.ایس ایس آر پر آواز، یکساں سول کوڈ پر خاموشی کیوں؟ - تحریر: سید فاروق احمد قادری۔


.ایس ایس آر پر آواز، یکساں سول کوڈ پر خاموشی کیوں؟  - 
 تحریر: سید فاروق احمد قادری۔
(صحافی و ادیب)

مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (Special Summary Revision - SSR) کا عمل جاری ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر درج ہو، فوت شدہ افراد یا غلط اندراجات کو ہٹایا جائے، نئے ووٹروں کو شامل کیا جائے اور عوام کو انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے کا موقع ملے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایک مضبوط اور شفاف جمہوری نظام کے لیے اہم ہے۔ اگر ووٹر لسٹ درست ہوگی تو عوام نہ صرف اپنے حقِ رائے دہی سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں اور آئینی حقوق سے متعلق بھی درست معلومات دستیاب رہیں گی۔
اس عمل کے دوران کچھ عملی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ کئی مقامات پر بی ایل اوز (BLOs) اضافی ذمہ داریوں کی وجہ سے پریشان ہیں، بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ یہ کام انجام دینا آسان نہیں، جبکہ عام شہری بھی دستاویزات، فارم اور طریقۂ کار کے بارے میں الجھن کا شکار ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنا حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام کو غیر ضروری دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سمیت مختلف دینی و سماجی تنظیموں نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ یہ ایک ذمہ دارانہ اور قابلِ ستائش قدم ہے، کیونکہ جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اسی کے ساتھ ایک سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے۔ اگر ووٹر لسٹ کی نظرثانی پر اتنی بیداری پیدا کی جا رہی ہے تو یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) جیسے نہایت اہم آئینی اور قانونی مسئلے پر قوم کو بروقت آگاہ کرنے، اس کے ممکنہ اثرات سمجھانے اور عوامی شعور بیدار کرنے کی کوششیں اتنی نمایاں کیوں نظر نہیں آتیں؟
یہ کسی فرد، جماعت یا تنظیم پر تنقید نہیں بلکہ ترجیحات پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی ایسا قانون نافذ ہوتا ہے جس کے اثرات مذہبی، خاندانی یا شخصی قوانین پر پڑ سکتے ہیں، تو اس پر بھی بروقت رہنمائی، قانونی وضاحت اور عوامی بیداری ضروری ہے۔ کسی بھی مسئلے پر ردِعمل اس کے نافذ ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے علمی، آئینی اور جمہوری انداز میں ہونا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم ایک طرف ووٹر لسٹ کی نظرثانی جیسے قومی فریضے میں بھرپور حصہ لے، اپنے نام اور دستاویزات درست کرائے، اور دوسری طرف مستقبل کے اہم آئینی معاملات پر بھی باخبر رہے۔ بیدار قومیں صرف موجودہ مسائل پر نہیں بلکہ آنے والے چیلنجوں کے لیے بھی خود کو تیار رکھتی ہیں۔
یہ وقت جذبات سے زیادہ شعور، اختلاف سے زیادہ مکالمہ، اور خاموشی سے زیادہ بروقت آئینی بیداری کا ہے

Comments