راویر مسلم بستیوں میں اردو آنگن واڑی مراکز کا فقدان، شہریوں میں تشویش اے آئی ایم‌آئ ایم نے اٹھائی آواز ۔


جلگاؤں(عقیل خان بیاولی) راویر شہر کی مسلم اکثریتی بستیوں ناگجھیری، فتح نگر اور مولانا ابوالکلام آزاد نگر میں آج بھی کئ نئی پالیسیوں اور نۓ قوانین کے مطابق سرکاری آنگن واڑی مراکز قائم نہ ہونے پر مقامی شہریوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں میں چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو افسوسناک اور تشویشناک صورتحال ہے۔ اس اہم مسئلہ کی جانب حکام کی توجہ مبذول کرانے کے لیے اے آئی ایم آئی ایم راویر شاخ کی جانب سے ضلع جلگاؤں شمال کے بال وکاس پروجیکٹ آفیسر اور متعلقہ انتظامیہ کو ایک تفصیلی مکتوب پیش کیا گیا۔ وفد میں شیخ کامل شیخ رؤف (ناگجھیری)، مجاہد خان عثمان خان (مولانا ابوالکلام آزاد نگر) اور شیخ سلطان شیخ عیسیٰ (فتح نگر) شامل تھے۔
محضر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مسلم بستیوں میں اب تک ایک بھی مستقل سرکاری آنگن واڑی مرکز قائم نہیں کیا گیا۔ چند مقامات پر کرایہ کی عمارتوں میں عارضی طور پر خانگی مراکز چلائے جا رہے ہیں، مگر وہ بڑھتی آبادی کے اعتبار سے ناکافی ہیں۔ نتیجتاً خواتین اور بچوں کو دور دراز علاقوں کے مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے انہیں روزمرہ کئ طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‌ شہریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خواتین و اطفال بہبود اسکیموں کا مکمل فائدہ ان بستیوں کے عوام تک نہیں پہنچ پا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی حکومتی پالیسی کے تحت ضلع پریشد اور ضلع پلاننگ کمیٹی کے ذریعے ان علاقوں میں مستقل آنگن واڑی عمارتوں اور کھیل کے میدانوں کی فوری منظوری دی جائے۔ محضر میں انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ مطلوبہ علاقوں میں جلد از جلد مستقل آنگن واڑی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مقامی بچوں اور خواتین کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔

Comments