عمر کے مطابق داخل طلبہ اور اساتذہ کی تدابیر۔از قلم : طٰہٰ عرف ثناء جمیل احمد نلاّمندو۔
عمر کے مطابق داخل طلبہ اور اساتذہ کی تدابیر۔
از قلم : طٰہٰ عرف ثناء جمیل احمد نلاّمندو۔
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں کوشش کی جاتی ہے کہ ہر بچہ اپنی عمر کے مطابق تعلیم حاصل کرے۔ مگر بعض اوقات سماجی، گھریلو، معاشی یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچے وقت پر اسکول میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ جب وہ بڑے ہوکر دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، تو ان کا تعلیمی معیار اُن کی عمر کے مطابق درجہ میں کمزور ہوتا ہے۔ ایسے طلبہ کو اسکول میں "عمر کے مطابق داخل طلبہ" کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسے طلبہ جو اپنی عمر کے مطابق کسی درجہ میں داخلہ تو لے لیتے ہیں، مگر تعلیمی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ ان طلبہ کی عمر جماعت کے دوسرے طلبہ سے زیادہ ہوتی ہے، تعلیم کا علم کمزور ہوتا ہے، اعتماد کی کمی محسوس کرتے ہیں، اور اکثر اسکول کے تعلیمی و سماجی ماحول میں گھلنے ملنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ایسے طلبہ کی رہنمائی اور ترقی کے لیے اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ ان طلبہ کو تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اساتذہ کو خاص تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو ایسے طلبہ کے لیے "پل کورس" یعنی Bridge Course کا انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ وہ بنیادی علم اور مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے بعد اساتذہ کو چاہئے کہ وہ ہر طالب علم کی صلاحیت کے مطابق انفرادی توجہ دیں اور خصوصی حوصلہ افزائی کریں۔ ایسے طلبہ کے دل سے کمزوری اور گھبراہٹ ختم کرنے کے لیے ان کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ انہیں مثبت الفاظ اور تعریف کے ذریعے آگے بڑھنے کا حوصلہ دینا چاہئے۔
علاوہ ازیں، اساتذہ کو چاہئے کہ وہ ایسے طلبہ کو ہم عمر بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے کے مواقع فراہم کریں تاکہ وہ سماجی جھجک سے نکل کر اپنی بات کہہ سکیں۔ تدریس کے طریقے کو بھی آسان، سادہ اور دلچسپ بنانا چاہئے تاکہ طلبہ کا دھیان تعلیم کی طرف مبذول ہو۔ کھیل، کہانیاں، تصویری مواد اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم کا شوق پیدا کرنا بہتر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اساتذہ کو طلبہ کے والدین سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کا تعاون حاصل کرنا چاہئے تاکہ گھر اور اسکول دونوں جگہ طلبہ کی تعلیمی فضا بن سکے۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی عمر کے مطابق داخل طلبہ کے لیے متعدد سہولتیں دی گئی ہیں جیسے پل کورس، خصوصی تعلیمی مراکز اور آن لائن تعلیم کے ذریعے ان طلبہ کو تعلیم کے میدان میں آگے لایا جا رہا ہے۔ ان تمام تدابیر کے ذریعے اگر اساتذہ خلوص، محبت اور حکمت عملی کے ساتھ طلبہ کی رہنمائی کریں تو یہ طلبہ بھی آگے بڑھ کر ملک و سماج کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔ تعلیم ہر عمر میں ممکن ہے، بس نیت صاف اور رہنمائی مخلص ہو تو ہر منزل آسان ہو جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment