ڈاکٹر فریدہ تبسم کی تصنیف "تنقیدی جہات و مطالعات تنقید و تجزیے کا روشن باب"۔ - واجد اختر صدیقی (گلبرگہ)
ڈاکٹر فریدہ تبسم کی تصنیف "تنقیدی جہات و مطالعات
تنقید و تجزیے کا روشن باب"۔ -
واجد اختر صدیقی (گلبرگہ)
9739501549
اردو ادب میں تنقید محض کسی تخلیق کے محاسن و معائب کی نشاندہی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فکری عمل ہے جو ادب کے باطن میں پوشیدہ فکری جہات کو آشکار کرتا ہے۔ ہر دور میں ایسے ناقدین سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے تخلیقی ادب کو نئی تعبیرات عطا کیں اور قاری کے ذہن و شعور کو تازہ زاویۂ نگاہ بخشا۔ عصرِ حاضر میں جب کہ ادبی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں سنجیدہ تنقیدی شعور رکھنے والی شخصیات کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر فریدہ تبسم کا شمار بھی انہی اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے مطالعے، مشاہدے اور فکری بصیرت کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی جانب گامزن ہیں۔
ڈاکٹر فریدہ تبسم شعبۂ اردو، جامعہ گلبرگہ میں بہ حیثیت گیسٹ فیکلٹی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ علم و ادب سے ان کا رشتہ گہرا ہے اور وہ افسانہ نگاری کے میدان میں بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ ان کا اولین افسانوی مجموعہ ’’روشنان‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا ہے۔ اس سے قبل ان کی ایک کتاب ’’نقشِ معنی‘‘ کے زیرِ عنوان شائع ہوئی ہے۔ پیش نظر کتاب ’’تنقیدی جہات و مطالعات‘‘ 2025ء میں شائع ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر فریدہ تبسم ایک محقق، نقاد اور تجزیہ نگار ہیں، جس کا ثبوت ان کی یہ علمی و ادبی کاوشیں ہیں۔
محترمہ سوشل میڈیا، فیس بک اور دیگر ادبی پلیٹ فارمز پر خاصی سرگرم نظر آتی ہیں۔ ان کی تخلیقات وہاں پیش ہوتی ہیں اور اہلِ ادب کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ یہ اہلِ گلبرگہ کے لیے باعثِ فخر بات ہے کہ گلبرگہ کی ایک صاحبِ قلم اردو کی دور دراز بستیوں میں اپنی شناخت مستحکم کر رہی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ گلبرگہ اور کرناٹک، جو ان کا اپنا خطہ ہے، یہاں کے ادبی منظرنامے میں انہیں وہ مقام اور پذیرائی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی جس کی وہ مستحق ہیں۔ تاہم ان تمام اسباب سے قطعِ نظر میرے پیشِ نظر ان کی بہترین تنقیدی کتاب ’’تنقیدی جہات و مطالعات‘‘ ہے۔
بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ فریدہ تبسم نے چند منتخب کتابوں پر تبصرے تحریر کیے ہیں اور تبصروں کی اس کتاب پر تبصرہ لکھنا پہلے پہل مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ لیکن جب میں نے اس کتاب کے متن میں جھانکنے کی کوشش کی تو دل کو ایک عجیب تسکین کا احساس ہوا اور ذہن کے دریچے وا ہوگئے۔ فریدہ تبسم نے ان مضامین میں تنقید کے کئی گل بوٹے کھلائے ہیں۔ جوں جوں میں اس تنقیدی سفر کا مسافر بنتا گیا، طویل سفر بھی مختصر محسوس ہونے لگا۔ یقیناً ان مضامین کے مطالعے کے بعد اس حقیقت کا ادراک دشوار نہیں رہتا کہ محترمہ کا مطالعہ وسیع، مشاہدہ گہرا اور الفاظ و جملوں پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔
