جو شخص نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے انکی صحبت میں بیٹھتا ہے انکی نیکی کا حصہ اسکو بھی ملتا ہے۔جلسہ سے مرتضیٰ علی صوفی قادری،مفتی محمد فیاض الدین نظامی،سیف اللہ قادری کا خطاب۔
بیدر: 31/جولائی (نامہ نگار) سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا اے ابوذر ایمان کا کونسا کڑا زیادہ مضبوط ہے عرض کی اللہ اور اسکے رسول زیادہ جانتے ہیں فرمایا اللہ کیلئے دوستی کرنا اللہ کیلئے محبت کرنا۔ حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے نزدیک کونسے اعمال محبوب ترین ہیں کسی کہنے والے نے کہا نماز و زکوۃ کسی نے جہاد کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا اللہ کے نزدیک پسندیدہ اعمال اللہ کیلئے محبت کرنا اور اللہ کیلئے بغض رکھنا ہے۔ سید نا ابورزین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جس پر دین کا دار و مدار ہے جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالوگے اپنے اوپر اہل ذکر (صالحین) کی مجلسوں کو لازم کرلو اور جب تم تنہائی میں رہو تو اپنی استطاعت کے مطابق اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں حرکت دیتے رہو اور اللہ کیلئے محبت کرو۔
ان خیالات کا اظہار شہزادے غوث آعظم حضرت علامہ ڈاکٹر سید شاہ مرتضیٰ علی صوفی قادری الحسنی والحسینی المعروف حیدر پاشاہ پرنسپل ایس ایم وی کالج حیدرآبادنے فخرالدین کالونی مناا کھیلی میں 21واں سالانہ صندل شریف درگاہ حضرت سید شاہ پیر پاشاہ قادری بخاری ؒ کے صندل کے موقع پر29جولائی کو بعد نماز عشاء احاطہ درگاہ شریف میں،سید شاہ محمد ہدایت اللہ قادری سجادہ نشین کی سرپرستی و سید شاہ مخدوم قادری بخاری عرف فصیح اللہ قادری سجادہ نشین درگاہ حضرت سید فخرالدین قادری ؒ کی صدارت،جناب محمد یوسف علی جمعدار صدرمسجد فخریہ کی زیر نگرانی منعقدہ14 واں سالانہ جلسہ عظمت اولیاء کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ حضرت سیدنا امام حسین کا میدان کربلا سے دیا ہوا پیغام اور فلسفہ حق و صداقت دین اسلام کی سربلندی کا روشن نشان ہے،حضرت سیدنا امام حسین کا فلسفہ شہادت صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ایک دستور حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔سیدنا امام حسین کی شہادت نے مردہ ضمیروں کو بیدار کیا، انداز فکر کو بدلا عظیم انقلاب برپا کرتے ہوئے انسانی اقدار کی عظمت و اہمیت کو فروغ دیا۔ آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کو صبرحسینی و جذ بہ حسینی سے سرشار فرمائے۔ مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی صدر نائب قاضی دارالقضاء ت بیدر نے کہاکہ اللہ سبحا ن تعا لیٰ کا ارشاد ہیکہ آئے ایمان والو اللہ سے ڈروو اور نیک لوگوں کہ ساتھ ہو جاؤ۔ شیخ ابو الفضل جو ہری فرماتے ہیں جو شخص نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے انکی صحبت میں بیٹھتا ہے انکی نیکی کا حصہ اسکو بھی ملتا ہے، اصحاب کہف کا کُتّاان سے محبت کی اور ساتھ ہو گیا۔اللہ تعا لیٰ قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمایا۔حضور ؐ کی اُونٹنی، حضرت صالح ؑ کی اونٹنی، حضرت ابراھیم ؑ کا بچھڑا، حضرت اسماعیل ؑ کا مینڈھا، حضرت موسیٰ ؑ کی گائے، حضرت یونس ؑ کی،وہیل مچھلی، حضرت عزیر ؑ کا گدھا، حضرت سلیمان ؑ کی چو نٹی، حضرت سلیمان کا ھُد ھُد اور اصحاب کہف کا کُتّا کو اللہ رب العزت انسان کی شکل میں جنت میں داخل فرمائیگا۔