دہرادون میں ادب کی شاندار محفل سجی، آل انڈیا مشاعرے میں شعر و سخن کا جادو سر چڑھ کر بولا۔
دہرادون، 6 جون۔ بزمِ آزر، دہرادون کے زیرِ اہتمام آج سپر مون پبلک اسکول، ٹرنر روڈ، دہرادون میں ایک عظیم الشان آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے تشریف لائے نامور اور ممتاز شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو رات گئے تک مسحور کیے رکھا۔ ادب، تہذیب، محبت، انسان دوستی اور سماجی شعور سے بھرپور اس یادگار مشاعرے نے دہرادون کی ادبی روایت میں ایک نئے روشن باب کا اضافہ کر دیا۔
مشاعرے کی صدارت معروف شاعر جناب عرفان اعظمی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض جناب انصار صدیقی کیرانوی نے اپنے دلنشیں اور شگفتہ انداز میں انجام دیے۔ پروگرام کے اختتام پر بزمِ آزر کے بانی جناب اقبال آزر نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔
مشاعرے کا آغاز سینئر شاعر سہیل آزاد کے اس خوبصورت شعر سے ہوا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا:
"کیسے کہوں کہ رات بلا کی طویل ہے
کس سے کہوں کہ نیند نہیں آ رہی مجھے"
ڈاکٹر شاکر حسین اصلاحی نے اپنے منفرد لہجے میں یہ شعر پیش کیا:
"تیرے خیال کی دہلیز پر کہیں رکھ کر
میں اپنے آپ کو ہر روز بھول جاتا ہوں"
دہرادون کی معروف شاعرہ مونیکا منتشا نے محبت اور اخوت کا پیغام دیتے ہوئے کہا:
"محبت رب کی نعمت ہے، محبت دھرم ہے اپنا
ہمیں نفرت نہیں آتی، سو نفرت ہم نہیں کرتے"
ڈاکٹر منور تابش سنبھلی نے زندگی کے نشیب و فراز کو یوں بیان کیا:
"بدلی فضا تو خود کو بدلنا پڑا مجھے
جب بجھ گئے چراغ تو جلنا پڑا مجھے"
ممبئی سے تشریف لائے نظام نوشاہی نے اپنے انقلابی لہجے سے خوب داد سمیٹی:
"جب اٹھی شمشیرِ ظالم ظلم ڈھانے کے لیے
جوش پر آئی محبت سر کٹانے کے لیے"
پروین شغف نے کہا:
"زندگی! کھیل بہت خوب ہیں تیرے لیکن
دل کو کچھ دیر نیا خواب دکھایا جائے"
اقبال ادیب کاشپوری کا یہ شعر سامعین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا:
"ٹوٹنا میرے مقدر میں لکھا تھا ورنہ
ایک دو چوٹ سے پتھر نہیں ٹوٹا کرتے"
جاوید قسیم نے پڑھا:
"پھر اس کے بعد میرے غم کو نیند آئے گی
ستارے ٹوٹیں گے کچھ آسمان سے پہلے"
ڈاکٹر انس ایقان نے اپنے مؤثر انداز میں کہا:
"مجھے غموں کے بھروسے پہ چھوڑتے ہوئے تم
تمہیں خدا کے بھروسے پہ چھوڑتا ہوا میں"
صدرِ مشاعرہ عرفان اعظمی نے اپنا یہ شعر پیش کر کے داد حاصل کی:
"سنو اک بات کہنا چاہتا ہوں
میں اب خاموش رہنا چاہتا ہوں"
بدرالدین ضیا نے سچائی کے راستے کی دشواریوں کو یوں بیان کیا:
"اپنے تلووں پر یہ خود ہی شعلے ملنے جیسا ہے
سچائی کی راہ پہ چلنا آگ پہ چلنے جیسا ہے"
سنیل ساحل نے کہا:
"آئینہ بھی تو بہرحال اسی تاک میں ہے
عکس کس کا یہ مرے دیدۂ نمناک میں ہے"
شاداب مشہدی نے اپنا یہ شعر سنایا:
"ان کو خبر نہیں، وہ ہیں رعنائیوں کے بیچ
تنہا ہوں آج بھی میں شناسائیوں کے بیچ"
بزمِ آزر کے بانی اقبال آزر نے اپنا یہ فکر انگیز شعر پیش کیا:
"انہی سے پوچھو عروج و زوال کے قصے
جو زیر زیر ہوئے ہیں زبر زبر چل کر"
اے۔ ایم۔ امتیاز نے کہا:
"بھلے ہی دیر سے آیا ہے لیکن
سمجھ میں یہ زمانہ آ گیا ہے"
ناظمِ مشاعرہ انصار صدیقی کیرانوی نے اپنے کلام سے محفل کو نئی رفعت بخشی:
"دل میں طوفاں سے اٹھتے ہیں سمندر کی طرح
جب بھی آتے ہیں خیالوں میں وہ منظر کی طرح"
اور
"اشک آوارہ و گستاخ تھے جو بہہ نکلے
ورنہ آنکھوں میں تو وسعت تھی سمندر کی طرح"
ندیم انور نے رشتوں کی حقیقت کو یوں آشکار کیا:
"رشتوں کی دھوپ چھاؤں نے وہ دن دکھائے ہیں
جن کو گلے لگایا وہی منہ چھپائے ہیں"
امبیکا روحی نے اپنے منفرد انداز میں کہا:
"کیسی لگی ہے یہ نظریں، سازشیں ہیں کس کی
خطرے میں ہے یہ اپنا گھر، تم ساتھ آ جاؤ"
اس موقع پر بزمِ آزر کے بانی جناب اقبال آزر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مشاعرہ محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے اور نئی نسل کو اردو ادب و شاعری سے روشناس کرانے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کاوش ہے۔ انہوں نے تمام شعراء، مہمانانِ گرامی، سامعین، معاونین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
صدرِ مشاعرہ جناب عرفان اعظمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شاعری معاشرے کی روح ہے اور ایسے ادبی اجتماعات تہذیبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور انسانی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بزمِ آزر کو اس کامیاب اور معیاری مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہرادون کی سرزمین پر اس معیار کا مشاعرہ پورے اتراکھنڈ کے لیے باعثِ فخر ہے۔
مشاعرے میں ادب دوست حضرات، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور شہر کی ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ رات گئے تک جاری رہنے والی اس یادگار محفل میں ہر شاعر کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا گیا اور پورا ماحول شعر و ادب کی خوشبو سے معطر رہا
Comments
Post a Comment