رومانوی محبت سے سماجی شعور تک - (افسانچہ)۔ محمود علی لیکچرر۔


رومانوی محبت سے سماجی شعور تک - 
(افسانچہ)
محمود علی لیکچرر۔
8055402819

وہ ایک علم بشریات انتھروپولوجی کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے شام کو حسبِ معمول پارک کی بینچ پر بیٹھے پرانے گیت سن رہے تھے۔ اچانک موبائل پر فیض احمد فیض کی نظم شمیم آرا کی آواز میں "مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ" چل پڑی۔
ان کی آنکھوں کے سامنے برسوں پرانی ایک صورت ابھری۔ کالج کے دن لائبریری کی خاموشیاں چوری چوری ملنے والی نظریں اور دل میں بس ایک ہی خواہش کہ زندگی کا مرکز صرف وہی رہے۔
وقت گزرا محبت یاد بن گئی ملازمت گھر بچے اور پھر بڑھتی عمر
اسی دوران پارک کے باہر ایک بوڑھی عورت پھول بیچتی نظر آئی قریب ہی ایک نو عمر بچہ کتابوں کے بجائے چائے کے کپ اٹھائے پھر رہا تھا۔ انہوں نے جیب سے کچھ رقم نکالی مگر دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھی
اُنہیں محسوس ہوا کہ محبت صرف کسی ایک چہرے سے وابستگی کا نام نہیں محبت تو اس بچے کے مستقبل کی فکر بھی ہے اس بوڑھی عورت کی تھکن بھی اور معاشرے کے محروم لوگوں کے لیے دردِ دل بھی
انہوں نے موبائل بند کیا اور آسمان کی طرف دیکھا۔
اب محبوبہ کی یاد میں نمی تو تھی مگر اس نمی میں پورے معاشرے کا درد گھل چکا تھا۔
شاید یہی رومانوی محبت کا سماجی شعور میں ڈھل جانا تھا۔ محبت ختم نہیں ہوئی تھی، بس اس کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا۔
فیض احمد فیض کا فلسفۂ 
اور انکی شاعری میں محنت اور محبت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ فیض نے محبت کو صرف محبوب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانیت سماج اور مظلوم طبقوں کی محبت تک وسیع کر دی
فیض احمد فیض کی شاعری میں مزدور صرف پس منظر کا کردار نہیں بلکہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ان ہاتھوں کی عظمت کو پہچانتے ہیں جو زمین کو زرخیز بناتے کارخانے چلاتے اور شہروں کو آباد کرتے ہیں فیض کے نزدیک ایک مہذب معاشرہ وہی ہے جو اپنے محنت کشوں کو عزت مناسب اجرت اور بہتر زندگی فراہم کرے ان کی شاعری آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کی حقیقی بنیاد مزدور کے پسینے پر قائم ہوتی ہے اس لیے اس کی قدر و منزلت کو تسلیم کرنا ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے
فیض کا عشق جسمانی کشش سے آگے بڑھ کر روحانی اور انسانی محبت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اسی لیے ان کے ہاں "محبوب"، "جانِ جاں"، "جاناں"، "دلبر" اور "مری محبوب" جیسے الفاظ محض عشقیہ نہیں بلکہ انسانی حسن اور محبت کے وسیع تصور کی نمائندگی کرتے ہی
یہ افسانچہ فیض احمد فیض کے انسانی محبت اور سماجی شعور کے تصور سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔

Comments