جناب حافظ سید شاہ جنید پاشاہ قادری کامل جامعہ نظامیہ جانشین سجادہ درگاہ حضرت سید شاہ حیات اللہ بادشاہ قادری گلبرگہ نے کہاکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالی سے محبت کی۔ جب اندھیرے میں سیدنا امام حسین تشریف فرما ہوتے تو آپ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخسار سے انوار نکلتے اور قرب و جوار روشن ہو جاتے۔ انہوں نے پنچوقتہ نمازوں کی پابندی کی سخت تلقین کی۔جو شخص پانچ وقتوں کی نمازوں کی پابندی کرتا ہے اس کا دل پاک ہوتا ہے۔مولانا سید شاہ سیف اللہ قادری بخاری جنیدی سجادہ نشین درگا ہ حضرت سید شاہ پیر پاشاہ قادری ؒ نے استقبالیہ اور تعاروفی خطاب کیا۔اس موقع پرجناب حافظ سید شاہ جنید پاشاہ قادری کامل جامعہ نظامیہ جانشین سجادہ درگاہ حضرت سید شاہ حیات اللہ بادشاہ قادری گلبرگہ،کو جانشینی عطا ہونے اورسید شاہ اکبر قادری کو خلیفہ بنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ درگاہ امد پر زبردست استقبال کیا گیا اور شال و گلپوشی کے زریعہ تہنیت پیش کی گئی۔محمد عبدالصمد منجو والانے نظامت کے فرائض انجام دئے۔پڑوس میں ایک صاحب کا انتقال ہواتھا مرحوم کی نماز جنازہ تک بطور احترام صندل کی رسومات کو روک دیا گیا۔ جناب سید شاہ سیف اللہ قادری سجادہ نشین نے دعائے سلامتی فرمائی بلخصوص اپنے پڑوس میں ایک صاحب کا انتقال ہواتھا کے انتقال پر اپنے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت فرمائی۔بعد جلسہ ساز پر محمد عبدالغفار قوال و ہمنواؤں نے نعتیہ و منقبتی ومبارکبادی کلام پیش کیا۔بعد اذاں جناب سید شاہ سیف اللہ قادری جنیدی نظامی سجادہ نشین درگاہ حضرت ممدوح ؒ نے علمائے مشائخین، مریدین و معتقدین، سر گروہان فقراء کی موجودگی میں جملہ رسومات صندل مالی کی خصوصی خدمات انجام دئے۔گُلہائے عقیدت سلام و نیاز فاتحہ تقسیم تبرکات بدست سجادہ نشین عمل میں آئے۔بعد صندل پر تکلف طعام برائے دنگل کا انعقاد عمل میں آیا۔مولانا سید ضیا ء الدین نظامی خطیب عیدگاہ ظہیرآباد، جناب سید فصیح اللہ حسینی عرف سجاد صاحب، محمد اسمئیل پٹیل منگلگی، محمد بابوبھائی راج ٹیلر،جناب حسن بابا ظہرآباد، محمد عبدالصمد منجو والانے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی کی قراء ت کلام پاک سے جلسہ کی کاروائی کا آغاز ہوا۔سید سیف اللہ قادری، نے حمد و نعت پیش کی۔ جناب سجادہ نشین کی نگرانی میں سید کاظم پاشاہ قادری، سید مرتضیٰ قادری برادر سجادہ نشین صدر استقبالیہ و اراکین اورجمیع افراد خاندان نے تمام مہمانوں کی گلپو شی فرمائی اور استقبال کیا۔کل 30 /جولائی بعد نماز مغرب جشن چراغاں کا انعقاد عمل میں آیا۔اج31/جولائی بعد نماز فجر ختم قرآن مجیدمسجد فخریہ و پیشکشی چادر گُل درگاہ حضرت ممدوح ؒ، فاتحہ، تقسیم تبرکات بدست سجادہ نشین عمل میں آئے۔ جناب یوسف علی جمعدار کی قیام گاہ پر تمام مہمانوں کیلئے پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیاتھا۔کثیر تعداد میں مریدین و معتقدین کی کثیر تعدادموجود تھی۔۔۔
تصویر ای میل: جلسہ سے مرتضیٰ علی صوفی قادری،مفتی محمد فیاض الدین نظامی،سیف اللہ قادری کا خطاب
Comments
Post a Comment