اس کتاب میں جملہ سترہ مضامین شامل ہیں۔ میں انہیں محض تبصرے نہیں کہوں گا، کیونکہ ان میں تنقیدی شعور کی ایک بھرپور فضا موجود ہے۔ یہ مضامین ایسے قلمکاروں کی کتابوں پر لکھے گئے ہیں جن میں سے اکثر کی شناخت ملکی سطح پر قائم ہے اور جن کا تعلق ہندوستان کی مختلف ادبی بستیوں سے ہے۔ چند اہم نام یہ ہیں:1۔ سید محمد اشرف (نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں)، 2۔ غضنفر علی (دیکھ لی دنیا ہم نے: ایک جائزہ)، 3۔ خالد جاوید (خالد جاوید کی افسانوی جہت اور آخری دعوت: تجزیہ)، 4۔ سلام بن رزاق (ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں۔۔۔ سلام بن رزاق کی افسانہ نگاری)، 5۔ بیگ احساس (دخمہ: ایک تجزیاتی مطالعہ)، 6۔ راجہ یوسف کشمیر (نقشِ فریادی: تجزیاتی مطالعہ)، 7۔ شموئل احمد (کلیسہ مرے آگے: ایک جائزہ)
ان ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ فریدہ تبسم کے علمی و ادبی مراسم ملک کے مختلف گوشوں میں پھیلے ہوئے کہنہ مشق شعرا و ادبا سے ہیں۔
ڈاکٹر فریدہ تبسم نے اپنے پیش لفظ میں لکھا ہے:
"اس کتاب کے مضامین کے معاصر تنقیدی تناظر میں اس کا عنوان ’تنقیدی جہات و مطالعات‘ تجویز کیا گیا ہے، جس میں منتخب کتابوں پر لکھے گئے تبصرے، تجزیے اور تنقیدی زاویے شامل ہیں، جسے مصنفین، ناقدین اور اہلِ ادب حضرات نے ادبی فورمز، بزمِ اردو، مجالس اور سوشل میڈیا پر تعریف و توصیف کے ساتھ پسند فرمایا ہے۔ اسی لیے اس کے معیار کو بلند کرنے کے لیے میں نے حتی الامکان کوشش ضرور کی ہے اور تنقیدی اصولوں کے دائرۂ کار میں ان کتابوں کا مطالعہ کرکے تنقیدی مضامین پیش کیے ہیں۔"
فریدہ تبسم چونکہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور اردو ادب کو اعلیٰ سطح پر پڑھا بھی رہی ہیں، اس لیے تنقیدی باریکیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ خود بھی ریسرچ اسکالر رہ چکی ہیں اس لیے تنقیدی شعور کو برتنے کا ہنر جانتی ہیں اور تخلیقی قوت سے بھی مالا مال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تنقیدی شعور منظم اور سائنٹفک انداز کا حامل ہے۔ وہ کسی بھی بات کو رد یا قبول کرتی ہیں تو اس کا اظہار مدلل اور معروضی بنیادوں پر کرتی ہیں۔
جناب سید تحسین گیلانی، مدیر ’’انہماک‘‘ نے بجا طور پر لکھا ہے:
"ڈاکٹر فریدہ تبسم کی تنقیدی بصیرت ایک ایسے فکری نظام کی مظہر ہے جو روایت اور جدید کے باہمی مکالمے سے جنم لیتا ہے۔ ان کے مضامین محض متن کی تشریح یا فنی محاسن کی نشاندہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ متن کے باطن میں کارفرما فکری, سماجی اور تہذیبی ساختوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔"
اس اقتباس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ فریدہ تبسم صرف متن کی تشریح نہیں کرتیں بلکہ اس مقام پر ایک نیا جہان آباد کرتی ہیں۔ وہ قلمکار اور فن کے درمیان ایک ایسا ربط پیدا کرتی ہیں جس سے تخلیق کے پوشیدہ پہلو اور شعوری و فکری کیفیات بھی سامنے آجاتی ہیں۔
کینڈا کے جناب صالح اچھا، یوں رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر فریدہ نے سید محمد اشرف کے افسانوں پر جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ بذاتِ خود تنقیدی شعور کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ افسانوں کی فنی ساخت میں نیم علامتوں اور تمثیل کے پیوست ہونے کا ذکر، ساکت فکریات کو متحرک کرنے کا ہنر، اور کرداروں کے عمل دخل کے پسِ حجاب معاشرے کو پیغام دینا، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب میں شامل مقالات محض ستائش یا مذمت پر مبنی نہیں بلکہ تجزیاتی اور فکری بنیادوں پر قائم ہیں۔"
محترم صالح اچھا کی اس رائے کے مطابق ڈاکٹر فریدہ تبسم نے کسی بھی تخلیق پر اظہارِ خیال سے قبل نہ صرف اس کا گہرا مطالعہ کیا ہے، بلکہ تخلیقات کے فنی محاسن کو اس طرح تلاش کیا ہے جیسے غواص سمندر کی تہہ میں اتر کر موتی تلاش کرتا ہے۔ پھر ان موتیوں کو نئی معنویت اور نئے زاویۂ نظر کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔
