کیا اسلام پر اعتراض کیا جا سکتا ہے؟بقلم۔۔ محمد ناظم ملی تونڈاپور (استاد جامعہ اکل کواں)

کیا اسلام پر اعتراض کیا جا سکتا ہے؟
بقلم۔۔ محمد ناظم ملی تونڈاپور (استاد جامعہ اکل کواں)    

( ١ ) کیا اسلام پر اعتراض کیا جا سکتا ہے؟
تو جواب بالکل صاف ہے۔ نہیں !
اس لیے کہ اسلام نام ہے "تسلیم و رضا کا"مسائل منصوصہ میں ادمی کو ساکت اور اپنی عقل کے گھوڑے کو لگام زدہ رکھنا چاہیے مرحوم ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا 
اچھا ہے دل کےساتھ ساتھ رہے پاسبان عقل 
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 
ہر مسلمان کویہ بات جان لینی چاہیے کہ اسلام ایک افاقی مذہب ہے قادر مطلق کا عطا کردہ ہے کارساز جہاں کا محبوب اور پسندیدہ مذہب ہے قران نے بڑے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے
"ان الدين عند الله الاسلام " اسی طرح قران مجید اور دوسری جگہ یوں اس کی حقانیت و صداقت کو واضح کرتاہے اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا کہ کائنات کا خالق و مالک اسلام کے سوا کسی اور مذہب سے راضی ہی نہیں ہوتااس لیے کہ اسلام میں وہ ساری چیزیں موجود ہیں جو فرد اور جماعت کے لیے چاہے وہ مرد ہو یا عورت جوان ہو یا بوڑھا ہر ایک کے لیے وہ نجات دہندہ ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ سماج اور معاشرے کے لیے۔ کامیاب زندگی گزارنے کیلیے جتنےقواعد اور اصول ہو سکتے ہیں یا جن جن چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہیں وہ سب اسلام میں واضح طور پر موجود ہیں معاشی و معاشرتی اور سماجی معاملات ہو یا پھر کسی اور لحاظ سے مثلا تجارت کے لیے معیشت کے لیے ملازمت وزراعت کے لیے حاکم ہو اس کے لیے بھی محکوم ہو تو اس کے لیے بھی بادشاہ وقت ہو تو اس کے لیے بھی رعایا ہو تو اس کے لیے بھی غرض ہر ایک کے لیے اور ہر شعبہ حیات کے لیے وہ سارے قوانین اور اصول من جانب اللہ تمام انسانوں کو دیدیے گئے ہیں جو اس کو ایک کامیاب زندگی گزارنے کی طرف معاون اور مددگار ہیں جی ہاں جب وہ تمام اصول اور ضوابط مالک و خالق اور رب قادر و قدیر کی طرف سے ہیں تو اس میں جھول کیسا ؟نقص کیسا ؟اور کمی کیسی؟اس رب نے تو کامل و مکمل اور اکمل دین دیا ہے یہ اور بات ہے کہ کسی شئ کی منفعت وہ افادیت کسی کی عقل و سمجھ سے ماورا ہوجب کسی کی عقل کی رسائی اور اس کی طاقت وقوت اوراسکی ایبلٹی ability اس تک پہنچنے سے مانع اور قاصر ہو کہ وہ خدا کی حکمت بالغہ تک رسائی نہیں کر سکتی اور اس کاعلم بھی اتنا نہیں ہے تو پھر سوائے اس کے کیا کیا جائے کہ تسلیم و رضا ہی کو اپنا سرمایہ ارزو بنا لیا جائے
 اس لیے اپ دیکھیں گے کہ اہل اسلام ہمیشہ سے اپنے دین و مذہب اور شریعت کے معاملے میں تسلیم و رضا کا پیکر اور راسخ العقیدہ ہوتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ فخر و امتیاز اسلام ہی کو حاصل ہے اسلام کے علاوہ باقی مذاہب میں یہ عنقاء ہے اور ان کے ماننے والوں نے عملی طور سے اپنے اپنے دین دھرم اور مذہب سے رشتہ منقطع کر لیا ہے وہ صرف رسما چند مذہبی امور کو انجام دے دیتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ چند تہواروں کو تہذیبی میلے کے طور پر منا لیتے ہیں جس کا استھا اور عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا 
