استاذ کے ادب و احترام سے متعلق قیمتی نصائح - از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں
استاذ کے ادب و احترام سے متعلق قیمتی نصائح.
از قلم : نورجہاں بانو بنت عبد العزیز خان طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں
استاذ کے ساتھ برتاؤ :
(١)امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت شیخ محمد یونس جونپوریؒ نے فرمایا کہ:”بچو!میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے استاذوں کے ساتھ بغض نہیں رکھنا چاہئے،اس بغض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ متعلم کا راستہ ہی بدل دیتے ہیں،اور وہ جوانی ہی میں تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٣)
استاذ سے لڑنا :
(٢)فرمایا کہ:”استاذ سے نہیں لڑنا چاہئے،استاذ سے لڑنا باپ سے لڑنا ہے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٤)
استاذ کی بے ادبی :
(٣)فرمایا کہ:”استاذ کی بے ادبی زہر کھانا ہے،اگر توبہ کر بھی لی تب بھی علم کی برکت نہیں آتی“۔(محدث عصر مولانا محمد یونس جونپوریؒ کی ہمہ جہت شخصیت علوم و خدمات کے آئینہ میں.حضرت الأستاذ حضرت شیخ یونس صاحبؒ ملفوظات کے آئینہ میں.مضمون نگار: مفتی محمد انور ہتھوڑوی،استاذ عربی و شعبہ تجوید دارالعلوم ہدایت الاسلام عالی پور.٨٥٩)
استاذ سے مقابلہ اچھا نہیں
(٤) امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت شیخ محمد یونس جونپوریؒ نے فرمایا کہ:”میں نے کسی استاذ کا مقابلہ نہیں کیا،مجھے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٥)
اساتذہ کی بات حتی الامکان لکھ لیں :
(٥)فرمایا کہ:”آدابِ تعلیم میں سے یہ بھی ہیکہ اساتذہ سے جو کچھ سنے حسبِ استعداد لکھ لے،بعض وقت جسے آپ ہلکی بات سمجھتے ہیں کام آتی ہے“۔
ایک مرتبہ فرمایا کہ:”جو بچے بات لکھ سکتے ہیں وہ اپنے اساتذہ کی باتیں لکھیں،بچو! قدر کرو!جب تم گھر چلے جاؤگے تو تمہیں یہ لکھی ہوئی باتیں کام دیں گی،بچو!اساتذہ کی بات نقل کرو! باتیں لکھ کر سوچی جاسکتی ہیں“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٦)
استاذ کا ادب :
(٦)فرمایا کہ:”میں کہتا ہوں کہ:”استاذ کے آنے کے بعد شور نہ کرو! باتیں نہ کرو!جس میں ادب نہیں اس کو کبھی علم نہیں آئیگا“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٨)
استاذ کی جانب رخ
(٧)فرمایا کہ:”میں پنکھے کی تلاش میں نہیں رہتا تھا،میں جدھر بیٹھتا تھا استاذ میری طرف رخ کرتے تھے؛اسلئے کہ استاذ پڑھنے والی کی طرف دیکھتے ہیں،کسی کے روپ اور کالا ہونے کو نہیں دیکھتے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٨)
استاذ کی ناراضی کا غم :
(٨) فرمایا کہ:”ہمارے استاذ نے فرمایا کہ:”تم سب کو کچھ نہیں آتا،بچو!اس وقت مجھے اتنا غم طاری ہوا کہ نہ کھانا اچھا لگتا تھا اور نہ پینا اچھا لگتا تھا“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٢٩)
اساتذہ کی سختی کا فائدہ :
(٩) فرمایا کہ:”اساتذہ کی سختی طلبہ کی عزت کا سبب بنتی ہے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٣١)
استاذ کی حمایت کرو! :
(١٠) فرمایا کہ بعض لوگ بیٹے کی حمایت کرتے ہیں،استاذ کی نہیں،استاذ کو اپنا بنانے کی ضرورت ہے،بیٹا تو اپنا ہی ہے،بچو! استاذ کا ادب کروگے تو وہ تمہارا خیال کریں گے
Comments
Post a Comment