جہاں تک ان کی زبان و بیان کا تعلق ہے تو فصاحت و بلاغت کی خوشبو ان کی تحریروں سے پھوٹتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ دخترِ گلبرگہ ہیں اور تہذیبِ حیدرآباد سے بھی فیض یاب ہوئی ہیں۔ ان کی شخصیت میں جو رکھ رکھاؤ اور شائستگی دکھائی دیتی ہے، وہی وصف ان کی تحریروں میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
’’نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
"معیاری تخلیقات اپنے بطن میں چھپے گوشوں کو ایسے منکشف کرتی ہیں کہ گویا دھیرے دھیرے صدف سے موتی جھانک رہا ہو اور اپنی چمک سے ان آنکھوں کو منور کر رہا ہو جن میں بصیرت کا نور ہو۔ تمثیل و علامات کے دائرۂ کار میں خوابیدہ تخلیقی ذہن کو بیدار کرکے داخلی کائنات مشامِ جاں کو معطر کر رہی ہو۔"
ان جملوں پر غور کیجیے، الفاظ کی بندش اور معنوی لطافت کا مشاہدہ کیجیے۔ ان میں ایک خاص سرور اور جمالیاتی کشش موجود ہے۔
’’دیکھ لی دنیا ہم نے‘‘ (غضنفر علی) سے یہ اقتباس دیکھیے:
"غضنفر صاحب کے قلم کی سحر انگیزی حقیقت کو فسانہ اور فسانے کو حقیقت بنا کر قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ شاعرانہ جمال سے مزین نثر داستانی فسوں خیزی لیے اپنا تاثر خلق کرتی ہے جس میں افسانے کا فسوں بھی ہے اور ناول کی رواں بیانی بھی۔"
’’ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں‘‘ سلام بن رزاق کی افسانہ نگاری سے یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیے:
"سلام بن رزاق کی کہانیاں خود کو پڑھوا لیتی ہیں اور قاری کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ کہانی بھی ایسی کہ سارا منظر نظروں کے سامنے ایک کے بعد دیگرے آ موجود ہوتا ہے۔ کبھی کہانی خودکلامی میں، کبھی ڈرامائی کیفیت میں، کبھی داستانوی انداز میں اور کبھی تجریدی پیرائے میں سامنے آتی ہے۔ ان کی تجریدی و علامتی کہانیوں میں حیرت انگیز اسرار و رموز پائے جاتے ہیں جو اساطیری طرزِ احساس کا پتہ دیتے ہیں۔ کبھی سادہ بیانیہ اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ اس سادگی پر پیار آتا ہے۔"
بہرحال، ڈاکٹر فریدہ تبسم کی تحریروں میں چاشنی، دلآویزی اور جمالیاتی کشش کے ساتھ ساتھ معلوماتی اور حتمی رائے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے، جو ان کی فکری خوداعتمادی کی دلیل ہے۔ یہی وصف کسی بھی قلمکار کو معیار عطا کرتا ہے اور اس کے اسلوب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسلوبِ نگارش ہی وہ عنصر ہے جو کسی قلمکار کو اختصاص بخشتا ہے۔
میری رائے میں فریدہ تبسم نے تنقید کے میدان میں اپنا ایک الگ راستہ بنایا ہے، اور یہ راستہ روشن، متوازن اور وقار سے مزین ہے۔ ان کی تحریریں قاری کو محض معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور ادب کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔
208 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ایم ایم پبلیکیشنز، دہلی نے نہایت خوبصورتی اور اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔ باذوق قارئین، طلبۂ ادب، محققین اور تنقید سے دلچپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب یقیناً مطالعے کے قابل اور ذہنی آسودگی کا سامان فراہم کرنے والی تصنیف ثابت ہوگی۔ اردو تنقید کے سنجیدہ قاری کے لیے ’’تنقیدی جہات و مطالعات‘‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ معاصر تنقیدی شعور کے مختلف زاویوں کو سمجھنے کا ایک معتبر حوالہ ہے۔
Comments
Post a Comment