یورپ Europe کی طرف سے جو طوفان بدتمیزی الحاد زندقہ لادینی نظریات غیر اخلاقی اقدار جنسی بے راہ روی شراب اور دیگر منشیات کی بہتات خواہشات و شہوات کی اسیری غلامی اور مذہب بیزاری کی شکل میں ا رہا ہے یا ایا ہوا ہے اس نے تو مذہبی عقائد و خیالات اور مذہبی تصورات کی ساخت ہی بدل دی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ مذہب کی عمارت ہی کو تہس نہس dynamite کر دیا ہے ہاں! اب بھی استانہ یار سے تمسک اگر کہیں کہیں اور کسی معنی میں نظر اتا ہے تو وہ مسلمان ہیں اسی لیے مشرق و مغرب شمال و جنوب اور دنیا کے چہار دانگ عالم میں مسلمانوں کو نئے نئے اور غیر اخلاقی ناموں سے یاد کیا جا رہا ہے کوئی ٹیررسٹ terrorist کہہ رہا ہے کوئی اتنکواد سے یاد کر رہا ہے کوئی اگرواد اور دہشت گرد بتا رہا ہےاسی دہریے اور خدا بیزار طبقے کو اسلام اور مسلمانوں سے شکوہ و شکایات رہتی ہیں اگر کسی فنکشن function اور پروگرام یا محفل میں سب بے حیا نچوڑے یا ننگے جمع ہو جائیں اور انہی میں کچھ باحیا لوگ ایسی کسی بے حیائی کے مرتکب نہ ہو ں تو وہ بے حیا اور ننگ دھڑنگ طبقہ ان پر طنز کرنے لگتا ہے کہ تم کیوں اب تک محفل کے تماشہ بیں ہوں ہماری طرف بے شرم بے حیا ننگے اور بے لباس کیوں نہیں ہوتے؟ یہ کیا دقیانوسیت اور قدامت پرستی اختیار کر بیٹھے ہو ان کی خواہش ہے کہ مسلمان بھی اپنے اپ کو دو چار نمازوں پر محدود کر لیں اور بس! اور باقی امور اسلامیہ کو طاق نسیاں کر دے عبادت سیاست معاشرت حلال و حرام جائز و ناجائز جیسے امور میں شریعت کو درمیان میں نہ لائیں نیز مساجد مدارس مکاتب خانقاہیں عید گاہیں قبرستان اور مقدس شخصیات کے سلسلے میں بھی بہت بیداری جاں سپاری اور حساسیت کا ثبوت نہ دیں! ہم جیسے زندگی کی راہوں کو مذہب سے ازاد کر کے جی رہے ہیں مسلمان بھی ہماری روش طور طریقہ اور چال چلن اختیار کریں! دوسرے لفظوں میں ہم بے حیا ہیں تو مسلمان کیوں باحیا رہیں؟ ہم جیسے مذہب بیزار ہیں تو پھر مسلمان کیوں مذہب پرست بنیں؟ وہ بھی ہماری طرح گمراہ بے دین ملحد زندیق اور مشرک بن جائیں اسی لیے ہر جگہ نشانے پر اور دہانے پر یہی مسلمان ہیں تنقیدوں کے تیر انہی کی طرف برسائے جا رہے ہیں طریقہ کار مختلف ہو سکتے ہیں مگر ہدف سب کا ایک ہے اسلام مسلمان رسول اللہ اور کتاب اللہ پھر قابل غور یہ بات بھی ہے کہ بہت سارے مذاہب ایسے ہیں جن میں اچھائی اور سچائی کی بھی تعلیمات ہیں شراب جبہ سٹا چوری ڈکیتی رشوت سود زنا ظلم زیادتی بے انصافی وغیرہ کی ممانعت ہر مذہب میں غلط ہی بتلائی گئی ہے مگر سچائی ہے کہ اس میں بھی اسلام ہی کو متحم اور مطعون کیا جاتا ہے محض اس لیے کہ مسلمان اس قانون خداوندی کو گلے لگائے ہوئے ہیں اور وہ اپنے پالن ہار سے سرتابی نہیں کرنا چاہتا ہے وہ گنہگار ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی اصلی حالت میں دیکھنا چاہتا ہے اور جب غیر مذاہب والے اس رسوخیت اور اعتقادات کو دیکھتے ہیں اور ایک مسلمان کی اپنے دین و ایمان اپنے اللہ رسول اللہ اور کتاب اللہ سے ایسی رسوخیت کے ساتھ وابستگی ان کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے اور وہ جل بھن جاتے ہیں اور یہ بہت پہلے سے چلا ا رہا ہے مرحوم اقبال نے کہا تھا 
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی 
اس پورے پس منظر background میں اگر دیکھا جائے تو سب سے پہلے یورپ Europe نے اس کی ابتدا کی ہے اور انہوں نے اپنے یہاں کے کالجوں collegon اور یونیورسٹیوں University میں ایسے لیکچرار lecturer اور ایسی کتابیں books تیار کی ہیں جن کا صرف اور صرف ہدف اسلام قران اور صاحب قران صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسی طریقہ کار پر ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ اسی روش پر گامزن ہیں جو رات دن مسلمانوں کو نفرت میں جھونکنے کا کام کر رہے ہیں یقینا جو ملک کے حق میں کبھی بھی درست اور ٹھیک نہیں ہو سکتا مانا کہ یہ سب سیاسی ہتھکنڈے اور سیاسی چالیں ہیں کہ دو بڑے سماجوں میں ماحول خراب کر کے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتے ہیں اور اس کار بد میں پرنٹ میڈیا print media اور الیکٹرانک میڈیا electronic media اسی پر پورا زور صرف کرتے نظر ارہے ہیں جب کہ ان کو یہ طریقہ کار نہیں اختیار کرنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کے سالمیت میں میڈیا mediaاپنا ایک اہم رول rollادا کرتا ہے کسی بھی ملک کو ترقی دلانے میں میڈیا media اپنی ایک ذمہ داری اور فرض نبھاتا ہے اس کا کام ہی ملک سے نفرت کو دور کرنا اور مٹانا ہوتا ہے پراگندہ حالات کو درست کرنا انتشار کے بجائے اتفاق کی جوت جگا نا ہوتا ہے منافرت کی بجائے محبت و یگانگت کو رواج دینا ہوتا ہے جہاں دونوں طرف کی نسل نو کو ہندوستان کی قدیم گنگا جمنی تہذیب سے روشناس کرانا ہے وہی ملک اور قوم اور ملت اور ہر ہندوستانی کو ایک پکا اور سچا ہندوستانی بنانا ہوتا ہے اور عوام الناس کو سچی اور صحیح تاریخ سے واقف کرانا ہوتا ہے مگر میڈیا کے توسط سے یہ سب ندارت معلوم ہو رہا ہے اور ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ پروپیگنڈے اور جھوٹ کھسوٹ سے کام لیا جا رہا ہے اور انگریزوں angrej نے جو غلط تاریخ مرتب کی ہیں اسی کو بنیاد بنا کر منافرت کا ماحول گرمایا جا رہا ہے ہر سچے ہندوستانی کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ انگریز ہمارے ملک کا غاصب تھا جس نے ڈھائی تین سو سال تک ہندوستان میں حکومت کی اور ہندوستانیوں کو غلام بنائے رکھا لیکن جب ہمارے مہاپورشوں اور بزرگوں نے ازادی کے لیے قدم اٹھایا تو اس کمبخت انگریز نے ایک خاص سوچ کے تحت ہندوستان کی تاریخ history اپنے انداز سے مرتب کی جس میں مسلمانوں کو اس ملک کا غاصب لٹیرا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور غلط پروپیگنڈے propaganda پر مبنی ہیں مسلمانوں نے ان کے خلاف جب ملک کو ازاد کرانے کے لیے اقدام کیا کبھی شاملی کے میدان میں کبھی میں سور کے علاقوں میں کبھی جنوب میں اور کبھی شمال میں تو ان کے ساتھ ساتھ ملک کا ہر سماج اور ہر طبقہ ہر ذات ہر برادری انگریز کے خلاف شعلہ جوالہ بن کر مقابلے پر ائیں بنگال میں سراج الدولہ کی شکل میں میسور میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کی شکل میں کبھی شیخ الہند محمود الحسن کی شکل میں اور پورے ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف اپنے ملک کے باشندوں کو کھڑا کیا تو انگریز نے ہندوستان کو کمزور کرنے کے لیے یہ داؤ چلا اور وہ اس میں تقریبا تقریبا کامیاب ہوئے اور ان کی یہ پالیسی policy ڈیوائڈ ان رول divide in rul میں وہ کامیاب success ہو گئے 
جاری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