"اردو ادب کے سیاق وسباق میں میر تقی میر کی ادبی حیثیت"کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی آن لائن سیمینار کا انعقاد اور مقالات پر مشتمل کتاب کا اجراء.


شموگا ، کرناٹک (تہمیم قاسمی) کوویمپو یونیورسٹی شیموگہ کرناٹک اور تنظیم فروغ اردو تمل ناڈو (انڈیا) کے زیر اہتمام"اردو ادب کے سیاق وسباق میں میر تقی میر کی ادبی حیثیت"کے موضوع پر مورخہ 26-27 جولائی 2025 بروز ہفتہ، اتوار دو روزہ بین الاقوامی آن لائن سیمنار کا انعقاد بذریعہ زوم لنک کیا گیا،جس کے افتتاحی نشست کی صدارت فخر جنوب استاذ الاساتذہ پروفیسر سید سجاد حسین صاحب سابق صدر شعبہء عربی فارسی و اردو مدراس یونی ورسٹی نے فرمایا. نظامت کی ذمہ داری اس سیمنار کے روح رواں ڈاکٹر تمیم احمد، وی، چیرمین، تنظیم فروغ اردو، تمل ناڈو (انڈیا) نے انجام دی۔افتتاحی نشست میں مکہ المکرمہ حرم مکی سے شیخ محمد یاسین حفظہ اللہ نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی اور نعت رسول ﷺ مدینہ منورہ سے شیخ جمیل عباسی حفظہ اللہ سر زمین حرم مدنی سے پیش فرمایا۔ پروفیسر سید سی خلیل احمد سابق صدر شعبہ اردو کوویمپو یونیورسٹی شیموگہ نے خطبہ استقبالیہ میں سیمینار کے اغراض ومقاصد پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا استقبال فرمایا۔اور مقالہ نگاروں کو مبارک بادی دی اور سیمینار کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ خطبہ استقبالیہ کے بعد مقالات پر مشتمل کتاب کا اجراء عمل میں آیا۔اس بین الاقوامی دو روزہ آن لائن سیمنار میں اردو ادب کے مشہورو معروف محقق و نقاد ڈاکٹر سید تقی عابدی کینیڈا نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا "میر تقی میر تالی بجانے والے شاعر نہیں بلکہ حقیقت نگاری سے کام لینے والے عظیم شاعر ہیں۔ وہ اردو شاعری کا کعبہ سخن ہیں، اس لیے ہر قاری کو چاہیے کہ وہ ان کے دیوان کا طواف کرے۔ اور آپ نے مقالات پر مشتمل کتاب کا اجراء اور شاندار سیمنار کے انعقاد پر پروفیسر سجاد حسین، پروفیسر سید خلیل احمد، پروفیسر سید ثناء اللہ اور ڈاکٹر تمیم احمد کی ستائش فرمائی۔ ہمارے ملک کے مشہور و معروف علمی ادبی شخصیت ماہر اقبالیات پروفیسر عبدالحق صاحب پروفیسر ایمرطیس دہلی یونیورسٹی نے فرمایا کہ "میر تقی میر حق برحق 'غزل کا امام تسلیم کیا گیا، اردو شاعری میں ان کا منفرد اور اعلی مقام ہے، اس کا اعتراف کرنا ہم سب کی اجتماعی ادبی ذمے داری ہے ۔ اردو کے بارے میں قارئین، ناقدین اور محققین نے جہاں تک ممکن ہو سکا ان کی شاعری کو حق پہچانا اور اس کا حق ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔اور آپ نے پروفیسر سید ثناء اللہ کو اور ڈاکٹر تمیم احمد کو سیمنار کی کامیابی پر مبارکبادی پیش کی۔ اس نشست کے مہمان خصوصی ڈاکٹر حیات افتخار صاحب سابق صدر شعبہ اردو قائد ملت کالج میڈاوکم چنئی نے اپنے مختصر خطاب میں فرمایا کہ میر تقی میر کے تین سو سال کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کرنا اور اس کو کتابی شکل دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ، یہ اردو دنیا میں ایک مثالی کارنامہ، جو ڈاکٹر تمیم، پروفیسر سید ثناء اللہ اور ان کی ٹیم نے انجام دیا ہے ان کو میں مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ مہمان اعزازی تمل ناڈو اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن صاحب نے فرمایا اردو ادب کے روشن مستقبل کی تشکیل، اس کی کوشش اور سیمینار کو علمی اور ادبی چراغ سے منور کرنے کا کام ڈاکٹر تمیم اور پروفیسر ثناء اللہ نے کیا ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسرعزیزہ بانو صاحبہ پروفیسر شعبہ فارسی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے مقالات پر مشتمل عمدہ کتاب پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ثناءاللہ اور ڈاکٹر تمیم کو مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر طیب خرادی صدر شعبہ اردو نیوکالج چنئی نے اپنے تاثراتی خطاب میں ڈاکٹر تمیم احمد کی اردو ادبی خدمات پر ستائش فرمائی۔ پروفیسر سید سجاد حسین صاحب نے پرمغز اور مؤثر انداز میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ میر تقی میر نے اردو ادب میں اپنی انفرادیت کا گہرا اور لازوال نقش چھوڑا، جو نہ صرف ان موضوعات کے انتخاب میں جھلکتا ہے بلکہ ان کی فنّی مہارت، فکری گہرائی اور ادبی بصیرت کا واضح ثبوت ہے اور سیمینار کے لئے مبارک باد پیش کی۔ اس سیمنار کے روح رواں پروفیسر سیدثناء اللہ صاحب نے اپنے شکریہ کلمات میں فرداً فرداً تمام مشیر، مقررین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، اور ہر ایک کی انفرادی خدمات کو سراہتے ہوئے خوش اسلوبی سے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ افتتاحی نشست کے فوراً بعد مقالات کے سیشن شروع ہوگئے۔ چھ مقالہ سیشن کے صدرات پروفیسر سید سجاد حسین صاحب، ڈاکٹر حیات افتخار صاحب، پروفیسر عزیز بانو صاحبہ، ڈاکٹر سکینہ امتیاز خان صدر شعبہ فارسی ممبئی یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد عارف اللہ لیکچرار شعبہ اردو کوویمپو یونیورسٹی شیموگہ اور ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری صاحب نے فرمائی۔ تقریباً 55 مقالہ نگاران نے اپنے مقالوں کی تلخیص پیش فرمائی۔ 27 جولائی 2025 شام سات بجے اختتامی نشست میں حضرت مولانا محمد یوسف سیٹ قاسمی پرنسپل مدرسۃ الفریدیہ ملیشیا نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ نعتیہ کلام محمد ریحان شیموگہ نے پیش فرمایا۔ کلام میر کو ترنم میں جناب سراج زیبائی صاحب اور شاہد مدراسی صاحب نے پیش فرمایا۔ اس نشست کے مہمان خصوصی محترم خلیل تماندار صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا۔میر کی شاعری زندگی کے عمائل، رنج و الم،درد و تڑپ،سوز و گداز، تشبیہات و استعاروں سے نہ صرف لبریز بلکہ حکیمانہ طرز گفتگو اور غم جاناں جیسے بیش بہا جذبات سے مزین بھی نظر آتی ہے۔میر کی غزلیں عموما درد، سوزوگداز، عشق حقیقی و مجازی، ہجر تنہائی، عرفان و تصوف اور دنیا کی بے ثباتی پر مشتمل ہیں۔حضرت میر نے عشق حقیقی اور عشق مجازی پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ میر کے نزدیک مالک کل کائنات رب العالمین سے عشق حقیقی حاصل حیات ہے۔ ڈاکٹر حیات افتخار صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا اردو زبان و ادب کے لیے یہ بات باعث صد افتخار ہے کہ اس کا شمار دنیا کی جدید ترین زبانوں میں ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ مشکل سے 500 سالہ تاریخ ہے لیکن اس نے اس مختصر سی تاریخ میں گزشتہ تین صدیوں کے دوران اس زبان نے دنیائے ادب کو ایسے تین عظیم شاعر عطا کیے ہیں جن پر ہندوستان ہی کو نہیں ساری عالمی شاعری کو فخر و ناز کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری صاحب نے اپنے پر جوش خطاب میں فرمایا کہ 200 سال کے بعد میر کی طرف التفات کیا گیا تب ہر طرف یونیورسٹیوں میں دانش گاہوں میں جامعات اور مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب میر پر پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں لیکن یہ جو پروگرام شعبہ اردو کوویمپو یونیورسٹی شیموگہ اور تنظیم فروغ اردو تمل ناڈو کے اشتراک سے انجام پایا ہے یہ ایک اپنی نوعیت کا منفرد سیمنار ہے۔ اس سیمنار میں جو مقالہ شائع ہوئے ہیں میں نے ان مقالات کو بہت ہی توجہ سے دیکھا ہے اور مجھے اس بات کا اندازہ ہو رہا ہے کہ میر پر جتنے ویبينار اور سیمینار ہوئے ہیں ان میں ان کی اوقات الگ تھی اور اس سیمنار کی بات الگ ہے۔ اس میں جن موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے ہیں سب سے جدا گانا ہیں۔ تاثراتی خطاب میں ڈاکٹر عبدالرحیم ملا، ڈاکٹر عائشہ عبدالعزیز پٹھان، ڈاکٹر سکینہ خان، ڈاکٹر نفیس فاطمہ، حفصہ بیگ، ڈاکٹر شبینہ طلعت، ڈاکٹر عظیم الدین، ڈاکٹر رضوانہ پروین، ڈاکٹر سید عمران علی وغیرہ نے سیمنار کی کامیابی اور پروفیسر سید ثناء اللہ ڈاکٹر تمیم احمد کو مبارک باد پیش فرمائی۔ خطبہ صدارت میں پروفیسر سید ثناء اللہ صاحب نے کتاب کی بیش بہا قیمتی اور علمی و ادبی موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے سب کا شکریہ ادا فرمایا۔ اس سیمنار کے سوشل میڈیا کے ناظم ڈاکٹر عرفات حسین شاہ کشمیری نے ڈاکٹر تمیم احمد کی پرجوش خدمات پر تعریف فرمائی۔اور آخر میں اس دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کے روحِ رواں ڈاکٹر تمیم احمد نے ہدیہ تشکر پیش فرمایا۔ اور ڈاکٹر تمیم احمد صاحب اس وقت بہت جذباتی ہوئے اور تمام مہمان خصوصی تمام صدور مجلس اور شرکاء اور ریسرچ اسکالرز کا شکریہ ادا کیا۔ اور اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ مجھ سے جب بھی کوئی کام کروانا چاہتا ہے تو مجھ میں ہمت حوصلہ اور توانائی خود ہی ڈالتے ہیں اور اس کام میں مجھے کامیابی بھی دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ علمی ، تحقیقی و ادبی سیمینار اختتام پذیر ہوا۔ ہدیہ تشکر سے پہلے تمام شرکاء کو feedback link کے ذریعے ای۔ سرٹیفکیٹ دی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