کو بہترین خیالات اور اعمال سے بھرتا ہے۔

دماغ کو ایک بینک سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جیسے بینک میں جمع کیا ہوا سرمایہ ہی انسان کے کام آتا ہے، اسی طرح دماغ میں محفوظ خیالات بھی ہماری شخصیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے اس میں منفی سوچیں جمع کیں تو یہی سرمایہ نقصان دہ ہوگا۔ اور اگر ہم نے علم و نیکی کا سرمایہ رکھا تو یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہوگا۔
اقبال نے کہا تھا:
؎ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
              مثبت سوچ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو لوگ مشکلات میں بھی حوصلہ رکھتے ہیں اور مسائل کو مواقع سمجھتے ہیں وہی آگے بڑھتے ہیں۔ مثبت سوچ امید اور اعتماد پیدا کرتی ہے، جبکہ منفی سوچ انسان کو کمزور اور شاکی بنا دیتی ہے۔علم انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ قرآن میں پہلا حکم اقرأ یعنی پڑھ کا دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔' دولت اور طاقت وقتی ہیں، مگر علم ایسا خزانہ ہے جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور انسان کو عزت و وقار عطا کرتا ہے۔

حالی نے کہا تھا:
؎ علم کی روشنی سے ہے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں
قوم کی تعمیر میں اس سے بہتر کوئی سایہ نہیں
            وقت کی قدر بھی اصل دانشمند کی پہچان ہے۔ وقت ایک بار ضائع ہو جائے تو واپس نہیں آتا۔ امام شافعیؒ نے فرمایا: وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو یہ تمہیں کاٹ دے گا۔جو لوگ وقت کو قیمتی جانتے ہیں وہی ترقی کرتے ہیں۔حسد اور شکایت انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا:حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اصل دانشمند وہ ہے جو دوسروں کی کامیابی سے سبق لے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔دانشمند انسان اپنی شخصیت کو سنوارنے میں مصروف رہتا ہے۔ خوش اخلاقی، صبر، شکر اور دوسروں کی مدد وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی انسان کو خاص بنا دیتے ہیں۔
اقبال نے فرمایا:
؎ فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

        اصل کامیابی دولت یا عہدے کا نام نہیں بلکہ دل کے سکون اور شخصیت کے وقار کا نام ہے۔ مولانا روم نے کہا تھا: اگر دنیا کو روشن دیکھنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے دل کا چراغ جلاؤ۔ یہی کامیابی کا اصل فلسفہ ہے۔
نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے دماغ کو فضول مصروفیات اور منفی سوچوں سے بچائیں۔ سوشل میڈیا اور وقتی تفریحات انسان کو کمزور بنا دیتی ہیں۔ اگر نوجوان اپنی توانائی کو علم، تحقیق اور خدمت خلق میں صرف کریں تو وہ دنیا کی قیادت کر سکتے ہیں۔
          زندگی کے ہر موڑ پر فیصلہ ہمیں ہی کرنا ہوتا ہے کہ دماغ کو کس سمت میں لے جائیں۔ اگر اسے منفی سوچوں سے بھرا جائے تو زندگی تلخ ہو جاتی ہے، اور اگر اسے علم و نیکی سے سنوارا جائے تو زندگی کامیاب اور بامقصد ہو جاتی ہے۔یاد رکھیں کہ اصل دانشمند وہ ہے جو اپنے ذہن کے خزانے میں صرف وہی جمع کرے جو اس کے کل کو بہتر بنائے۔ دماغ کا سب سے قیمتی سرمایہ علم اور مثبت سوچ ہے۔ یہی دولت انسان کو حقیقی کامیابی اور وقار عطا کرتی ہے اور یہی سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
            اے پروردگار! ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے دل و دماغ کو مثبت سوچ اور علم کی روشنی سے منور کریں، حسد و کینہ سے پاک رہیں، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے بنیں۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