کربلا کا سب سے بڑا پیغام: نماز۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


کربلا کا سب سے بڑا پیغام: نماز۔ 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس میں قربانی، صبر، استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے کی بے مثال مثالیں موجود ہیں۔ اگر کربلا کے میدان سے ملنے والے عظیم ترین پیغامات میں سے کسی ایک پیغام کو نمایاں کیا جائے تو وہ "نماز کی اہمیت" ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے رفقاء کی قربانی دے دی، لیکن نماز کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا۔ میدانِ کربلا میں جب جنگ اپنے عروج پر تھی، تلواریں چل رہی تھیں، نیزے برس رہے تھے اور ہر طرف موت کا سماں تھا، تب بھی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عصر کی نماز کی فکر تھی۔ جب نماز کا وقت ہوا تو آپ نے نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر فرمائی۔ یہ منظر پوری امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتا ہے کہ جو عبادت میدانِ جنگ میں بھی معاف نہیں، اسے امن و سکون، کاروبار، مصروفیات اور دنیاوی مشاغل کی وجہ سے کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہم محرم کے نام پر بہت سی ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جن کا دین کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ڈھول، تاشے، شور و غل اور مختلف رسم و رواج تو نظر آتے ہیں، لیکن نمازوں کی پابندی، قرآن کی تلاوت، ذکر و دعا اور اصلاحِ نفس پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات اذان کی آواز بلند ہو رہی ہوتی ہے، نماز کا وقت ہو چکا ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود ڈھول تاشوں کی آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیغام کو سمجھ رہے ہیں؟
اگر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت ہمارے دلوں میں ہے تو اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی سیرت اور ان کے پیغام پر عمل کریں۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں یہ درس دیا کہ نماز دین کا ستون ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی سب سے مضبوط کڑی ہے۔ جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے۔
محرم کا مہینہ ہمیں یہ دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی نمازوں کی فکر کریں، اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کریں اور کربلا کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جس نماز کی خاطر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میدانِ جنگ میں بھی غفلت نہ کی، کیا ہم اس نماز کی حفاظت کر رہے ہیں؟
کربلا ہمیں رلانے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے آئی ہے۔ کربلا کا پیغام صرف ماتم نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی، اقامتِ نماز، حق پر استقامت اور دین کے لیے قربانی کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے، نمازوں کی پابندی کرنے اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments